گرمی سے دور سر سبز چادر اوڑھے چنار کوٹ

اس وقت ملک بھر میں گرمی اپنی پوری طاقت مظاہرہ کر رہی ہے ، کیا کراچی کیا لاہور، پنڈی، اسلام آباد والے سب ہی گرمی کا رونا رو رہے ہیں ۔ ایسے میں ہم کراچی کے گرم ترین موسم سے لپیٹ سپیٹ کر خیبر پختون خواہ کے ٹھنڈے علاقے کا رخ کیا ۔ یہ ضلع مانسہرہ سے 36 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود تحصیل چنارکوٹ ہے ۔ چنار کوٹ کے ایک خوبصورت گاؤں جو سر سبز چادر اوڑھے پہاڑوں کی اوٹ میں موجود ہے ۔ اس بستی کا نام کولیاں ہے ۔ یہ وادی کونش کا حصہ اور شاہراہ ریشم پر واقع ہے ۔ سرسبز جنگلات یہاں کے لوگوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

جون کے مہینے میں جہاں ملک بھر میں گرمی اپنی حدت و شدت سے ہو رہی ہے ۔ ایسے میں وہاں کے موسم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بسا اوقات وضو کے لیے بھی پانی کو گرم کر کے استعمال کیا جاتا ہے ۔ جون کے مہینے میں ایسا موسم ملنا اس علاقے خوش قسمتی سے کم نہیں ۔

یہاں کئی آپ کو سرسبز خاموش پہاڑ تو کئی آپ کو شور کرتی ندیا اور دودھ نما چشمے دکھے گے ۔ ہر جانب لہلہاتے کھیت، جھومتے درخت، سرسبز و شاداب پہاڑ، سونے کی طرح چمکتی گندم کی فصل اور زمین پر بچھی سبز گھاس آپ کی آنکھوں کو سحر انگیز مناظر سے لطف اندوز کرے گے ۔ شہر کی مصروف ترین زندگی، آلودگی، شور شرابہ سے دور اور خوشگوار موسم میں یہ جگہ جنت سے کم نہیں ہے ۔

مذید پڑھیں :حکومت فیٹف دباؤ مسترد کرے،اوقاف قوانین ،TLP پر پابندی واپس لے، علماء

جہاں آسمان پر بادلوں کا جھرمٹ اور خوبصورت چرند پرندوں کا ہوا میں اڑ رہے ہوتے ہیں ۔ وہی دلکش آبشار اور ٹھنڈے پانی کے دودھ جیسے سفید چشمے اس وادی کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے ہوتے ہیں ۔ ہرے بھرے چنگلات اور ان میں آسمان کی بلندی کو چھوتے درخت، مختلف قسم کے رنگا رنگ پھول اسے مزید خوبصورتی بخش رہے ہیں ۔

جلتی لکڑیوں کی دھیمی آنچ پر بننے والے لزیذ دیسی کھانوں کا تو کوئی جواب ہی نہیں ۔ بھینس کا خالص دودھ، دہی، مکھن، گھی، شہد اور یہاں اگنے والی سبزیاں، پھل و میوہ جات یہاں کے لوگوں کی صحت مند زندگی کا راز ہے ۔ یہاں آلو، ٹماٹر، مرچی، مرچولا، ساگ، کھیرا، پیاز تقریباً ہر سبزی اگائی جاتی ہے ۔ اخروٹ اس علاقے کی پہچان ہے ۔ اس کے درخت یہاں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ ہم کراچی میں اکثر گاؤں سے اخروٹ منگواتے ہیں. جو چٹنی، حلوے اور چاول کی بنی روٹی میں استعمال ہوتے ہیں ۔

یہاں کاشت کی جانے والی فصلوں کی بات کی جائے تو گندم اور مکئی جیسی اہم فصلوں کو کثرت کے ساتھ یہاں کاشت کیا جاتا ہے ۔ مکئی کی روٹی کے ساتھ ساگ اور خالص دہی یہاں کی خاص سوغات ہے ۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ کے موقع پر بنائے جانے والے پکوان اور کلچے یہاں کی مشہور سوغات سمجھے جاتے ہیں ۔ کلچہ میدہ، دیسی گھی، چینی، ملائی اور انڈے کے اجزاء سے تیار کیا جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں :گرمی سے دور سرسبز چادر اوڑھے چنارکوٹ

اس علاقے میں گیدڑ جنگلوں میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔ جو رات ہوتے ہی مرغیوں کو اپنی خوراک بنانے کے لیے انکے ٹھکانوں پر حملہ کرتا ہے. اس کے علاوہ کئی خوبصورت پرندے درختوں اور فضا کی زینت بنے ہوتے ہیں ۔ مٹی کے بنے گھر زمینوں میں محنت کرتے محنت کش لوگ اور پہاڑوں کے پیٹ کو چاک کرتی ہوئی صاف کشادہ سڑکیں ایسے دلکش مناظر آپ کو یہی دیکھنے کو ملے گے ۔

یہاں کے لوگ رجعت پسند اور اپنی قدروں کے بارے میں بہت حساس ہیں. پہاڑوں اور جنگلات کی جانب آج بھی لوگ کئی میلو کا سفر پیدل طے کرتے ہیں ۔ سفر کے دروان لاٹھی ساتھ رکھنا عام ہے ۔ جو بوقت راستے میں کسی موذی چیز یا جانور سے نمٹنے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے ۔ رمضان کے مہینے میں سحری میں دیسی گھی اور دودھ کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے ۔ افطار سادہ جبکہ کھانا پرتکلف ہوتا ہے. کھانے میں سبزیوں کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے ۔

ٹرانسپورٹ کی صورتحال تسلی بخش نہیں. دن میں مخصوص اوقات پر شہر و بازار جانے کے لیے گاڑیاں دستیاب ہوتی ہیں ۔  ایسے میں ایمرجنسی میں کسی کو شہر جانا پڑے تو اسے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کئی مریض بروقت ہسپتال نہ پہنچانے کی وجہ سے راستے ہی میں دم توڑ جاتے ہیں. ہسپتال گاؤں سے کئی میل کے فاصلے پر ہے ۔ سرکاری اسکول تو موجود ہے مگر ان میں دی جانے والی تعلیم اور انکی کارکردگی اطمینان بخش نہیں. دیہات میں تعلیمی نظام کو بہتر اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں کے بچوں کو خاطر خواہ تعلیمی ماحول نہ ملنے کے سبب وہ تعلیم کو چھوڑ کر زمینوں میں کام کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں ۔

سی پیک کے منصوبے کا حصہ یہ علاقہ بھی ہے ۔ عین گاؤں کے درمیان سے اس منصوبے کی سڑک تعمیر کی جا رہی ہے ۔ جس پر کام جاری ہے. جو مستقبل میں اس علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *