بوٹینک گارڈن اینڈ ہربیریم کو پروفیسر ڈاکٹر سید ارتفاق علی کے نام سے موسوم کرنے کی تقریب

کراچی : ترجمان سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وہ ہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جو اپنے ہیروز کو فراموش نہیں کرتے اور مجھے خوشی ہے کہ جامعہ کراچی نے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید ارتفاق علی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے بوٹینک گارڈن اینڈ ہربیریم جامعہ کراچی کو پروفیسر ڈاکٹر سید ارتفاق علی کے نام سے موسوم کر دیا ہے ۔

جو ایک بہت اچھی مثال ہے اور اس طرح کی مثال ہمیں بہت بڑے پیمانے پر کرنے کی ضرورت ہے اور جن لوگوں نے ماضی میں معاشرے کی خدمت کی ہے ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بوٹینک گارڈن اینڈہربیریم جامعہ کراچی کو پروفیسر ڈاکٹر سید ارتفاق علی کے نام سے موسوم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب کا اہتمام پروفیسر ڈاکٹر سید ارتفاق علی بوٹینک گارڈن اینڈ ہربیریم جامعہ کراچی میں کیا گیا تھا ۔ اس موقع پر جسٹرار جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید، ممبر سندھ اسمبلی و ممبر سنڈیکیٹ جامعہ کراچی سعدیہ جاوید اور ممبر سنڈیکیٹ صاحبزادہ معظم قریشی بھی موجود تھے ۔

مذید پڑھیں :بیت المقدس کی تاریخی حیثیت

مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ ماحول کسی بھی معاشرے کا بہت اہم جز ہوتا ہے، ہم ہمیشہ ڈیولپمنٹ کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ماحولیاتی ترقی کو بھول جاتے ہیں،سڑکیں اور پل بنانے سے ہمیں آسانی تو ہوتی ہے لیکن ہریالی ہماری صحت کے لئے ناگزیر ہے اور اس کے لئے شجرکاری ضروری ہے۔

جامعہ کراچی میں 43 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں اگریہ طلبہ ایک ایک پودا لگائیں اور ان کی دیکھ بھال کو بھی یقینی بنائیں تو یہ 43 ہزار پودے ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔مجھے خوشی ہے کہ جامعہ کراچی تواترکے ساتھ شجرکاری کررہی ہے جو لائق تحسین ہے۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر سید ارتفاق علی ایک معروف ماہر نباتیات تھے،ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ، پروفیسر ڈاکٹر سید ارتفاق علی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے بوٹینک گارڈن اینڈ ہربیریم جامعہ کراچی کو ان کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہے ۔ مذکورہ گارڈن میں پاکستان میں پائے جانے والے مختلف اقسام کے پودوں پر تحقیق کے ساتھ ساتھ طلبہ کو پودوں کی اہمیت و افادیت کے بارے میں آگاہی بھی فراہم کی جاتی ہے۔

مذید پڑھیں :ڈیرہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن انتخابات میں ایڈووکیٹ ہدایت اللہ ملانہ نے میدان مارلیا

ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ عصر حاضر میں گلوبل وارمنگ ایک بین الاقومی چیلنج ہے جو بالخصوص پاکستان اور شہر کراچی کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ شہر کراچی میں روز بروز بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے شجر کاری کی اہمیت اور افادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ جامعہ کراچی میں تواتر کے ساتھ نہ صرف شجر کاری ہو رہی ہے بلکہ پودوں کی دیکھ بھال کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت جامعہ کراچی کلین اینڈ گرین کیمپس ہے ۔

جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر سید ارتفاق علی ایک معروف ماہرنباتیات تھے جو قومی اور بین الاقومی سطح پر اپنی شہرت رکھتے تھے ۔ مجھے خوشی ہے کہ ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے بوٹینک گارڈن اینڈ ہربیریم جامعہ کراچی کو ان کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سید ارتفاق علی بوٹینک گارڈن اینڈ ہربیریم جامعہ کراچی کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر انجم پروین نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ شعبہ نفسیات جامعہ کراچی کی پروفیسرڈاکٹر انیلا امبر ملک نے کلمات تشکر ادا کئے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *