شہریوں کے مذہبی عقائد کا تعین ریاست کا کام نہیں، بلوچستان یوتھ ورکشاپ

بلوچستان یوتھ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ شہریوں کے مذہبی عقائد کا تعین ریاست کا کام نہیں . انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے کے مکالمے کا کلچر تیزی سے ختم ہو رہا ہے ۔ مقررین کا کہنا تھا نوجوان نسل کو خدشات سے نکالنے کے لیے انہیں ملکی معاملات میں شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیر اہتمام کراچی میں بلوچستان کے مختلف علاقوں کی جامعات اور تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے منتخب شدہ 42 سے زائد طلبہ و طالبات کے لیے روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ۔

ورکشاپ کے شرکاٗ سے گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کئی سوالات اور خدشات ہیں ۔ نوجوانوں کو ملکی معاملات میں شریک کیے بغیر ملک کے مستقبل کو بہتر سمت فراہم نہیں دی جا سکتی ۔

ورکشاپ سے انسانی حقوق کمیشن کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق ، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار، سینئر صحافی وسعت اللہ خان ، معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر سید جعفر احمد ، آئی بی سی اردو کے ایڈیٹر اور ڈیجیٹل میڈیا الائینس پاکستان کے چئیرمین سبوخ سید ، پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا ، معروف مذہبی اسکالر مجتبی احمد راٹھور ، پپس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر احمد علی ، صفدر حسین سیال ،معروف صحافی ریاض سہیل ، ضیاء الرحمان اور صحافی وینگاس نے گفتگو کی ۔

ورکشاپ میں طلبہ کو پاکستان کے سماجی اور معاشرتی مسائل ، مختلف اداروں اور پارلیمان کے کردار ، ثقافتی تنوع ، سوشل میڈیا کا کردار ، جمہوریت، آزادی اور معلومات تک رسائی ، پیغام پاکستان ، انسانی حقوق کے عالمی منشور ، سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے ساتھ بعض مقامات پر ہونے والے ناروا سلوک کے اسباب اور تدارک پر بات کی گئی ۔

طلبہ و طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ترقی کے لیے پر امن معاشرت کا قیام انتہائی ناگزیر ہے۔ورکشاپ میں گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جب تک معاشرے میں تصادم موجود رہے گا، معیشت اور ترقی کی خواہش محض خواب ہی رہے گی ۔

مقررین نے کہا کہ انتہا پسندی عالمی سطح پر پاکستان کا چہرہ مسخ کر رہی ہے،پاکستان کا آئین ،پیغام پاکستان اور انسانی حقوق کا عالمی منشور نصاب میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ انسانی شعور کی بہترین دستاویزات ہیں ۔

مقررین نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں مذہبی ، سماجی اور ثقافتی ہم آہنگی کے قیام کے لیے طلبہ و طالبات کے درمیان شعوری مکالمے کی ضرورت ہے ۔ مقررین نے کہا کہ ثقافت معاشرتی تنوع کو قبول کرنے اور معاشرے کی خوبصورت قدروں کا نام ہے ۔ جو چیز انسانی حق کے خلاف ہے ، اسے ثقافت نہیں کہا جا سکتا ۔

پروگرام میں سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں اور موجودہ دور میں اس کے موثر استعمال پر بھی گفتگو کی ۔ ورکشاپ میں نوجوانوں کو تنقیدی شعور کی بنیاد کیسے قائم کی جائے اور مذہبی اقلیتوں سے متعلق ملکی اور بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے ، اس پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔

ورکشاپ میں گوادر، پنجگور ، لسبیلہ ، کیچ، مستونگ ، واشک ، خضدارسمیت قرب و جوار کی جامعات اور کالجز کے 42 سے زائد طلبہ وطالبات نے شرکت کی .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *