نیا بورڈ کیوں ناگزیر تھا؟

عبدالمنعم

تحریر: عبدالمنعم فائز


ایک بار پھر ان سوالات پر بحث کرتے ہیں کہ یہ سب کام وفاق المدارس سے منسلک رہتے ہوئے ہونے چاہییں تھے، اسی طرح جب جامعۃ الرشید کو انسٹیٹیوٹ کا درجہ مل چکا تھا تو پھر بورڈ لینے کی کیا ضرورت تھی؟

امید ہے آپ نے گزشتہ تحریر پڑھ لی ہوگی، اس تحریر میں آپ نے دیکھا کہ جامعۃ الرشید کے عزائم کیا ہیں؟ جامعۃ الرشید کن پہاڑوں پر کمند ڈالنا چاہتا ہے اور اس کی منزل کتنی کٹھن، طویل اور صبر آزما ہے۔ گزشتہ تحریر پڑھ کر آپ کے دل میں یہ بات آنی چاہیے کہ اس نظام کو ایک الگ بورڈ کی ضرورت ہے۔

اگر آپ کے دل میں یہ بات نہیں آتی تو پھر سنیے کہ گزشتہ تحریر میں مذکور اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اگر آپ کے پاس ایسا نظام تعلیم ہو، جس کا نصاب آپ کی دسترس میں نہ ہو، اس کا نظام آپ کی پہنچ سے دور ہو، نہ آپ اس کے تعلیمی سال کا آغاز اپنی مرضی سے کرسکیں، نہ آپ اس کے تعلیمی سال کا اختتام ہی اپنی مرضی سے کرسکیں، آپ اپنی مرضی سے اس میں کوئی چیز شامل کروا سکیں اور نہ ہی خارج کروا سکیں، آپ اپنے طلبہ کی ضرورت کے مطابق اس میں ترمیم، تبدیلی، جدید نافع کا اضافہ نہ کرواسکیں تو پھر آپ کے پاس آپشن ہی کیا بچتا ہے؟ پھر آپ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ اگر آپ اتنے بلند اہداف کے لیے کوشش کررہے ہیں مگر آپ اکیلے ہیں، آپ تنہا ہیں، آپ کے قدم کے ساتھ قدم ملانے والا کوئی نہیں تو آپ کا یہ نظام تعلیم کتنا عرصہ پنپ سکتا ہے؟ آپ کے اس نظام تعلیم پر برگ و بار آنے اور اس کی خوشبوئیں اور بہاریں پھیلنے میں کتنے سال لگیں گے اور کتنی برساتیں درکار ہوں گی؟ اب اسی بات کو ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں:

ایک لمحے کو تصور کیجئے آپ جامعۃ الرشید میں ہیں۔ آپ دینی و عصری تعلیم ایک ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ اس تعلیمی نظام کے لیے آپ کو اتنے باصلاحیت طلبہ درکار ہیں جو دونوں تعلیمیں ایک ساتھ پڑھ سکیں اور انہوں نے کم از کم میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کررکھا ہو۔ مگر طرفہ تماشا یہ کہ میٹرک کے امتحانات ہورہے ہیں جون میں اور آپ کو اپریل میں داخلے کرنے ہیں۔ یا ملک بھر میں میٹرک کے امتحانات ہوچکے ہیں مگر رزلٹ آنے میں ابھی دیر ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آپ فریش اور تازہ میٹرک کیے ہوئے بچے لے ہی نہیں سکتے اور جو بچے جون میں میٹرک کریں گے، کیا وہ پورا سال گھر میں اس انتظار میں بیٹھے رہیں گے کہ اگلے سال جامعۃ الرشید کے ایڈمشن شروع ہونے کے بعد اس میں اپلائی کریں گے، پھر یہ بھی یقینی نہیں کہ وہاں لازما داخلہ ملے گا کہ نہیں؟ یہ گومگو کی کیفیت اچھے اور باصلاحیت طلبہ کی ایک بڑی تعداد کو اس نظام تعلیم سے دور لے جارہی تھی۔

مزید پڑھیں: مجمع العلوم الاسلامیہ پر اشکالات : پہلی قسط

چلیں تھوڑا آگے بڑھتے ہیں، طلبہ آگئے اور انہوں نے دونوں تعلیمات حاصل کرنا شروع کردیں۔ اب ان طلبہ کی چھٹی کے دن آپ کے اختیار میں نہیں، ان کی حاضری کے دن اختیار میں نہیں۔ ایک تعلیمی نظام کی حاضری ہوتی ہے تو دوسرے کی چھٹی ہوجاتی ہے۔ دینی مدارس میں شعبان، رمضان، شوال تقریبا تین ماہ تعطیلات ہوتی ہیں، سرکاری اسکولز اور کالجز میں تعطیلات کے الگ الگ دن ہوتے ہیں۔ جب مدرسہ میں تعطیلات ہوتی ہیں، تو اسکول کی پڑھائی عروج پر پہنچ جاتی ہے، اسکول میں تعطیل ہوتی ہے تو مدرسہ کی پڑھائی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ جامعۃ الرشید میں تو اسکول کی تعلیم اختیاری نہیں، لازمی ہے، اس لیے یہ ہر سال کوئی نہ کوئی کلاس مشکل سے دوچار ہوتی ہے۔ اس کے بعد ایک بڑا مسئلہ امتحانات کا ہوتا ہے۔ وفاق المدارس ملک بھر میں بیک وقت امتحانات لیتا ہے۔ ایسا بارہا ہوا کہ جب وفاق المدارس کے امتحانات ہوتے ہیں تو اسی دوران کبھی میٹرک، کبھی انٹر، کبھی گریجویشن یا ماسٹرز کے امتحانات جاری رہتے ہیں۔ اس لیے طالب علم کے پاس ایک ہی آپشن بچتا ہے کہ اسکول کے امتحان کو چھوڑ دے اور تمام تر توجہ وفاق کے امتحانا ت پر مرکوز کردے۔ اس کا آئیڈیل طریقہ یہ ہے کہ دونوں امتحانات کے درمیان مناسب وقفہ ہو۔ گزشتہ سالوں میں میں نے دیکھا کہ رمضان المبارک میں ایک بڑی تعداد جامعہ صرف اس لیے رکی ہوئی ہے کہ اسکول کے امتحانات چل رہے ہیں۔ ایسی صورت حالت میں طلبہ کی تعطیلات بھی غارت ہوتی ہیں اور سال بھر ان کو اضافی تعطیلات بھی نہیں مل پاتیں۔

اب ذرا آگے بڑھیں اور تدریسی گھنٹوں پر نظر ڈالیے۔ جب وفاق کا نصاب اتنا بھاری بھرکم ہوگا کہ سات آٹھ گھنٹے روزانہ اسی کی تدریس میں صرف ہوجائیں گے تو پھر سیرت النبی، جغرافیہ، حاضر العالم اسلامی، انگلش، چائنیز، ٹرکش، کمپوٹر کورسز اور انٹر، گریجویشن، ماسٹرز کے لیے وقت کہاں سے نکلے گا؟ اگر دو تعلیمات والے پر وفاق کے مکمل نصاب اور اسکول کے مکمل نصاب کا وزن بھی ڈال دیا جائے گا تو وہ پڑھے گا کب اور مطالعہ و تکرار کب کرے گا؟ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے اور بتائیے کہ اس نظام کو کسی نئے بورڈ کی ضرورت ہے کہ نہیں؟ اس نظام کو اپنا نصاب تعلیم بنانے کی ضرورت ہے کہ نہیں؟ اس نظام کو اپنا نظم الاوقات اور تعلیمی کیلنڈر بنانے کی ضرورت ہے کہ نہیں؟

مزید پڑھیں: مجمع العلوم الاسلامیہ II اشکالات و تحفظات : دوسری قسط

ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ تمام ٹائم ٹیبل دینی علوم کے اعتبار سے بنایا جاتا ہے۔ عصری تعلیم کے لیے واجبی سا وقت ملتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اسکول کا نصاب مکمل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ پھر دینی و عصری تعلیم کے بھاری بھرکم نصاب کا براہ راست اثر ان اضافی مہارتوں اور صلاحیتوں پر پڑتا ہے، جو جامعۃ الرشید اپنے فضلاء میں پید اکرنا چاہتا ہے، مثلا ہر درجے کے ساتھ کمپوٹر کورسز پر مشتمل ایک ڈپلومہ ہر فاضل کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح چار عالمی زبانیں بھی درس نظامی کا حصہ ہیں: عربی، انگلش، چائنیز اور ٹرکش۔ اس کے ساتھ ساتھ ہفتہ واری بنیاد پر کرنٹ افیئرز اور نیشنل و انٹرنیشنل ایشوز پر طلبہ کی تربیت کا سلسلہ مستقل چلتا ہے، جس کا نصاب مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر ڈیبیٹس، تقریری و تحریری مقابلوں کے لیے تیاری اور عالمی مسابقات میں شرکت کے لیے طلبہ کو تربیت دینا۔ یہ کوئی غیر رسمی کام نہیں، باقاعدہ منصوبہ بندی سے نصاب بناکر تربیت دی جاتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ صرف گزشتہ تعلیمی سال جب کوویڈ کی وجہ سے ڈیبیٹ وغیرہ سرگرمیاں متاثر تھیں، تب بھی ہمارے طلبہ نے ملک بھر میں 200 مقابلے جیتے ہیں۔ الحمدللہ۔ قطر کے مسابقات کی تفصیل تو آپ کو معلوم ہوہی چکی ہوگی۔

امید ہے آپ کو اس سوال کا جواب معلوم ہوچکا ہوگا کہ جامعۃ الرشید کے نظام تعلیم کے لیے الگ بورڈ کیوں ناگزیر تھا؟ نیز آپ کو یہ بھی معلوم ہوچکا ہوگا کہ یہ سب کوششیں وفاق کی طاقت کو توڑنے کے لیے ہرگز نہیں ہیں، ان کا واحد ایجنڈا اپنے طلبہ، آنے والی نسلوں اور مستقبل کی لیڈرشپ کو تیار کرنا ہے، ان کی آبیاری کرنا ہے، انہیں جدید تعلیمی ہتھیاروں سے آراستہ کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔


پسِ نوشت: اس تحریر پر تبصرے سے پہلے تحریر کے درمیان میں دیے گئے دو لنکس کو پہلے پڑھ لیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *