اوقاف قوانین کے جائزے کیلئے قائم کمیٹی کا پہلا اجلاس، شرکا کا وزیراعظم کی کوششوں کا خیرمقدم

محکمہ اوقاف اور اسپیکر اسمبلی

اسلام آباد: اوقاف قوانین کے جائزے کیلئے قائم ہائی پاور کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا جس میں شریک علما نے وزیراعظم کی بنائی گئی اس کمیٹی کا خیرمقدم کیا۔ 

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت وقف املاک / اوقاف قوانین کے جائزے کیلئے قائم ہائی پاور کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔

وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کردہ کمیٹی کے پارلیمینٹ ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیر مذہبی امور، وفاقی وزیر داخلہ، چاروں صوبائی محکمہ اوقاف اور نمائندہ علماء و مشائخ نے شرکت کی۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ موجودہ اوقاف قوانین پر علماء کرام، مدارس وخانقاہوں کے منتظمین کی تجاویز اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر مبنی ترمیم کا خیر مقدم کریں گے۔

اسد قیصر نے کہا کہ ہائی پاور کمیٹی میں شامل علماء کرام ایک ماہ کے اندر اپنی سفارشات مرتب کر کے وزارتِ مذہبی امور کو بھجوائیں۔

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق ریاست مدینہ اور اسلامی فلاحی مملکت کے قیام کے لیے علماء کرام سے مشاورتی عمل جاری ہے۔

اجلاس میں اوقاف قوانین کو نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ عوامی فلاح و بہبود اور تعلیمی مقاصد کے لیے مزید کار آمد بنانے پر اتفاق رائے کیا گیا ہے۔

اوقاف قوانین پر وفاقی اور صوبائی سطح پر مناسب قانونی ترامیم کیلئے مربوط کوشش کرنے پر بھی اتفاق رائے پیدا ہوا، جبکہ علما کرام نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے اوقاف قوانین کے جائزے کے لیے ہائی پاور کمیٹی کے قیام کا خیر مقدم بھی کیا۔

پیر نور الحق قادری نے ہدایت کی کہ محکمہ اوقاف علماء کرام اور خانقاہوں کی جائز شکایات کا فوری ازالہ کرے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ اپنے قابل احترام علماء و مشائخ کی تجاویز کی مکمل حمایت کرینگے۔

اس اجلاس میں قاری حنیف جالندھری، ناظم اعلی وفاق المدارس، مفتی محمد عابد مبارک المدنی، صدر تنظیم المساجد اہلسنت پاکستان مولانا حامد رضا، پیر اکرم شاہ، مولانا یسین ظفر، علی اکبر نقوی و دیگر شریک ہوئے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *