اصطلاحات و تعبیرات اور پروپیگنڈہ کا کھیل

تحریر : عبدالقدوس محمدی

دنیا میں اصطلاحات و تعبیرات کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔۔۔۔جنگ اصطلاحات کے پروپیگنڈہ سے شروع ہوتی ہے اور جھوٹ اتنے تواتر سے بولا جاتا ہے کہ سچ لگنے لگتا ہے اور جب حقائق سامنے آتے ہیں تو پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا …… مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر پروپیگنڈہ شروع کیا گیا۔۔۔

دہشت گرد، بنیاد پرست، انتہا پسند اور نہ جانے کیسی کیسی اصطلاحات تراشی گئیں ۔۔۔ان اصطلاحات اور پروپیگنڈہ کی بنیاد پر دنیا میں اسلامو فوبیا کی لہر آئی ۔۔۔ پوری پوری ریاستیں تاخت و تاراج ہوئیں ۔۔۔۔ کتشتوں کے پشتے لگائے گئے ۔۔۔۔عالمی حالات میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں وہ سب کے سامنے ہیں ۔

زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں وطن عزیز کی مثال لے لیجئے یہاں ”تحفظ حقوق نسواں بل“ کے نام سے بے حیائی، فحاشی، خاندانی نظام کی تباہ کاری کا قانون بنایا گیا لیکن عنوان کتنا خوشنما دیا گیا …… "مدرسہ ریفارمز”(مدارس اصلاحات) کی خوبصورت اصطلاح ایجاد ہوئی اور مدارس اصلاحات کے نام پر گزشتہ دو عشروں کے دوران جو جو مہم جوئی کی گئی ….جو جو تجربات کیے گئے وہ سب سامنے ہیں …. مدرسہ اصلاحات کےنام پر عالمی طاغوتی طاقتوں اور مدارس بیزار لوگوں نے جو جو کیا اسے دیکھ کر قرآن کریم کی آیت مبارکہ سامنے آ جاتی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے "واذا قیل لھم لا تفسدوافی الارض قالوا انما نحن مصلحون الا انھم ھم المفسدون ولکن لا یشعرون” ۔

مذید پڑھیں :ایرانی بحریہ کا سب سے بڑا جہاز آتشزدگی کے بعد سمندر میں ڈوب گیا

یعنی فساد اور بگاڑ چاہنے والے عنوان، ڈھال، اصطلاحات اور تعبیرات سدا سے ہی خوش نما اور پر کشش استعمال کرتے آئے ہیں …… بد قسمتی سے دینی مدارس کے معاملے میں بھی یہی کیا جاتا رہا ۔۔۔ عالمی اور مقامی طور پر مدرسہ کو ہدف بنانے، غیر موثر کرنے، مدرسہ کے نظام کو برباد کرنے کی ہر ممکن سعی کی گئی ۔

ایک اور مثال سامنے رکھیے ہمارے ہاں ”تبدیلی” اور ”نیا پاکستان“ کی اصطلاحات سامنے لائی گئیں ….”ریاست مدینہ” کا نعرہ لگایا گیا …. ان خوشنما نعروں اور دلکش اصطلاحات کی وجہ سے کچے ذہن اور نوجوان نسل ان نعروں کی طرف متوجہ ہوئی …. لوگوں نے کیسی کیسی توقعات وابستہ کیں …. کیسی کیسی امیدوں کے گلشن سجائے ….. لیکن پھر ہوا کیا ؟۔

سب آپ کے سامنے ہے ۔۔۔۔ تبدیلی کے نعرے کی طرح ۔۔۔۔ نئے پاکستان کے خواب کی مانند ۔۔۔۔ اور ریاست مدینہ کے مبارک عنوان کی طرح ماڈل مدارس اور پتہ نہیں کیسے کیسے عنوانات سے دینی مدارس کا نیا ورژن لانے کی کوشش کی جاتی رہی ۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا سب کے سامنے ہے ۔۔۔ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے…

مذید پڑھیں :پنجاب : معذور افراد کی سرکاری ملازمت کیلئے عمر کی حد میں 15 سال کا اضافہ

اگر صرف نیا ورژن لانے کی بات ہوتی تو بھی گوارا کر لی جاتی ۔۔۔ لیکن یہاں مدارس کے پہلے سے موجود ایک مضبوط، مستحکم، نظریاتی، فکری، عملی، تاریخی ہر اعتبار سے ایک مفید، نتیجہ خیز، مستحکم، ناقابل تسخیر سسٹم کے متوازی ایک بظاہرخوش نما، دیدہ زیب، پر کشش، مادیت کے نقشوں سے مزین نیٹ ورک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ۔۔۔

بہت سے ایسے کم سن اور مخلص نوجوان کچھ عرصہ قبل جن کا رومانس نام نہاد تبدیلی تھی اب وہ مدارس کے نئے ورژن اور نئے نیٹ ورک کے لیے اتنے ہی ایکسائٹڈ ہیں … ان کو دیکھ کر پیار بھی آتا یے اور ترس بھی ۔۔۔ اس وقت پروپیگنڈہ کی یہی شکل استعمال کی جا رہی ہے کہ اجتماعیت اور وفاقیت کی شکست وریخت کو عصری تعلیم کے خوش نماعنوان دے کر جواز مہیا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

غلط وقت پر ایک غلط فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی جائے تو ففتھ جنریشن وار بریگیڈ حرکت میں آ جاتا ہے اور جیسے وہ ایک بڑھیا نے باز کے ناخن، پنجے اور پر کاٹ ڈالے تھے لیکن وہ مسلسل باز سے اپنی محبت جتلاتی رہی ایسے ہی ہمارے کچھ مہربان وفاق سے الگ ہو کر بلکہ اجتماعیت، بھرم، اتحاد کو پارہ پارہ کر کے اب معصومانہ انداز سے پوچھتے ہیں "ہمیں کیوں نکالا ؟ ” ۔

مذید پڑھیں : ملالہ یوسف زئی برطانوی فیشن میگزین کے سرورق کی زینت

یہ بھی اصطلاحات و تعبیرات کی وہی کہانی اور پروپیگنڈہ کا ایک انداز ہے ۔۔۔ دلچسپ امر یہ کہ اب بھی کچھ لوگ کردار، عمل، اقدام، ایکشن کو نظر انداز کر کے صرف باتوں، دعووں، تعبیرات اور اصطلاحات پر یقین کر لیتے ہیں ۔۔۔ اب تو اصطلاحات اور تعبیرات کا یہ کھیل اور پروپیگنڈہ کی شکلیں دیکھ کر مسلسل یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ تبدیلی کے نام پر جو کچھ کیا گیا اسے تو ہم جیسے تیسے بھگت ہی رہے ہیں۔

بہت سی گزر گئی تھوڑی رہ گئی۔ ۔۔۔ اللہ کرے گا یہ بھی بیت جائے گی لیکن ہمارے دین، ہماری تعلیم، ہمارے مدرسہ، ہماری تہذیب، ہماری حریت، ہمارے ماضی، ہماری روایت، ہمارے نظریہ و فکر کے چشموں پر کی جانے والی ایسی کوئی مہم جوئی خدانخواستہ سراب نکلی تو ہم کہاں جائیں گے …… ذرا نہیں پورا سوچیے ۔۔۔۔ پیش منظر ہی نہیں پس منظر بھی سامنے رکھیے ۔ الله ہمارا حامی و ناصر ہو ۔ آمین

( نوٹ : یہ تحریر میری ذاتی آراء پر مشتمل ہے ۔ اس کا کسی اخبار یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں )

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *