بیت المقدس کی تاریخی حیثیت

بیت المقدس میں سب سے پہلے( 2500 قبل مسیح میں) آل سام آباد ہوئے۔ آل سام کے یہ قبائل جزیرۃ العرب سے ہجرت کرکے یہاں پہنچے تھے۔ انہی قبائل کی ایک شاخ مجوسیوں کے نام سے مشہور تھی ۔

2008 ق م میں،جب شالیم بادشاہ کی حکومت تھی، اور سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام شہر ُار (یہ دجلہ وفرات کے سنگم پر واقع ہے ) سے ہجرت فرماکر اس علاقے میں پہنچے اور حبرون کے مقام پر قیام کیا، جو بعد میں’’ الخلیل‘‘ کہلانے لگا ۔اس علاقے میں مختلف مقامات سے برآمد ہونے والی تختیوں اور کتابِ مقدس کی روایات سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ یہاں کا حاکم بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح عبادت کرتا اور خود کو اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا بتلاتا تھا ۔

کتاب پیدائش اور تفسیر ابن کثیرؒ کی روایت سے ظاہر ہو تا ہے کہ رفتہ رفتہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خاص قوت وطاقت کے مالک ہوگئے ۔ جب دمشق کے بادشاہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی، جو وادی ٔاُردن میں مقیم تھے ،گستاخی کی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے آدمیوں کے ہمراہ دمشق والوں کے ساتھ لڑے اور انہیں شکست دے کر دمشق تک ان کا تعاقب کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اس فتح کے بعد لوٹے تو بیت المقدس کے بادشاہ نے شہر سے باہر نکل کر ان کا استقبال کیا ۔ قدیم عربی مورخین کی روایت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی وادی سے حضرت ہاجر ہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو وادی فاران میں چھوڑ گئے تھے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ۱۷۵ برس کی عمر میں انتقال ہوا، تو اسی وادی کے شہر (حبرون ) میں مدفون ہوئے ۔

ان کی وفات کے چالیس سال بعد حضرت یعقوب علیہ السلام نے بیت المقدس کے ایک مقام بیتِ ایل پر ایک مذبح تعمیر کیا ۔حضرت یعقوب علیہ السلام ہی وہ پہلے شخص تھے ،جنہوں نے مسجد اقصیٰ کی بنیاد ڈالی تھی، اور اسی مسجد کی وجہ سے بیت المقدس کی آبادی وجود میں آتی گئی، گویا مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی آبادی کا سہرا ان کے سَر ہے۔

مذید پڑھیں :مرکزی علماء کونسل پاکستان نے وقف املاک بل کو اسلامی قانون سے متصادم قراردے دیا

جیساکہ ابھی گزرا حضرت یعقوب علیہ السلام نے بیت المقدس کے ایک مقام بیتِ ایل پر ایک مذبح تعمیر کیاتھا،اسی کے کھنڈروں پر صدیوں بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہیکل کی عمارت اٹھائی ۔ عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بنیاد حضرت سلیمان علیہ السلام نے رکھی،یہ بات درست نہیں،بلکہ انھوں نے مسجد اور شہر کی تجدید کرائی تھی ۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کے صاحب زادے حضرت یوسف علیہ السلام جب امتدادِ زمانہ سے مصر پہنچے اور بادشاہ ہوئے، توحضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد اپنے جدامجد کی وفات سے ڈیڑھ دو سو برس بعد مصر میں منتقل ہو گئی اور اسے خوب عروج حاصل ہوا ۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ قوم معتوب ہوئی ،حتیٰ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے رحم فرمایا اور مصر میں آمد سے چار سو سال بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس میں مبعوث کیا ۔

جنہوں نے اسے فرعون کے ظلم واستبداد سے نجات دلائی اورنبی اسرائیل دریائے نیل پارکر کے وادیٔ سینا میں داخل ہوگئے، مگریہ قوم اپنے نبی کی نافرمان اور احسان فراموش ثابت ہوئی اور بتوں کی پوجاکرنے لگی ،اور جب موسیٰ علیہ السلام نے اسے ڈانٹ پلائی تو ان پر چڑھ دوڑی ، مگر اللہ نے اپنے کلیم علیہ السلام کی حفاظت فرمائی ۔ اس کے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نبی اسرائیل کو بیت المقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا ۔تویہ قوم فرمانِ پیغمبر کی تعمیل سے گریزاں ہوئی اور صاف کہہ دیا :’’تو اور تیرارب جائے ان سے لڑے ہم تو یہیں بیٹھے ہیں ۔ ‘‘(سورۂ مائدہ آیت 24 )

نبی اسرائیل کی یہ گستاخی اللہ تعالیٰ کو ناگوار گزری، اس نے یہ سزادی کہ جب تک موجود ہ نسل کے تمام لوگ بالغ نہیں ہوگئے وہ وادیٔ تیہ ہی میں بھٹکتے رہے، ان کی نظر بندی کا یہ عرصہ چالیس سال پرمحیط ہے۔ اس عرصے میں انتقال کرجانے والے یہودیوں کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

مذید پڑھیں :بوٹینک گارڈن اینڈ ہربیریم کو پروفیسر ڈاکٹر سید ارتفاق علی کے نام سے موسوم کرنے کی تقریب

بیت المقدس میں وہ دوسو سال بعد،جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نائب حضرت یوشع بن نون علیہ السلام ان کے نبی تھے، داخل ہوئے ۔خلاصہ یہ کہ بارھویں، تیرھویںصدی قبل مسیح سے یہود فلسطین میں آباد رہے اور یہاں انہیں اقتدار بھی حاصل رہا، جس کا نقطۂ عروج حضرت سلیمان علیہ السلام کا عہد (66-965 قبل مسیح) تھا۔

پھر یہودیوں کی مملکت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔شمالی فلسطین اور مشرق ِاردن میں سلطنتِ اسرائیل وجود میں آگئی ،جس کاپایۂ تخت سامریہ تھا، اور جنوبی فلسطین اور اَدوم کے علاقے میں سلطنتِ یہودیہ قائم ہوگئی،جس کاپایہ تخت یروشلم قرار پایا۔ دو صدی بعد 721 قبل مسیح میں شاہ اشور سارگو نے سامریہ فتح کرکے دولتِ اسرائیل کا خاتمہ کردیا، ہزاروں اسرائیلی تہ تیغ کیے اور ۲۷ ہزار سے زائد یہودیوں کو اشوری سلطنت کے مشرقی حصوں میں تتّربتّر کردیا۔سلطنتِ یہودیہ اب بھی قائم تھی،جس کو شاہ ِبابل (عراق) بختِ نصر نے 598 قبل مسیح میں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا ۔

پھر 587 قبل مسیح میں اس نے یروشلم اور ’’ہیکل سلیمانی‘‘ کو بھی پیوند ِخاک کر دیا اور دس لاکھ یہودیوں کو غلام بنا کر عراق لے گیا، جنہیں ۵۲۹ قبل مسیح میں شاہِ فارس (خسرویا سائرس) نے بابل فتح کر کے رہائی دلائی، تو یہودی پھر فلسطین جاکر آباد ہوئے اور ہیکلِ سلیمانی دوبارہ تعمیر کیا۔ 331 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم (بت پرست یونانی بادشاہ،جسے معلوم دنیا کا فاتح کہا جاتا ہے) نے فلسطین پر قبضہ جما لیا۔ 63 قبل مسیح میں فلسطین کو بت پرست رومیوں نے فتح کر لیا ۔

مذید پڑھیں :منگھو پیر پولیس نے 500 لیٹر ایرانی ڈیزل کی سوزوکی پکڑ لی

اسی دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودیوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے مبعوث ہوئے، مگر یہودی ان کی جان کے دشمن بن گئے،ان کو سولی دینے کا فیصلہ ہوا اور عین سولی دیے جانے کے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے انھیں زندہ سلامت آسمانوں پر اٹھا لیا، ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ زندہ ہیں اور قیامت کے قریب کے زمانے میں حضور اکرم ﷺ کے امّتی کی حیثیت سے دنیا میں تشریف لائیں گے ، دینِ محمدی کو نافذ کریں گے،دجّال کو قتل کریں گے،یاجوج ماجوج کے فتنے کا قلع قمع کریں گے اور پھر اپنی مدّتِ حیاتِ دنیوی مکمل کر کے انتقال فرماجائیں گے اور نبی اکرم ﷺکے روضے میں مدفون ہوں گے ۔

70ء میں یہودیوں نے بغاوت کی، تو رومی جرنیل ٹائٹس نے یروشلم کو تاخت و تاراج کیا اور ’’ہیکلِ سلیمانی‘‘ دوسری بار مسمار کر دیا۔ 137ء؁ کی یہودی بغاوت کے بعد رومی شہنشاہ ہیڈ ریان نے یہودیوں کو فلسطین سے جلاوطن کردیا اور یروشلم کو ’’ایلیا‘‘ کا نام دیا۔ 33ء میں اگرچہ رومی شہنشاہ ’’قسطنطینِ اعظم‘‘ کے عیسائیت قبول کرنے سے تمام رومی سلطنت میں عیسائیت پھیلتی چلی گئی، پھر بھی یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت نہ ملی ۔

14ھ/639 ء میں سید فاروق اعظمؓ کے عہد میں فلسطین مسلمانوں کے قبضے میں آیا اور ایلیا یعنی سابق یروشلم اب’’ بیت المقدس‘‘ کہلانے لگا ۔ 1099، 492ھ؁ میں مسیحی صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے ۷۰ ہزار مسلمان شہید کر دئیے ۔ 15رجب 583 ھ 1187 کو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے چھڑایا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *