ایڈیشنل IG کا عام شہری کے روپ میں شاہراہ فیصل تھانے جانے پر پولیس کا رویہ ظاہر

کراچی : ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب منہاس عام شہری کے لباس میں ملبوس ہو کر رات گئے شاہراہ فیصل تھانے پہنچ گئے ۔ ڈیوٹی افسر سے کہا آپ کے علاقے میں میرا فون اور نقد رقم لوٹ لی گئی ہے اس کی رپورٹ درج کرانی ہے ۔

پولیس نے روایتی انداز میں ایڈیشنل آئی جی پر بھی سوالات کی بوجھاڑ کر دی ۔  پولیس نے ایڈیشنل آئی کو عام آدمی ہی سمجھ کر کہا کہ آپ درخواست دے دو ، کل SHO صاحب سے پوچھ کر کارروائی آگے بڑھے گی ۔

ایڈیشنل آئی عمران یعقوب منہاس جنہیں کوئی پہچان نہیں سکا ۔ جب انھوں نے درخواست ڈیوٹی افسر کے آگے رکھی تو بغیر گردن ہلائے ۔ انھوں فرمایا فون کا ڈبہ کہاں ہے ۔ انھوں نے کہا گھر پر ہے ، تو ڈیوٹی افسر نے کہا اس کا IMEI تمہیں یاد ہو تو لکھ دو ، ڈیوٹی افسر نے بغیر ہلے جلے کہا ، اب اس طرف جاوٴ اور آگے ہیڈ محرر کے کمرے میں منشی بیٹھا ہو گا درخواست اسے دے دو ۔

ایڈیشنل آئی جی منشی کے پاس پہنچے ، اپنے سامنے کھڑے اچھلے لباس میں ملبوس شخص سے منشی نے کہا ’’ یار سوٹ تو زبردست پہنا ہے ‘‘ ایسا ایک سوٹ مجھے بھی لا کر دو ۔ کراچی پولیس چیف نے تھانے سے باہر نکلتے ہی انٹری کروائی ، SHO شاہراہ فیصل سمیت دیگر پولیس افسران صبح ایڈیشنل آئی جی کراچی کے روبرو پیش ہوں ۔

مذید پڑھیں :پاکستان میں قادیانی کم ہو کر ایک لاکھ 87 ہزار رہ گئے : رپورٹ

اطلاع ملنے پر رات گئے SHO شاہراہ فیصل افتخار آرائیں کی دوڑیں لگ گئیں اور وہ گھر سے تھانے پہنچ گئے ۔

ادھر ایماندار پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی کی طرح تینوں ذونل ڈی آئی جیز اور ساتوں ایس ایس پیز اپنے ٹھنڈے کمروں کو چھوڑ کر وہاں سے نکل کر عوام کی خدمت کی خاطر میدان عمل میں نکلیں تو خلق خدا کو بہت حد تک انصاف مل سکتا ہے ۔

ذرائع کے مطابق پولیس کے اعلیٰ افسران کا کرپٹ عملہ کے نکلتے ہی موبائل فون الرٹ کر دیتا ہے ۔ جس کا وہ باقاعدہ SHOs اور دیگر پولیس افسران سے جرمانہ وصول کرتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے افسران کے اچانک چھاپے نا کام ہوتے ہیں اور سب اچھا ہے کی رپورٹ مل جاتی ہے ۔

واضح رہے کہ 11 مئی 2021 کو ایڈیشنل آئی کی کراچی بنایا تھا جب کہ کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کو ہٹا کر اے آئی جی اسپیشنل برانچ تعینات کر دیا تھا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *