لیاری ندی میں عجب خان باوانی کے غیر قانونی پانی کے نیٹ ورک کا انکشاف

کراچی : سائٹ ایریا میں لائنوں کے پانی کا دوسرا بڑا نیٹ ورک چلانے والے عجب خان باوانی بھی انتظامیہ کے ریڈار پر آ گئے ۔ چند روز قبل عجب خان باوانی کے 5 کارندے تھانہ جمشید کوارٹر پولیس نے رنگے ہاتھوں گرفتار کئے تھے ۔

سروے میں معلوم ہوا ہے کہ سائٹ ایریا میں لائنوں کے نیٹ ورک کے ذریعے پانی کی بڑے پیمانے پر سپلائی کرنے والے دوسرے بڑے پانی کے کاروباری عجب خان باوانی نے بہت بڑا نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے ۔

مذید پڑھیں : غیر قانونی کنکشن دینے والے افسر راشد صدیقی نے پانی چوری کا الزام ایجنسیوں پر لگا دیا

لیاری ایکسپریس وے کے ساتھ تھانہ رضویہ اور تھانہ گلبہار کی حدور میں لسبیلہ پل سے رضویہ کی جانب جاتے ہوئے پل کے نیچے کمرہ بنا کر باقاعدہ لائنوں کا نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے ۔ جہاں سے یومیہ 80 لاکھ گیلن ہانی فیکٹریوں کو فروخت کیا جاتا ہے ۔

ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی ایم بی دھاریجو ، پاکستان آرمی سے کرنل مبین ، کیپٹن دانیال نے فیصلہ کیا کہ ضلع وسطی سے غیر قانونی پانی کے کنکشن کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا ۔

سروے کے مطابق گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر اور دیگر سرکاری افسران نے اس علاقے کا دورہ کیا جس میں معلوم ہوا ہے کہ 6 انچ کے 14 پانی کی لائنیں عجب خان باوانی سائٹ ایریا کو سپلائی کر رہا ہے اور اس کے علاوہ یہاں پر درجنوں ہیوی جنریٹر بھی موجود ہیں اور اس کے علاوہ باقاعدہ مافیا نے ریاست کے اندر ریاست قائم کرکے پائپ لائنوں پر میٹر بھی نصب کر رکھے ہیں ۔

معلوم رہے کہ اینٹی تھیفٹ سیل کے انچارج راشد صدیقی نے چند روز قبل اسی جگہ کے قریب ایک آپریشن کیا تھا جس میں شکیل مہر کا نیٹ ورک ختم کیا تھا ۔ اس سے قبل ہارون آباد ٹی پی ون کے قریب آپریشن کے بعد شکیل مہر سے لاکھوں روپے ناصر حسین شاہ کے نام پر راشد صدیقی نے لئے تھے ۔

مذید پڑھیں :واٹر بورڈ کے اینٹی تھف سیل انچارج راشد صدیقی نے واٹر بورڈ میں نئی ریاست قائم کردی

تاہم شکیل مہر کے نیٹ ورک کیخلاف آپریشن کے بعد دیگر عجب خان باوانی اور تاج کوہستانی سمیت دیگر نیٹ ورک جوں کے توں واٹر بورڈ 33 انچ قطر کی مین لائن سے چلائے جا رہے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ راشد صدیقی ناصر حیسن شاہ کو ماہانہ دو کروڑ روپے غیر قانونی پانی کی مد میں دینے میں ناکام ہونے کی وجہ سے من مانے غیر قانونی کنکشن دلوا رہا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *