باقاعدہ کسی نکاح کی آخر ضرورت ہی کیا ہے ؟

نکاح کی مبارکباد

تحریر: استاذ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

یہ ایک دلچسپ سوال ہے اور ہم اسی پر مختصراً بات کریں گے۔

“نکاح” بنیادی طور پر مذہب سے منسوب ہے اور “سوشل کنٹریکٹ” وغیرہ کہلائے جانے کے باوجود اس کی تقاریب کی غالب اکثریت مذہبی رنگ ڈھنگ لیے ہوتی ہے۔ اب مذہب، بالخصوص الہامی مذاہب، بشمول اسلام، اسکے متعلق کیا فلسفہ رکھتے ہیں، اس پر میں بعد میں آتا ہوں ۔۔۔ پہلے ہم معاشرت کی سطح پر نکاح کو دیکھتے ہی

آپ کتنے بھی آزاد منش کیوں نہ ہو، آپ بغیر شادی کیے سالہا سال ڈے رہ رہے ہوں، بچے پیدا کرچکے ہویں زندگی کا پورا لطف لیں اور بظاہر سب کچھ قریب آئیڈیل دِکھتا ہو، تاہم جونہی آپ کہیں کہ آپ نکاح کرنے جا رہے ہیں تو ہر ایک آپ کو اس بات کی مبارکباد دے گا کہ بالآخر آپ نے اپنے اس تعلق کو اگلے مرحلے، یعنی۔”نیکسٹ لیول” تک کے جارہے ہیں،اپنی پسندیدگی اسے ایک منطقی انجام تک پہنچا دیا۔ گویا تمامتر ظاہری تعلق ، بچوں وغیرہ کے باوجود آپ کے تعلق میں ایک کمی تھی، جو اب آپ نے پوری کر دی۔

مزید پڑھیں: نکاح کی مبارک باد دینے کا سنت طریقہ

مذہب نکاح کو شرف انسانی سے جوڑتا ہے اور جیسا کہ قرآن میں بھی مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو “سسرالی رشتوں” والا بنایا۔ یعنی دیگر تمام حیوانات سے ہٹ کر مذکر اور مؤنث کے اس خالص جبلی تعلق کو بھی ایک تکریم بخشی اور اس نکاح کی وساطت سے دو خاندانوں کو آپس میں ملا دیا رشتہ داریاں قائم ہوئیں اور باہم عزت و تواضع کا رشتہ قائم ہؤا۔

نکاح نہیں تو ساری عمر بھی اکٹھے رہیں ساس سسر اور دیگر نسبتی رشتے واقع نہیں ہوتے۔ نسبتیں صرف نکاح سے مشروط ہیں۔ وہ خوشی امریکہ و یورپ ہو یا افریقہ و لاطینی ممالک یہ اصول ہر جگہ اسی طرح لاگو ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم اعظم نے ابھی چند روز پہلے چرچ میں شادی کی تو وزیراعظم کی گرل فرینڈ کہلانے والی خاتون اچانک سے برطانیہ کی فرسٹ لیڈی بن گئی۔ اسکی عزت میں تو شاید کوئی فرق نہیں آیا لیکن اس کی تکریم کئی گنا بڑھ گئی۔

دونوں جانب سے بننے والے سسرالی رشتے، اگلی نسل یعنی بچوں کے لیے ایک مضبوط سپورٹ کا کام بھی کرتے ہیں۔ ماں باپ کی موجودگی یا دونوں میں سے کسی ایک کے نہ ہونے کی صورت بچے بے یار و مددگار نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں: حضور نبی کریم ﷺ نے متعدد نکاح کیوں کیئے ؟

بلاشبہ نکاح کی صورت ذمہ داریوں میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ ہر حلال کام کا بنیادی جزو ہے۔ تجارت کریں گے تو منافع کے امکان کے ساتھ خسارے کا اندیشہ بھی موجود رہے گا۔ اسی طرح نکاح میں ذہنی سکون اور جسمانی تسکین کے ساتھ نفسیاتی دباؤ یا طبیعتوں کا ٹکراؤ بھی ہمرکاب رہتے ہیں۔ لیکن یہ سب نکاح کو کمتر آپشن نہیں بناتے۔ نکاح کے دیگر متبادل نہ تو نکاح کو زائد المعیاد بناتے ہیں اور نہ ہی متروک۔ اس کا اپنا پیراڈائم ہے جو سب سے مختلف بھی ہے اور اپنی اساس میں زیادہ ثمر آور بھی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *