چیئرمین NAB کی 300 انکوائریز کی تفتیش اور 200 ریفرنس دائر کرنے کی منظوری

کراچی : قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کے نظرئیے کرپشن کیخلاف جہاد کے تحت نیب کراچی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نجف قلی مرزا کی سربراہی میں 27 مئی کو نیب کراچی کے ریجنل بورڈ کا اجلاس ہوا ۔

جس میں مختلف شکایات، انکوائریز اور تفتیش پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ریجنل بورڈ نے 2x ریفرنسز دائر کرنے، 3x انکوائریز کو تفتیش میں تبدیل کرنے کی منظوری دی ۔ ان تمام منظور شدہ مقدمات میں مبلغ 2 ارب چار سو 86 لاکھ روپے Rs.2.486Billion خزانے کو نقصان پہنچایا گیا تھا ۔مقدمات کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے ۔

1 محمد علی وسان، سابقہ ایس ایس پی ٹھٹھہ اور دیگر کیخلاف ریفرنس کی منظوری دی گئی ۔ یہ مقدمہ ضلع ٹھٹھہ میں 2011-2012 کے دوران محکمہ پولیس میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ہے ۔

مذید پڑھیں :سال 2021 کی پانچویں با اثرترین شخصیت

2 محکمہ صحت کے افسران او ر عہدیداروں، حکومت سندھ پروکیورمنٹ کمیٹی کے ممبران، پروگرام مینجر ہیپاٹائٹس سے بچاؤ اور کنٹرول پروگرام اور دیگر کیخلاف ریفرنس کی منظوری دی گئی ۔ یہ مقدمہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور ہپاٹائٹس سے بچاؤاور کنٹرول پروگرام کیلئے مختص فندز میں خرد برد سے متعلق ہے ۔

ملزمان نے ادویات کی جعلی فراہمی، زائد نرخوں پر ادویا ت کی خریداری، ضرورت سے کم شیلف لائف ادویات کی خریداری اور تقسیم کاروں سے انکم ٹیکس کی کٹوتی نہ کرتے ہوئے پیسے بنائے اور خزانے کو نقصان پہنچایا ۔

3 چیئرمین نیب کی طرف سے علی حسن زرداری اور دیگر کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی ۔

مذید پڑھیں :ٹھٹھہ : حیدرآباد یونین آف جرنلسٹ کا صحافی اسد علی طور پر قاتلانہ حملے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

4 ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس حیدرآبادکے افسران اور عہدیداروں کیخلاف، جعلی پروسیسنگ سسٹم کے تحت جعلی پنشن اور جعلی بلوں کے ذریعے حکومتی کے خزانے کو نقصان پہچانے کے الزام میں انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کیا گیا ۔ مجرمان نے اس میں 2 ارب Rs.2Billion سے زائد قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ۔

5 خالد حسین سولنگی اور دیگر کیخلاف انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کیا گیا۔ملزم خالد حسین سولنگی اپنی آپ کو بطور چیئر مین نیب ، ڈی جی نیب کراچی اور سکھر کی حیثیت سے متعارف کرواتا اوراس نے بڑے پیمانے پر سادہ لوگوں کو دھوکہ دیا، اور ان سے پیسے بٹورے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *