پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتب میں قابل تشویش تبدیلی کر لی گئی .

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی شائع کردہ جماعت نہم کی کتاب مطالعہ پاکستان اور انگریزی کی کتب میں قابل تشویش تبدیلی کی گئی ہے ،پنجاب ٹیکست بک بورڑ کی جماعت نہم کے مطالعہ پاکستان اور جماعت ہفتم کی انگریزی کی کتاب کے جدید ایڈیشن میں کچھ ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن سے عقیدہ ختم نبوت اور کشمیر کے قومی موقف کے خلاف سازش نظر آتی ہے.

جس کی وجہ سے کیریکلم کونسل کے ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہیے ہے . کلاس نہم کی مطالعہ پاکستان کی کتاب کے صفحہ نمبر 5 پر عقائد اور عبادات کے تحت یہ جملہ درج ہے کہ “عقیدہ رسالت کا مطلب یہ ہے کہ تمام رسولوں پرایمان لانا ، عقیدہ رسالت کا یہ تقاضا ہے کہ تمام رسولوں پر ایمان لایا جائے .اور حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی ماننا عقیدہ رسالت کا لازمی جزو ہے.

2018اور2019 میں تمام سرکاری سکولوں میں نویں جماعت کی کتاب میں یہ جملہ شامل ہے لیکن پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی وہ کتاب جو ملک کے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے اس میں یہ جملہ “حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی ماننا عقیدہ رسالت کا لازمی جزو ہے ” حذف کر دیا گیا ہے اور اسی صفحہ اور اسی پیچ میں اس جملے کی جگہ لکھا ہے کہ قرآن اور اسوہ رسول کو سرچشمہ ہدایت ماننا عقیدہ رسالت کا لازمی تقاضا ہے.

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے شائع کی گئی کتاب کا عکس

وہی پبلشر ہے اور لیکن پرائیوٹ سکولوں کے لیے جاری کی گئی کتاب میں عقیدہ ختم نبوت پر نقب زنی کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، کوئی مسلمان کبھی ایسی حرکت نہیں کر سکتا. عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے یہ ایک سازش ہے ، جس پر اہل اقتدار کو کاروائی کرنی چاہیے.

کتاب میں ہونے والی تبدیلی نظر آرہی ہے

اسی طرح ساتویں کلاس کی انگلش کی کتاب میں صفحہ نبر 164 پر بچوں کو Earthquake کے تحت بتایا گیا کہ یہ زلزلہ 2005ء میں آزاد کشمیر ، خبیبر پختونخواہ اور مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں آیا تھا ، یعنی بچوں‌ کو یہ پڑھایا جارہا تھا کہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے اوریہ مقبوضہ علاقہ ہے ، لیکن 2018،2019 کے ایڈیشن میں لفظ “مقبوضہ کشمیر”کو بھارت کے زیر” انتظام علاقہ ” کے الفاظ سے تبدیل کر دیا گیا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ بھارت کا اس پر غاصبانہ قبضہ نہیں ہے.

ادھر والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ لیکن ایسا سب کچھ ہو رہا ہے .اور حکومت کو اس پر کوئی خبر نہیں‌ہے یا خبر ہے تو اس پر خاموش ہے. ان افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جانی چاہییے جنہوں نے ایسا کچھ کیا ہے اور ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے.