دیار خلافت کا سفر شوق (قسط نمبر 47 )

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

اسکی شہر بھی تاریخی اہمیت کا حامل علاقہ ہے، تواریخ ترکی میں اِسکی شہر کا بھی متعدد حوالوں سے ذکر آتا ہے، جس کا یہاں موقع نہیں ہے۔ قرہ حصار بھی ایسا ہی ایک معروف تاریخی نام ہے۔ حصار ترک زبان میں قلعے کو کہتے ہیں، جیسے پشاور شہر میں تاریخی بالا حصار واقع ہے۔ پشاور کا “قلعہ بالا حصار” دنیا کی قدیم ترین انسانی تعمیرات میں سے ہے،

شنید ہے کہ یہ اسلام کی بعثت سے بھی قبل کی تعمیر ہے اور یہ اس تمام عرصے میں کئی سلطنتوں کا مرکز حکومت اور پایہ تخت رہا ہے۔ ایک روایت کے مطابق ایک چینی سیاح چھٹی صدی عیسوی میں بھی اس کے وجود کا حوالہ دے چکے ہیں۔ پشاور کے ماتھے کا جھومر تاریخی “قلعہ بالا حصار” آج بھی پوری شان و شوکت سے موجود ہے اور آج یہاں فرنٹیئر کانسٹیبلری کا ہیڈ کوارٹر ہے، جس کی وجہ سے اس تاریخی قلعے کی حفاظت اور دیکھ بھال فوجی نظم و ڈسپلن کے مطابق بہت اچھے انداز میں ہو رہی ہے، تاہم اس خوبی کے ساتھ اتنی سی بات ذرا اچھی نہیں ہے کہ یہ قلعہ اب عوامی داخلے کیلئے اوپن نہیں ہے۔

فورسز کی تحویل اور استعمال میں آنے کی وجہ سے اس کی شان قائم رہنے کا یہ فائدہ بہر حال اس قدر زیادہ ہے کہ عوام کیلئے بند ہونے کا “نقصان” بخوشی قبول کیا جا سکتا ہے، ورنہ ہم جانتے اور دیکھتے ہیں کہ محکمہ آثار قدیمہ کے ما تحت وطن عزیز کے تاریخی مقامات کس زبوں و خستہ حالی سے دوچار ہیں۔

بات ترکی کے صوبہ قرہ حصار سے اڑ کر پشاور کے بالا حصار تک جا پہنچی۔ قرہ ترکی میں کالے کو کہتے ہیں، ہو سکتا ہے اس کے معنی کالا قلعہ ہو اور اس کی بھی کوئی خاص وجہ ہو سکتی ہے جو اس وقت ہمارے علم میں نہیں ہے۔ قرہ کی اضافت کے ساتھ کئی اور مقامات بھی ہیں، جیسے آزر بائیجان کا معروف علاقہ قرہ باغ جو آرمینیا کے قبضے میں تھا، یہ آزر بائیجان کا مقبوضہ کشمیر تھا گویا، مگر چند ماہ قبل آزر بائیجان نے کمال جرات و بہادری کا مظاہرہ کرکے فوجی طاقت کے ذریعے اپنا یہ تاریخی حصہ آرمینیا کے قبضے سے آزاد کرایا جو ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

بات اب قرہ سے قرہ باغ آزر بائیجان کی سرسبز و شاداب وادیوں میں جا پہنچی ہے، اس سے پہلے کہ ہم آزر بائیجان سے آگے نکل کر کوہ قاف کی مسحور کن وادیوں میں کھو جائیں، قرہ باغ سے واپس سوغوت سے قونیہ جانے والی شاہراہ پر واپس آتے ہیں، جس پر ہماری بس فراٹے بھرتے ہوئے منزل کی جانب جادہ پیما ہے۔

جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *