کراچی پریس کلب میں کرکٹر راشد لطیف کے داخلے پر پابندی عائد

کراچی : کراچی پریس کلب نے راشد لطیف کے پریس کلب میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے

کراچی پریس کلب نے کرکٹر راشد لطیف کی جانب سے صحافیوں کے حوالے سے نازیبا زبان کے استعمال کئے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کے پریس کلب میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے ۔

پریس کلب کی مجلس عاملہ نے کہا ہے کہ صحافیوں نے آزادی اظہار رائے کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، مگر راشد لطیف کی جانب سے صحافیوں کے حوالے جو رویہ اختیار کیا ہے وہ قابلِ مذمت ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ راشد لطیف کی جانب سے صحافیوں کے لیے نازیبا الفاظ کی کی ادائیگی پر شدید تشویش پائی جاتی ہے ہے انہوں نے کہا ہے کہ کہ کسی بھی معزز شخص کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے کے بارے میں ایسی زبان استعمال کرے ۔

مذید پڑھیں :کراچی ایڈمن سوسائٹی کے رہائشی MD واٹر بورڈ کے ہیڈ آفس پہنچ گئے،شکایات کے انبار لگا دیے

کراچی پریس کلب کی مجلس عاملہ نے راشد لطیف کی جانب سے صحافیوں کے لئے بے ہودہ الفاظ استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کے کراچی پریس کلب میں داخلے پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے ۔

کراچی پریس کلب نے راشد لطیف کی جانب سے صحافیوں پر الزامات کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے الفاظ کا استعمال کرکٹ سے وابستہ دیگر کھلاڑیوں کے لیئے بھی سوالیہ نشان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صحافتی برادری متحد اور منظم ہے اور صحافت کے مقدس پیشے پر انگلیاں اٹھانے والے کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہے ۔

راشد لطیف نے پوری صحافتی برادری پر جو کیچڑ اچھالا ہے اس پر صحافتی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور صحافی برادری کسی صورت یہ برداشت نہیں کرے گی کہ صحافت سے وابستہ افراد کے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے جائیں ۔

مذید پڑھیں :اہم پاکستانی ہسپتال میں تل ابیب پر حملے کیلئے تیاریوں کے انکشاف نے اسرائیل کو ہلادیا

اگر راشد لطیف کو کسی بھی صحافی سے ذاتی عناد ہے تو اتنی ہمت پیدا کریں کہ اس کا نام لیں اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں ۔مگر پوری صحافی برادری کے لیے نازیبا الفاظ کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے ۔

کراچی پریس کلب کی مجلس عاملہ نے کہا ہے کہ راشد لطیف کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور ان کے اپنے کرکٹر ساتھی ان پر الزام لگا چکے ہیں کہ ماضی میں راشد لطیف بوری میں بند کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *