دعاء جلال

تحریر: درویش

درویش کا چہرہ اور آنکھیں جلال کی حدت سے دہک رہی تھی۔وہ ان نورانی لوگوں کی طرف دیکھ رہا تھا جو ۔۔۔۔۔۔
فضا میں گونجتی انتہائی بارعب آواز پر آمین یا رب العالمین پکارتے ہوئے مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہے تھے۔۔۔۔۔

ایک بڑا ہجوم تھا۔۔۔۔
نوجوان، بچے بوڑھے۔۔۔۔ بھیگی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھتے اور کبھی آنسوؤں سے بھری آنکھیں صاف کرتے۔۔۔

پھر آواز آئی
یا اللہ۔۔۔۔
سارا مجمع تڑپ اٹھا۔۔۔۔ سب کو اپنی دن رات کی محنتیں یاد آ گئیں۔۔۔
کس قدر تنگ دستی اور مشکلات تھی۔۔۔۔ اپنے عزیز، دوست، رشتے دار سامنے آ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔
کوئی برادری کا واسطہ دیتا تھا۔۔۔ تو کوئی قرابت کا۔۔۔
کوئی لالچ دیتا تھا ۔۔۔ کوئی دھمکاتا تھا۔۔۔۔ جانی و مالی نقصان اور کاروبار تباہ کرنے کی دھمکیاں۔۔۔ گاؤں کے وڈیرے، سیاسی غنڈے، بھتہ خور، ٹارگٹ کلرز۔۔۔۔ سب نے زور آزمائی کر لی تھی۔۔۔ لیکن یہ اولو العزم افراد کا گروہ ثابت قدم رہا تھا۔۔۔۔
لیکن پھر پتا چلا کہ ابھی آزمائش کے دن باقی ہیں۔۔۔

مزید پڑھیں: نئےمدارس بورڈز، نوجوان علماء کی نظر سے

یا اللہ۔۔۔۔۔۔
آواز پھر گونجی۔۔۔۔۔۔جس کی ہیبت سے درویش پر لرزہ طاری ہو گیا۔۔۔۔
رک جاؤ ۔۔۔۔ خدا کے لیے رک جاؤ۔۔۔
کسی کی تباہی کے لیے ایسے دعائیں مت کرو۔۔۔۔۔
رکو۔۔۔۔ رکو
تمہاری آمین سے آسمان کانپ رہا ہے۔۔۔۔
زمین خدا کے خوف سے پھٹنے والی ہے۔۔۔
ہوائیں تمہارے دشمنوں کے سروں پر قہر بن کر ٹوٹنے کو بےتاب ہیں۔۔۔۔
ڈھلتے دن کی سرخی میں چھپی جہنم کی غضب ناک آگ کسی اژدہا کی طرح پھنکار رہی ہے۔۔۔۔
ایسا مت کرو۔۔۔ ٹھہر جاؤ۔۔۔۔۔
تم کون ہو۔۔۔۔ کیا چاہتے ہو ۔۔۔۔
تمہارے پاکیزہ و پرنور چہروں پر یہ کیسا جوش ہے۔۔۔۔
کیسا ولولہ ہے جو تمہیں اس مقام تک لے آیا۔۔۔
لیکن آج درویش کو کوئی جواب نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔
اور پھر فضا میں وہی الفاظ گونجے جو 1400 سال پہلے مکہ کی وادی تنعیم کی فضاؤں نے سنے تھے۔۔۔۔

اللہم احصہم عددا
واقتلہم بددا
یا اللہ جنہوں نے تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا راستہ روکا۔۔۔۔ انہیں گن لے اور انہیں اکیلا اکیلا کر کے، بکھیرکر مارنا

درویش اس مجمع کو ۔۔۔۔ درختوں، ہواؤں اور چرند و پرند کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کی التجاء کر رہے تھے۔۔۔۔
یا اللہ اس مرد قلندر کی دعا منظور فرما۔۔۔ دین کو تخت پر جلوہ گر فرما تاکہ یہ دھرتی ظلم سے پاک ہو۔۔۔ ملک کے قیام کا اور لاکھوں شہداء کی قربانیوں کا مقصد پورا ہو۔۔۔
درویش نے بھی ہاتھ اٹھا دئیے۔۔۔۔
آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

مزید پڑھیں: رہبر انقلاب – امام خمینیؒ

ان بطش ربک لشدید

* تحریک انصاف چار دھڑوں میں تقسیم
* ایک دوسرے کے خلاف مقدمات شروع
* جو میڈیا دن رات لبیک کے خلاف تھا اب وہ دھاندلی کروانے والوں کے خلاف صف آراء ہے
* سینئر صحافی حامد میر نے جرنیلوں کی بدکرداری منظر عام پر لانے کی دھمکی دے دی۔
* جو کہتے تھے کہ دھرنا ختم کرو ورنہ بھون دیں گے۔۔۔۔۔ انہیں بھون دیا گیا
* جو کہتے تھے لبیک والوں کو کھانا کون دیتا ہے وہ اپنے کالے دھن کے صفائیاں دیتے پھر رہے ہیں
* جو لبیک والوں سے وعدہ خلافی کرتے تھے وہ پیشگی ضمانتیں ڈھونڈ رہے ہیں
* جو لبیک کے نعرے کو سیاسی کہتے تھے آج انہیں ووٹ لینے کے لیے لبیک کا نعرہ لگانا پڑ رہا ہے
* جو لبیک کو کالعدم کہتے تھے ضمنی الیکشن میں ان کی ضمانتیں ضبط ہو رہی ہیں
* جو لبیک کو چھوٹا گروہ کہتے تھے آج وہ خود دبک کر گھروں میں بیٹھے ہیں
* جو کہتے تھے مولیوں کو ملک چلانے کا کیا پتا آج وہ زکوٰۃ فطرے جمع کر رہے ہیں
رہے گا یوں ہی انکا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *