مفتی طارق مسعود اور انجینئیر محمد علی کے مابین مناظرہ

تحریر: احسن لاکھانی

یوٹیوب کی اس جنگ میں دونوں حضرات کے چاہنے والے بڑے ہی پر جوش انداز میں ایک دوسرے پر لعن طعن کر رہے ہیں۔ یہ دونوں حضرات بھی سلطان راہی کی طرح ایک دوسرے کو للکار رہے ہیں۔ ہر ایک کا اپنا اپنا نظریہ ہے سب کو اپنا نظریہ مبارک ہو۔ لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ انجینئیر مرزا نے ابھی تک مناظرے کیے نہیں ہیں۔ اسکرین کے سامنے بیٹھ کر اپنی مرضی کی بات کرنا مختلف بات ہے اور مناظرہ کرنا یکسر مختلف۔

مزید پڑھیں: حکومتی ادارے، وفاق المدارس اور نیا بورڈ – کچھ تفصیل و توضیح

انجینئیر مرزا کو جو شخص عالم سمجھتا ہے اس بیچارے نے حقیقی عالم کو دیکھا ہی نہیں۔ یہ صرف ہر مسلک کی چار چار کتابوں کو رٹ کر ہر ویڈیو میں وہ بات دہراتے رہتے ہیں۔ البتہ مفتی طارق مسعود صاحب بھی اسی کشتی کے مسافر ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ عوام میں مقبول کیسے ہونا ہے وہ بھی کوئی مناظر نہیں ہیں لیکن وہ مدرسے کے پڑھے ہوئے ہیں اور پڑھاتے بھی ہیں اس لئے محمد علی مرزا کے مقابلے میں میرا خیال یہ ہے کہ طارق مسعود صاحب بھاری رہیں گے۔

مزید پڑھیں: دینی تعلیم کا اصل مقصد دین کے داعی پیدا کرنا ہیں نہ کہ سرکاری نوکر۔۔۔

کیوں کہ مرزا صاحب جن مسائل اور اختلاف کی باتیں کرتے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں جو شخص مسالک سے جڑا ہوا ہے انہیں ان مسائل کا معلوم ہے اور ان کے جوابات بھی موجود ہیں یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ انجینئیر مرزا اگر واقعی بہت بڑے اسکالر ہیں تو ڈاکٹر اسرار احمد جیسا کوئی کام کر کے دکھائیں جو حقیقی قرآن و حدیث پر مبنی ہو۔ حقیقی داعی وہی ہوتا ہے جو دین کے لئے کام کرے۔ مرزا صاحب کی اب تک دین کے لئے کیا خدمات ہیں یہ تو ان کے فالاور ہی بتائیں گے۔ ۔ ۔ باقی مناظرہ تو ایک طریقہ ہے لہو گرمانے کا، دونوں اداکار اچھی اداکاری کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ لگے رہیں!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *