آن لائن تعلیم اور دیہاتی شائقین علم

تحریر : مولانا محمدجہان یعقوب

موجودہ ہنگامی صورت حال میں اتحادتنظیماتِ مدارسِ دینیہ اوروفاقہائے مدارس کوآن لائن نظامِ تعلیم کومتبادل کے طورپراختیارکرناچاہیے۔اس سلسلے میں عملی نمونے کے طورپروفاق المدارس کے سابق راہ نماسینئرعالم دین وماہرتعلیم مولاناڈاکٹرمفتی ولی خان المظفرکی قائم کردہ عربک اوپن یونی ورسٹی کاتذکرہ کیاتھاکہ ان کے نظام سے استفادہ کرکے آن لائن طریقہ تدریس کے رائج کرنے میں درپیش مشکلات سے نمٹاجاسکتاہے۔

وہ تقریباً دس سال سے اِس آن لائن یونی ورسٹی کے ذریعے مکمل درس نظامی،مکمل عربی بول چال اورتفسیرقرآن کاتین سالہ کورس کرارہے ہیں۔ان کی ٹیم میں معلمین کے ساتھ ساتھ معلمات بھی شامل ہیں۔ان کایہ نظم بڑی کامیابی سے جاری ہے۔وہ اپنے تجربات شیئرکرنے اورہرممکن راہ نمائی کے لیے بھی تیارہیں۔

اس حوالے سے ایک سوال اکثراحباب نے پُوچھاہے کہ مدارس میں پڑھنے والے طلبہ وطالبات کی ایک بڑی تعدادکاتعلق گاؤں دیہات سے ہوتاہے،جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دست یاب نہیں اورنہ ہی ٹچ موبائل کااستعمال عام ہے۔اگربالخصوص کراچی،لاہور،راولپنڈی،پشاورجیسے بڑے شہروں کے جامعات ومدارس آن لائن طریقہ تدریس کواختیارکرتے ہیں توگاؤں دیہات سے تعلق رکھنے والی شائقین علوم دینیہ کی اِس بڑی تعدادکاکیابنے گا؟

سوال جان دارہے۔اس سلسلے میں سرِدست جوبات ذہن میں آرہی ہے وہ یہ ہے کہ آن لائن طریقہ تدریس ایک عارضی حل ہے جوکوروناکی وبائی صورت حال کے پیشِ نظر بروئے کارلایاجارہاہےتاکہ دینی تعلیم کاسلسلہ بالکلیہ رُک نہ جائے ورنہ کوشش تویہی کی جارہی ہے کہ حسبِ سابق مدارس کی رونقیں بحال ہوسکیں۔

اِس ہنگامی صورت حال میں گاؤں دیہات کے یہ شائقینِ علم اپنے علاقوں میں قائم مدارس کے ذریعے اگرممکن ہو،تعلیم کاسلسلہ جاری رکھیں؛کیونکہ وہاں کے مدارس کوانتظامی اورمالی ہردواعتبارسےبہرحال اُن حالات کاسامنانہیں جوبڑے شہروں میں قائم مدارس کوہے۔جب حالات سازگارہوجائیں تویہ شائقینِ علم شہروں کی طرف رُخ کرکے مشہورمدارس کی معروف شخصیات سے کسبِ فیض کرسکتے ہیں۔
آپ کی کیارائے ہے؟ضروربتائیے گا۔
رہے نام اللّٰہ کا
حیات باقی۔۔۔ملاقات باقی

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *