نئے بورڈ :: مدارس کی آزادی و حریت

تحریر : سمیع اللہ سعیدی 

ہمارے ہاں ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ مدارس کا موجودہ نظام اسکی آزادی و حریت کی ضامن ہے ،اس لئے کسی بھی متبادل نظام سے آزادی وحریت متاثر ہوسکتی ہے اور نئے بورڈ کو قبول نہ کرنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے ،جو وفاق المدارس نے اپنے نوٹس میں بھی ذکر کی ہے ،سوال یہ ہے کہ مدارس کس حیثیت سے کتنے آزاد ہیں ؟

1۔ مدارس کی آزادی و حریت سے مراد اگر نصاب و کتب کی آزادی ہے ،تو یہ آزادی پرائیویٹ سیکٹر کے تمام تعلیمی اداروں اور اکیڈمیز کو ہے ، ہر پرائیویٹ سکول ہر اکیڈمی کا اپنا نصاب اور اپنی کتب ہیں ،نیز پوسٹ گریجویٹ کلاسز (بالخصوص ایم فل و پی ایچ ڈی پروگرامز )میں بھی یونیورسٹیز آزاد ہیں ،وہ اپنی پسند کے مطابق اپنا نصابی لائحہ عمل رکھتی ہیں ،تو اس میں مدارس کی کیا خصوصیت؟

2۔ مدارس کی نصاب و کتب کی آزادی دیگر پرائیویٹ سیکٹر کی آزادی کی طرح محدود ہے ،ریاست نے ایک دائرہ کھینچا ہے ،اسی دائرے کے اندر ہی مدارس اپنا نصاب رکھ سکتی ہیں ،اس میں کچھ ریڈ لائنز ہیں ،جنہیں مدارس کسی صورت کراس نہیں کرسکتے ،کیا مدارس ایسا نصابی مواد رکھ سکتے ہیں ،جو پاکستانی ریاست اور اس کی بنیادوں کے منافی ہو ؟کیا مدارس قائد اعظم پر منفی مواد یا قائد کی تکفیر نصاب کا حصہ بنا سکتے ہیں ؟کیا مدارس ریاست کی طرف سے ڈیکلئیرڈ کسی بھی دشمن ملک و جماعتوں کی کاوشوں کو اپنے نصاب کا حصہ بنا سکتے ہیں ؟

3۔ مدارس کی حریت و آزادی سے مراد اگر یہ ہے کہ حکومتی کسی بھی حکم و آرڈر کے پابند نہیں ہیں ،تویہ امر واقعہ کے خلاف ہے ، حکومت نے مدارس کی رجسٹریشن لازمی قرار دی ہے کیا مدارس اس کو ٹال سکتے ہیں ؟حکومت نے مدارس کو باقاعدہ ایک وزارت کی ماتحتی میں دیا ہے ،کیا مدارس اس ماتحتی سے انکار کرسکتے ہیں ؟حکومت نے کرونا وبا میں مدارس کو خصوصیت کے ساتھ بند کرنے کا حکم جاری کردیا ، مدارس کو اپنے امتحانات تک ملتوی کرنے پڑے ،حکومت نے عید الاضحی پر پچھلے سالوں میں این او سی لینے کو پابند کیا ،کیا مدارس نے این او سی کے بغیر کھالیں جمع کیں ؟ کیا اس آرڈر کا انکار کر سکے؟ پچھلے سالوں میں بعض مدارس کے آڈٹ تک ہوئے،کیا مدارس انکار کرسکے ؟الغرض خواہ آپ پرائیویٹ سیکٹر ہو یا حکومتی نظام کا حصہ ہو ،سب ایک خاص دائرے میں حکومتی احکامات کے پابند ہیں ،نیز مدارس کی طرح پہ پرائیویٹ سیکٹر ایک خاص دائرے میں آزاد بھی ہے ،اس آزادی و پابندی میں مدارس کی کوئی امتیازی خصوصیت نہیں ہے ۔

4۔ مدارس کی حریت و آزادی سے مراد اگر کسی بھی دینی مسئلے میں حکومتی ہدایات قبول نہ کرنے کا ہے ،تو پچھلے دنوں جب پیغام ِ پاکستان کی صورت میں حکومت نے لازم قرار دیا کہ اب کسی بھی پرائیویٹ سطح پر کسی گروہ کی تکفیر نہیں ہوگی ،تو کیا مدارس نے اس حکومتی ہدایات کو ماننے سے انکار کیا ؟حالانکہ اصولی طور پر یہ دار الافتاء کا حصہ ہے اور خلافت تک میں مفتی آزاد حیثیت میں کام کرتے رہے ،لیکن اس حکومتی حکم پر مدارس کے منتظمین سمیت نامی گرامی مفتیان نے دستخط کئے ؟،حکومت نے مساجد میں تراویح کے لئے تعداد مخصوص کی ،طریقہ طے کیا ،کیا مساجد کے ائمہ انکار کرسکے ؟حکومت نے اعتکاف کی بندش کی نوٹیفیکشن جاری کی ،کیا مزاحمت ہو سکی؟ معلوم ہوا جتنی آزادی ہم محسوس کرتے ہیں ،وہ دراصل ریاست ہی کی دی ہوئی ہو ،اس لئے جہاں جہاں ریاست اپنے احکامات لوگو کر رہی ہے ،ہم مان رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں :نئے بورڈ :: وراثتِ شیخ الہندؒ

5۔ مدارس کی حریت و آزادی سے مراد اگر حکومتی پالسیوں پر بر ملا تنقید اور احتجاج کی آزادی ہے ،تو یہ آزادی ہر سیاسی جماعت ،ہر صحافی ،ہر شخص و فرد کو ہے ،اس میں مدارس کی کوئی تخصیص نہیں ہے ،بلکہ یہاں تو اسلام آباد کی بعض حکومتی سیکولر یونیورسٹیز میں بلوچ عسکریت پسندوں کے لئے باقاعدہ محافل منعقد کی جاتی ہے ،پروفیسر حضرات ان کےحق میں دلائل دیتے ہیں ،کیا مدارس اپنے ہاں کسی بھی ممنوعہ عسکری جہادی تنظیموں کے لئے اپنے ہاں اتنے کھلے عام محافل منعقد کر سکتے ہیں ؟تو تنقید کی آزادی میں تو بعض عصری ادارے مدارس سے زیادہ آزاد ہیں ۔

6۔مدارس کی حریت و آزادی سے مراد اگر چندے و ڈونیشن کی آزادی ہے ،تو یہ ہر فلاحی ادارے کو حاصل ہے ،ا س میں مدارس کی کوئی تخصیص نہیں ، بلکہ اس میں بھی مدارس کی آزادی عام فلاحی اداروں سے کم ہے ،چنانچہ پچھلے کچھ سالوں سے جو حضرات مدار س کو زیادہ چندہ دیتے تھے ،ایجنسیاں اس کی ریکھی شروع کر دیتے ہیں ،تنگ کرنا شروع کر دیتے ،جس کی وجہ سے مدارس کے چندے میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ، بڑے مدارس نے بالخصوص اس کا تجربہ کیا ،جہاں ڈونیشن لاکھوں میں ہوتی ہے ،کیا مدارس نے اس آزادی کے سلب ہونے پر کچھ کیا

7۔ اگر مدارس کی آزادی سے مراد اپنا بورڈ و وفاق یا یونین بنانے کی آزادی ہے ،تو یہ حق ریاست میں مزدوروں تک کو ہے ،بلکہ سرکاری ملازمین کے یونینز بنے ہوئے ہیں ،جن میں سب اکٹھے ہوکر ایک لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں ،اس میں مدارس کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔ آپ حضرات سے دست بستہ درخواست ہے کہ پورے ملک کی جماعتوں ،گروہوں ،اداروں ،افراد و اشخاص میں آزادی و حریت کے حوالے سے مدارس و مذہبی طبقے کی آزادی کی کوئی سے تین ایسی خصوصی آزادیاں بتائیں ،جو پورے ملک میں صرف مدارس کو حاصل ہو ،ملک میں کسی بھی دوسرے فرد ،ادارے یا جماعت کو حاصل نہ ہو ۔

دوسرا سوال ،نئے اور پرانے بورڈ میں بھی آزادی کے حوالے سے کوئی تین ایسی خصوصی آزادیوں کی نشاندہی کریں ،جو نئے بورڈ کو حاصل نہیں ہے ،وفاق المدارس کو وہ آزادیاں حاصل ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *