جامعہ اردو میں لیکچرار کیلئے ٹیسٹ میں SOPs کی دھجیاں اڑا دی گئیں

وفاقی اردو یونیورسٹی

کراچی : وفاقی اردو یونیورسٹی میں لیکچرار کے لیئے ہفتہ کو ٹیسٹ منعقد کر کے کوویڈ ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دی گئیں ۔

پاکستان بھر کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے خواہش مند ٹیسٹ سے لا علم رہے ، جس کی وجہ سے نہ صرف ٹیسٹ متنازعہ ہو گیا بلکہ انتظامیہ نے لاکھوں روپے بھی ڈبو دئیے ، جب کہ اتوار کو ہونے والا ٹیسٹ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے ۔

جامعہ اردو کی انتظامیہ بہت سے امیدواروں کو ٹیسٹ خطوط نہ ملنے کی وجوہات بتانے سے قاصر ہے ، قائم مقام انتظامیہ 5 جون کو ہونیوالے سینیٹ اجلاس سے قبل منظور نظر لیکچرار کی تعیناتی کے لیے بے چین دیکھائی دیتی ہے، جب کہ صدر مملکت کی جانب سے آئندہ چند روز میں مستقل وائس چانسلر کے نام کی منظوری دئیے جانے کا بھی امکان ہے ۔

مذید پڑھیں : لاہور ہائیکورٹ میں سعد رضوی کی نظر بندی کیخلاف درخواست مسترد

تفصیلات کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے جلد بازی میں کرونا وائرس کی خراب صورت حال کو نظر اندا ز کرتے ہوئے لیکچرار کے عہدے پر تعیناتی کے لیے ہفتہ اور اتوار کے روز ٹیسٹ کی تاریخ مقرر کی تھی ۔ تاہم اسلام آباد ، لاڑکانہ، جیکب آباد سمیت دیگر شہروں سے آئے ہوئے ٹیسٹ دینے کے خواہشمند امیدواروں کو ٹیسٹ خطوط وصول کرنے میں شدید پریشانی کا سامنا رہا اور بہت سے امیدواروں کی درخواست مسترد کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، جس کی وجہ سے بہت سے امیدواروں شدید ذہنی اذیت کا شکار رہے ۔

تاہم دوسری جانب کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑانے کی خبر شہری انتظامیہ کو ہوئی جس کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر نے جامعہ اردو کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا ،ڈپٹی کمشنر نے انتظامات کو غیر تسلی بخش قرار دیا ،ڈی سی نے کورونا صورتحال بہتر ہونے تک ٹیسٹ ملتوی کرنے کی ہدایات دیں ۔ ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر کل سے ہونے والے ٹیسٹ ملتوی کر دیئے گئے ۔

مذید پڑھیں :حکومت کا 25 اور 40 ہزار کے پرائز بانڈ کی مدت میں توسیع کا اعلان

ذرائع نے بتایا کہ جامعہ اردو کے ڈاکٹر عرفان اور ڈاکٹر توصیف احمد خان نے خط لکھ کرجامعہ انتظامیہ سے جلد بازی میں ٹیسٹ لینے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے این ٹی ایس کے ذریعے باقاعدہ ٹیسٹ منعقد کروانے کا مطالبہ کیا تھا ۔

ذرائع نے بتایا کہ موجودہ قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر صارم بھی لیکچرار کے امیدوار ہیں۔ اس لئے انہوں نے مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی سے قبل ہی اپنے آپ کو پروفیسر تک پہنچانے کے لیے جلدی ٹیسٹ انتظامات کروائے تھے ۔ ڈاکٹر صارم کو ڈر تھا کہ مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی پر اُن کی پرانی بے ضابطگیاں سامنے آ جائیں گی اور پروفیسر بننے کا خواب ادھورہ رہ جائے گا ۔

ہفتہ کو جلد بازی میں ٹیسٹ منعقد کر کے روز لیکچرار کے ٹیسٹ کو متنازعہ بنا دیا یے ۔ کیونکہ ٹیسٹ میں مطلوبہ امیدواروں نے شرکت نہیں کی اور امیدواروں کی حاضری کم رہی ۔امید کی جاری ہے کہ 5 جون کو سینیٹ اجلاس ہونے کا امکان ہے ۔ جس میں صدر مملکت کی جانب سے مستقل وائس چانسلر کے نام کی منظوری دیں گے ۔

Comments: 2

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

  1. کوئی جلد بازی نہیں کی گئی جنہوں نے 2013 اور 2017 میں لیکچرار کے لئے سپلائی کیا تھا اب جا کر ان کو لیٹ ملا اور دو دن پہلے ایس ایم ایس موصول ہوا اور کل 29 کو خط کہ آپ کو انٹری ٹیسٹ کے لئے آنا ہے ۔۔این ٹی ایس کے تھرو بھی چیٹنگ ہوتی ہے اور سین ٹی ایس سے بہتر ادارے والے ٹیسٹ لیں بہتر ہوتا ہے باقی یہ غلط بات ہے کہ محکمے کے لوگ دوسروں کا حق کھا رہے ہیں ۔تعلیم کے شعبے کو پیغمبری پیشہ کے طور عزت و تکریم حاصل ہے اس میں بھی بےایمانی عروج پر ہے ۔خط ارسال کریں کم از کم ایک ہفتہ پہلے کریں تاکہ دور سے آنے والے کو آسانی ہو ہاں ایس ایم ایس بھیج دیا تھا دو دن پہلے ۔لیکن جامعہ خود ٹیسٹ کے ہم اس کے حق میں ہیں اور آپ صحافیوں کو تو بال کی کھال نکالنے کی عادت ہے اگر صحافیوں کو بھی این ٹی ایس دینا پڑھے سب کے سب فیل ہوں گے ۔

  2. صحافی خود بھی ٹیسٹ دیتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک ہے تو ثبوت دے سکتا ہوں ۔