نئے بورڈ :: وراثتِ شیخ الہندؒ

شیخ الہند مولانا محمود حسن

تحریر: سمیع اللہ سعیدی


حضرت استاذ صاحب مفتی عبد الرحیم صاحب دامت ظلہم العالی نے اپنے حالیہ اجتماعِ طلبہ کے بیان میں وراثتِ شیخ الہند کا ذکر کیا ،کہ ہمارا مقصد شیخ الہند کے خوابوں کی تعبیر ہے ،اس پر بلا وجہ طنز و تشنیع کے تیر برسائے جارہے ہیں ،حالانکہ اکابر کی محبت کے "علمبرداروں” کو تو اس بیان سے خوش ہونا چاہئے کہ استاذ صاحب نے اکابر کو ہی مشعل راہ بنایا ،تو شیخ الہند کی وراثت کیا ہے ؟چند نکات پیشِ خدمت ہیں :

1۔ حضرت شیخ الہند کے نزدیک مدرسہ دیوبند محض تعلیم و تعلم کا ایک ادارہ نہیں تھا ،بلکہ مولنا مناظر احسن گیلانی کے بقول (سوانح قاسمی میں )حضرت شیخ الہند فرمایا کرتے تھے کہ حضرت الاستاذ (حضرت نانوتوی ) نے یہ مدرسہ میرے سامنے قائم کیا ،جس کا مقصد ایسا مرکز قائم کرنا ہے ،جو ایسے افراد تیار کرے ،جن کے ذریعے 57 کی جنگ آزادی کی تلافی ہوسکے ” ،57 کی جنگ میں مسلمانوں کے اقتدار کا سورج رسمی طو رپر غروب ہوگیا ، تو اس کی تلافی گویا دوبارہ ایسے افراد کی تیاری ہے ،جو مسلمانوں کے اقتدار کو دوبارہ لانے کے لئے تگ و دو کرے ،یوں دیوبند محض ایک دفاعی ادارہ نہیں تھا ، جس کا مقصد صرف دینی ورثے کی حفاظت تھی ، یا امام و مدرس کی تیاری تھی ،بلکہ ایک اقدامی ادارہ تھا ، جس کا مقصد رجال ِ عصر تیار کرنا تھا ۔

2۔ حضرت شیخ الہند دیوبندی اکابرین میں وہ پہلے آدمی ہیں،جن کے دور میں علی گڑھ و دیوبند کے درمیان برف پگھلی ،چنانچہ آپ کے ہی دور میں دار العلوم دیوبند کے جلسہ دستار بندی میں علی گڑھ سے صاحبزادہ آفتاب احمد خان آئے تھے ،اور دونوں اداروں کے اشتراکِ عمل کی صورتوں کی تجاویز پر کام ہوا ،کسی بھی نامور علیگ کا یہ دیوبند کا پہلا دورہ تھا ،پھر جلسہ دستار بندی میں دعوت اور تقریری موقع دینا ایک تاریخی کام تھا ۔

مذید پڑھیں :شیخوپورہ میں 10 فٹ دکان کا کرایہ 1 ارب 25 کروڑ روپے کیوں مقرر کیا گیا ؟

3۔ آپ نے جمعیت الانصار جن مقاصد کے لئے بنائی تھی ان میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے ان دو گروہوں میں موجود خلیج کو کم سے کم کیا جاسکے ،چنانچہ مولنا عبید اللہ سندھی کو یہی ٹاسک خصوصیت سے شیخ الہند نے دیا ،یہی وجہ ہے کہ شیخ الہند کے سوانح نگار جناب اقبال حسن صاحب نے لکھا ہے کہ جمعیت کے جلسوں سے خصوصیت کے ساتھ علی گڑھ سے سر کردہ افراد شریک ہوتے تھے ،تاکہ ایک مشترکہ پلیٹ فارم کا تاثر دیا جاسکے ۔

4۔ جمعیت الانصار کے جو جلسے ہوتے تھے ،ان قرار دادوں(خاص طو رپر مراد آباد جلسہ کی تجاویز ) میں گریجویٹ حضرات کے لئے دیوبند میں دینی تعلیم کی بندوبست کی بھی بات تھی (اس خواب کو جامعہ الرشید نے کلیہ الشریعہ کی صورت میں پورا کیا )،اس کے ساتھ کالجوں میں دینی تعلیم و تربیت کے لئے رضاکاروں کی تیاری تھی ۔

5۔ جمعیت الانصار کے پلیٹ فارم سے یہ قرار داد منظور ہوئی کہ دیوبند میں ایسا شعبہ قائم کیا جائے جو اسلام پر جدید دور کے اعتراضات کا جواب دے سکے ،بالخصوص اردو و عربی میں جو مخالفِ اسلام مواد موجود ہے ۔

لیکن جمعیت کی ان تمام کوششوں کی خود دیوبند سے مخالفت ہوئی اور اتنی زیادہ مخالفت ہوئی اور شیخ الہند مجبور کیا گیا کہ آپ کو مولنا عبید اللہ سندھی کو دیوبند سے الگ کرنا پڑا ،یاد پڑتا ہے کہ سوانح قاسمی میں ہی غالبا یہ لکھا ہے کہ شیخ الہند مولنا سندھی کو فرمایا کرتے تھے کہ آپ کی باتیں صرف میں سمجھ سکتا ہوں ،آپ یہ باتیں صرف مجھ سے کیا کریں ۔

4۔جامعہ ملیہ کا ظاہری مقصد اگرچہ ترکِ موالات کی تحریک بنا ،لیکن اس کے صدارتی خطبے میں حضرت شیخ الہند نے اپنے وژن کو تفصیل سے بیان کیا ہے ،یہ خطبہ آپ کا تحریر کردہ تھا ،جو مولنا شبیر احمد عثمانی صاحب نے پڑھ کر سنایا ،اسی میں آپ نے یہ شکوہ کیا کہ مدارس و خانقاہوں میں میری آواز کو سمجھنے والے کم ہو گئے (یہ جملہ نہایت ہی غور و غوض کا حامل ہے، اگر دیوبند سے آپ کو پوری موافقت و تعاون ملا ہوتا ،توکبھی یہ نہ کہتے )مجھے ان عصری اداروں سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں ،نیز اس میں انگریزی زبان کی ضرور ت پر زور دیا گیا اور رجالِ عصر کی تیاری پر زور دیا گیا ہے ۔

مذید پڑھیں :مجمع العلوم الاسلامیہ II اشکالات و تحفظات: دوسری قسط

5۔ مولنا سعید احمد اکبر آبادی نے بجا طور پر شیخ الہند کے حالات ِ حاضرہ پر گرفت اور توجہ کے بارے میں لکھا ہے :

"بہ ظاہر وہ گوشہ عزلت میں سب سے الگ تھلگ تھا ،لیکن اس کی نظر جہاں بین میں زمانے کی تمام کروٹیں اور لیل و نہار کی تما م گردشیں سمٹ کر جمع ہوگئی تھیں”

6۔ندوۃ العلماء کی جو مجلس ِ علماءوجود میں آئی ،جس نے آگ چل کر ایک مدرسہ کا روپ دھار لیا ،اس مجلس کے بانی اجلاس میں شیخ الہند بھی موجود تھے ،اور اس مجلس میں مسلمانوں کی عصری ضروریات ،اصلاحِ نصاب اور مختلف گروہوں (قدیم و جدید یا دینی مکاتب ِفکر )کے درمیان اختلافات کے خاتمے پر غور و غوض ہوا ۔

اب خود فیصلہ کریں کہ شیخ الہند کے اس وژن کو آج کے زمانے میں کون پورا کر نے کی کوشش کر رہا ہے ؟کیا آج بھی یہی تصویر نہیں ہے کہ شیخ الہند کی طرح استاذ صاحب قدیم وجدید کے خلیج کو کم سے کم کرنے کے لئے متنوع کوششیں کر رہے ہیں اور دیوبندی حلقے اسی زمانے کے دیوبندی حضرات کی طرح عدمِ تعاون اور بعض کی جانب سے مخالفت ہورہی ہے ؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *