نیا بورڈ اور سیاسی صورت حال

تحریر: عبد المنعم فائز

بعض دوست بار بار یہ سوال دہرا رہے ہیں کہ جامعۃ الرشید کے نظام تعلیم سے ہم سوفیصد متفق ہیں مگر بورڈ لینے کے لیے جس وقت کا انتخاب کیا گیا وہ نامناسب ہے؟ یہ بورڈ سرکاری سرپرستی میں بنا ہے؟ اس بورڈ کی ٹائمنگ، طریقہ کار اور پس منظر پر تحفظات ہیں۔

کسی بھی مسئلے کے سیاسی پہلو پر بحث سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہمارے پاس معلومات کا ذریعہ کیا ہے؟ کسی بھی سیاسی مسئلے کو ایک رخ سے دیکھنے سے مسئلے کے تمام پہلو سامنے نہیں آتے۔ ظاہر ہے حکومتوں کی بھی اپنی ترجیحات اور پسند ناپسند ہوتی ہیں، جن پر کسی تعلیمی نظام کا مدار نہیں رکھا جاسکتا۔ اس لیے سب سے پہلے اس بات کا تعین ہی ناممکن ہے کہ کس حکومت سے بورڈ لینا درست ہے اور کس سے بورڈ لینا ناجائز۔ صدرضیاء الحق سے لے کر وزیراعظم عمران خان تک مجھے تو ایک نام بھی ایسا نہیں ملتا، جس سے بورڈ لینے پر تنازع نہ کھڑا ہو۔

پھر یہ بات کہنا کہ کورونا کے مسئلے پر اتحاد تنظیمات مدارس اور حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے، جس کی وجہ سے اتحاد تنظیمات کی قوت کو توڑنے کے لیے حکومت نے نئے بورڈ بنائے، یہ بات اپنی سمجھ سے تو بالاتر ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بات ہی درست معلوم نہیں ہوتی کہ کورونا ایس او پیز کی وجہ سے حکومت اور اتحاد تنظیمات کے تعلقات کشیدہ تھے؟ اگر کوئی اختلاف تھا بھی تو اتنا شدید ہرگز نہیں تھا کہ حکومت نئے بورڈ بنانے پر آمادہ ہوجاتی۔

مزید پڑھیں: حکومتی ادارے، وفاق المدارس اور نیا بورڈ – کچھ تفصیل و توضیح

اگر ایک منٹ کو فرض بھی کرلیں کہ حکومت نے اتحاد تنظیمات کی قوت توڑنے کے لیے یہ اقدام کیا ہے تو اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ بورڈ صرف اس لیے غلط قرار دیا جائے گا کہ حکومت کی نیت خراب تھی؟ اگر اس فیصلے میں جامعۃ الرشید کی دیرینہ مشکلات کا حل موجود تھا تو کیا ہمیں یہ بورڈ صرف اس لیے نہیں لینا چاہیے تھا کہ حکومت کی نیت درست نہ تھی؟ جب جامعۃ الرشید ایک عرصے سے بورڈ کے لیے کوشاں تھا تو اب اسے صرف ٹائمنگ غلط ہونے کی وجہ سے یہ کوشش ترک کردینی چاہیے تھی؟

پھر آپ کو تبصرہ کرنے سے پہلے جامعۃ الرشید کی ماضی کی پالیسیز کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ کیا جامعۃ الرشید نے آج تک کوئی ایک اقدام بھی کسی کے مجبور کرنے یا حکومتی آشیر باد حاصل کرنے کے لیے کیا ہے؟ ضرب مومن کا اجراء، صفہ سیویئر اسکول کا قیام، روزنامہ اسلام کا اجراء، بچوں اور خواتین کا اسلام کا اجراء، جامعۃ الرشید کا قیام، جے ٹی آر میڈیا ہاوس کا قیام وغیرہ وغیرہ کون سا ایسا اقدام ہے جو حکومتوں کے ناجائز مقاصد پورے کرنے کے لیے کیا گیا؟

الحمدللہ جامعۃ الرشید ایک شورائیت پر یقین رکھنے والا ادارہ ہے، جس کے تمام تر فیصلے اس کی شوری، مسئولین وغیرہ کے مشورے سے طے پاتے۔ جامعۃ الرشید کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ تعلیمی نظام اور اصلاحی اقدامات سے متعلق تمام فیصلے ہماری کوشش، محنت اور لگن کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔

مزید پڑھیں: وفاق المدارس کی وحدت کیوں توڑی ؟

جیسے آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ حکومت نے ہم سے بورڈ بنوایا ہے تو ہمارے خیال میں تو ہم نے اپنی محنت، کوشش اور لگن سے یہ بورڈ حکومت سے بنوایا ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگوں کو یہ ناممکن کیوں لگتا ہے؟ بہت سے لوگوں نے یہ طے کررکھا ہے کہ دنیا میں ہر کام یہودی، عیسائی، ایجنسیاں اور حکومتیں ہی کرتی ہیں، دیندار طبقے کوئی کام نہیں کرسکتے۔

حالانکہ جامعۃ الرشید کے مسئلے میں یہ تمام مفروضے بالکل غلط ہیں۔ شاید یہاں پر بات نیتوں اور ارادوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اللہ تعالی نیتوں کے احوال بہتر جانتا ہے۔ دنیا میں جس طرح یہ ناممکن ہے کہ ہم کسی کو اپنا دل کھول کر دکھادیں، ایسے ہی یہ بھی ممکن نہیں کہ کوئی ہمارے دل میں جھانک کر دیکھ لے۔ اگر سیاسی صورتحال مشتبہ ہے تب بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ جامعۃ الرشید تعلیمی میدان میں ایک جانا، پہچانا اور مان ہوا نام ہے، یہ تعلیمی ادارہ سالہا سال سے اپنا ٹریک ریکارڈ رکھتا ہے،

اس تعلیمی نظام نے ملک کے لیے اہل، باصلاحیت اور قابل قیادت تیار کی ہے، آئندہ بھی یہی ہوگا، ان شاء اللہ۔ یہ کوششیں بار آور ہوں گی، ملک کے دیرینہ مشکلات کا حل نکلے گا۔ ان شاء اللہ۔ تعلیمی بورڈ لینا کوئی گناہ کا کام نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ ایک اجتہادی رائے ہوسکتی ہے، جس میں لینے اور نہ لینے والے برابر کی سطح پر موجود ہیں۔ اس بنیاد پر طنز، تشنیع، الزام و دشنام تو ویسے ہی جائز نہیں۔

حافظ وظیفہ تو دعاگفتن است و بس
دربند آں مباش کہ نشنید یا شنید

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *