مرکزی علماء کونسل پاکستان نے وقف املاک بل کو اسلامی قانون سے متصادم قراردے دیا

اسلام آباد : مرکزی علماء کونسل پاکستان کے مطابق بل کی بعض دفعات قرآن و سنت کے منافی ہیں وقف املاک ایکٹ میں عجلت سے کام لیا گیا ہے اور بغیر بحث کے پاس کرکے صدر مملکت کے دستخطوں سے منظور کیا گیا ہے یہ قانون سازی روایتی طریقے سے ہٹ کر عالمی دباؤ کے نتیجے اور افراتفری کے ماحول میں کی گئی ہے ،بل میں پاکستانی عوام اور ان کے مذہبی رحجانات کی بیحدپامالی کی گئی ہے اور یہ بل شریعت کے احکام کے منافی ہے مدارس مساجد و دیگر عبادت گاہوں کے انتظام و انصرام کی اہلیت مذہب سے وابستہ لوگوں پر منحصر ہے سرکاری کارندوں کو مدارس پر فائز اور مسلط کرنا شریعت اسلامیہ اور ملکی آئین سے متصادم ہے جبکہ ملکی آئین میں موجود ہے کہ کوئی بھی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو سکتی۔

وقف املاک بل اسلام آباد2020 اور پنجاب اسمبلی وقف املاک ایکٹ2020 ایک ایسا قانون ہے جس پر تمام مذاہب اور مسالک کو تحفظات ہیں جبکہ وقف کے بارے میں نبی اکرمﷺ کا فرمان موجود ہے حضرت عمرؓ بن الخطاب کو خیبر کی ایک زمین کے بارے میں آپ ﷺ نے جو حکم ارشاد فرمایا کہ یہ زمین نہ فروخت کی جائے گی نہ ہبہ کی جائے گی اور نہ اس میں وراثت چلے گی وقف کی روح بھی یہی ہے اصل شے محفوظ رہے وقف کے بنیادی اصول جو قرآن و سنت میں طے ہیں اس میں کسی کو بھی تغیر و تبدل کی اجازت نہیں دے سکتے۔

مرکزی علماء کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے جمعہ کے اجتماع میں ایک قرار داد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا ہے وقف املاک ایکٹ اور مدارس کے بارے میں تمام امور پر نظرثانی کی جائے وقف املاک ایکٹ کو منسوخ کیا جائے کیونکہ یہ ایکٹ اسلام اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہے اس کا مقصد ملک کے نظریاتی تشخص کو تبدیل کرنا ہے حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرے کچھ قوتیں دینی طبقات کو حکومت سے لڑانے کی سازشیں کررہی ہیں۔

پاکستان کے دینی مدارس پاکستان میں امن و استحکام اور علم کو فروغ دے رہے ہیں دینی مدارس خالصتاً اللہ اور اس کے رسول کی تعلیم دے رہے ہیں وہ کسی دنیاوی مفاد کیلئے کام نہیں کررہے انہوں نے کہا کہ پانچ نمائندہ وفاق کے مقابلے میں دس نئے وفاق کا قیام دانش مندانہ فیصلہ نہیں ہے اس وقت تمام طبقات میں اضطراب اور اشتعال پایا جاتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ مرکزی علماء کونسل پاکستان اس سلسلے میں تمام قومی سیاسی جماعتوں سے تعاون لے گی اور آئندہ الیکشن میں ایسے امیداوار کو ووٹ نہیں دیں گے جس نے وقف املاک ایکٹ کے حق میں ووٹ دیا ہوانہوں نے کہا مساجد و مدارس آزاد تھے آزاد ہیں اورآزاد رہیں گے کسی طالع آزما کو مدارس کی آزادی پر پابندی نہیں لگانے دیں گے علماء کرام متحد ہو کر مساجد و مدارس کے خلاف ہر سازش کا مقابلہ کریں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *