مدرسین، ائمہ کی قلت تنخواہ کا موجودہ فرسودہ نظام ہمارے اکابر کا نہیں

نماز

تحریر : نور احمد نندوانی


مدارس و مساجد میں مدرسین اور ائمہ کی قلت تنخواہ کا موجودہ فرسودہ نظام ہرگز ھمارے اکابر کا نہیں؛ بلکہ موجودہ مہتممین اور متولیین کا تھوپا ہوا نظام ہے. اور ھمارے مولوی بھی کم تنخواہوں پر گزارہ کرکے سمجھتے ہیں کہ ھم بڑا نیک کام کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف کم تنخواہوں کی وجہ سے وہ اپنے بال بچوں ماں باپ اور رشتہ داروں کے حقوق ضائع کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں چند ایک مخلصین کے اخلاص کے علاوہ باقی اکثریت مولوی مجبورا فقر کا شکار ہوتے جارہے ہیں اور مہتممین اور متولیین انھیں اخلاص کا لالی پاپ دیکر انکا مسلسل استحصال کرتے جارہے ہیں

بالعموم لوگ قلت تنخواہ کے لیے اکابر کی تنخواہوں کا حوالہ دیتے ہیں؛ پتہ نہیں کون سے اکابر تھے جو ہم مولویوں کی طرح اضطراری فقر کا شکار تھے، ہمارے اکابر تو بڑے خوش حال تھے؛ ہاں جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ مال غنیمت اور غلاموں کی کثرت کے باوجود فقر اختیار فرماتے.

اختیاری فقر محمود ہے؛ جب کہ اضطراری فقر مذموم، کیا آپ نے نہیں پڑھا ؟ “كاد الفقر أن يكون كفرا”.

سوانح قاسمی کے مطابق حضرت نانوتوی آٹھ/دس روپے کی اجرت پر مطبع میرٹھ میں کام کرتے تھے. اس وقت اتنے میں ایک بھینس مل جاتی تھی.

آج کل کے دور میں ایک متوسط بھینس کی قیمت کم و بیش ایک لاکھ روپے روپے ھے۔

“دجالی فتنہ کے نمایاں خدوخال” (مصنف: حضرت سید مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ تعالی) کے مطابق شیخ الہند کی تنخواہ پچھتر روپے تھی.

پچاس میں ان کا گھر چل جاتا تھا، پچیس روپے ہر ماہ دارالعلوم کو واپس کر دیتے تھے (یہ انتہائی درجے کا خلوص تھا) اس کا مطلب ھے کہ انکی تنخواہ ان کی ضرورت سے زیادہ تھی

اشرف السوانح کے مطابق حضرت تھانوی کی تنخواہ کانپور سے علیحدگی کے وقت پچاس روپے تھی.

اسی کتاب کے مطابق جب حضرت کی ملکیت پانچ سو روپے کی ہوگئی تھی تو والد ماجد کو لکھ گئے تھے کہ اب مجھ پر حج فرض ہوچکا.

یعنی دس ماہ کی تنخواہ سے ھی حج فرض ہوجایا کرتے تھے.

حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب کی تنخواہ ڈھائی سو روپے تھے.

اور حج کرنے گئے تو اس کا کل خرچ پندرہ سو روپیہ آیا تھا. یعنی صرف چھے مہینے کی تنخواہ سے ھی حج فرض ھو جاتا تھا

کیا یہ تنخواہیں کم ہیں؟ بالکل نہیں.

لیکن ھمارے ھاں تو مدرسین اور آئمہ کرام کی زندگی کی انتہائی درجے کی ضروریات بھی پوری نہیں ھو رھیں اور مھتممین اور متولیین حضرات ھمیں درس دیتے ھیں قناعت اور توکل کا

اگر بغور دیکھا جائے تو تنخواہوں کے بڑھنے کی جو رفتار ہے اصل کمی وہاں ہے، کہ مہنگائی پچاس فیصد بڑھتی ہے تو تنخواہ آٹھ دس فیصد.

ایک ریسرچ کے مطابق ۱۹۷۰ سے ۲۰۱۵ کے دوران اسکول ٹیچروں کی تنخواھوں میں 180 سے 320 فیصد اضافہ ہوا ہے.

اب بتائیں ۱۹۷۰ میں پڑھانے والے کسی عالم کی تنخواہ اور اس میں ۳۰۰ فیصد کا اضافہ کریں پھر دیکھیں کیا 50 ہزار سے کم تنخواہ رہتی ہے اس وقت؟ وہ بھی ۲۰۱۵ تک کا ریسرچ. یعنی 50 ہزار سے زائد تنخواہ ۲۰۱۵ میں ہونی چاہیے.

اس لیے اکابر کی طرف قلت تنخواہ کا انتساب بالکل درست نہیں ہے. بلکہ کھلم کھلی نا انصافی ھے

مھتممین حضرات کے اپنے گھروں کے شاھانہ اخراجات بہترین ائیر کنڈیشنڈ رھائشی کمرے اور لمبی لمبی جدید طرز کی گاڑیاں لیکن اسی مھتمم کے مدرسے اور مسجد کے مدرس اور امام مسجد کے بچوں کے تن پر ڈھنگ کا لباس بھی نہیں ھوتا۔ جب اپنے تقوے کی بات ھو تو حضرت سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کی مثال پیش کی جاتی ھے اور اگر مدرس اور امام مسجد یا ماتحت کی بات آئے تو مثال پیش کی جاتی ھے حضرت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کی یعنی ان حضرات نے اپنے اپنے مطلب کے لئے صحابہ کرام کو بھی تقسیم کیا ھوا ھے اپنے لئے اگر تقوی منتخب کیا ھے تو وہ بھی ٹھاٹھ کا

مھتممین اور متولیین اس ظلم سے توبہ کریں اور مولویوں کو بھی چاہیے کہ وہ مظلوم نا بنے رہیں خوشحالی کی طرف قدم اٹھائیں اپنی نسلوں کو فقر سے نکالیں جو مدرسہ یا مسجد انہیں پوری تنخواہ نہیں دیتا یا ان کی لازمی ضروریات پوری نہیں کرتا اس سے فورا دوسری ھجرت کرجائیں جہاں آپکو اچھی تنخواہ ملے خوامخواہ اخلاص کی تاویلیں نہ گھڑیں حتی کہ اگر آپکو مسجد مدرسہ چھوڑ کر کوئی اور اچھا کام ملے تو اپنی نسلوں کی خوشحالی کیلیے ضرور کیجیئے یقین کیجیئے اس سے آپکو کوئی گناہ نہیں ملے گا لیکن ہاں دنیا کے چکروں میں جانے سے پہلے ایک عزم ضرور کریں کہ آپ اپنے نماز روزہ تسبیح و تلاوت ایمانداری اور دیانتداری اور حسن معاملات کو درست رکھیں گے۔ ۔ ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *