محکمہ واٹر بورڈ کی نیب کو خفیہ رپورٹ پولیس اور رینجرز متحرک

واٹر اینڈ سیوریج بورڈ

کراچی (نوراسلام) بلوچستان حب ڈیم سے کراچی اور حب شہر کو پانی سپلائی کرنے والی نہر جسے حب کینال سے جانا جاتا ہے سے کئی دہائیوں سے محکمہ واٹر بورڈ کے ملازمین کی سرپرستی میں پانی کی چوری ہورہی ہے۔

واٹر ٹینکر کے ذریعے پانی کی چوری کیساتھ غیر قانونی طور پر باغات اور زرعی زمینوں کو بھی واٹر بورڈ کے ملازمین نے حب کینال سے چوری کی لائنیں دی ہوئی ہیں جسکی وجہ سے بڑے پیمانے پر شہر کراچی کی عوام کے حصے کے پانی کا ضیاع ہورہا ہے تاہم محکمہ واٹر بورڈ نے تاحال اپنے ملازمین کیخلاف کاروائی عمل میں نہیں لائی۔

محکمہ واٹر بورڈ نے پانی کی چوری میں پولیس کو ملوث قرار دیا ہے جسکے بعد تحقیقات کا عمل شروع ہوچکا ہے اور اس حوالے سے پولیس کیساتھ رینجرز بھی متحرک نظر آرہی ہے۔ حب کینال کے علاوہ حب پمپنگ اسٹیشن کے قریب قادر محمد حسنی کی اراضی میں حب پمپنگ اسٹیشن میں تعینات واٹر بورڈ کے ملازمین اور واٹر ٹینکر مافیا کی ملی بھگت سے حب کینال کے لاکھوں گیلن پانی کو موٹروں کی خرابی کا بہانہ بنا کر پانی چھوڑ دیا جاتا ہے جسے ٹینکروں کے ذریعے شہر بھر میں فروخت کیا جاتا ہے

مزید پڑھیں: واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل نے سیمنس چورنگی کے قریب غیر قانونی کنکشن دے دیئے

مذکورہ اراضی میں موجود بڑے تالاب کو کرنل کے کھڈے سے جانا جاتا ہے اراضی کے مالک نے اپنی اراضی سے پانی نکالنے کے لیئے عدالت سے ایک آرڈر بھی حاصل کررکھا ہے جسکی آڑ لیکر پانی فروخت کیا جارہا ہے۔ حب پمپنگ اسٹیشن سے کچھ دوری پر واٹر فلٹر پلانٹ سے بھی پانی آور فلو کرکے یار محمد گوٹھ میں چھوڑ دیا جاتا ہے

جہاں زرعی زمینوں میں کاشتکاری کی جاتی ہے اور ٹینکروں کے ذریعے پانی فروخت کیا جاتا ہے جسکے بدلے واٹر بورڈ کے ملازمین کو معقول رقم ملتی ہے۔ منگھوپیر ہی کے علاقے رمضان گوٹھ خیرآباد الطاف نگر و دیگر علاقوں میں واٹر بورڈ کی لائنوں سے غیر قانونی کنکشن لیکر گھروں میں بڑے واٹر ٹینکوں میں پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے بعد ازہ ذخیرہ شدہ پانی کو فروخت کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: بنارس میں واٹر بورڈ کی مین لائن سے غیر قانونی کنکشن شروع

اسکے علاوہ بہت سے علاقوں میں کنواں اور بورنگ کرکے بھی پانی حاصل کیا جاتا ہے جسے ٹینکروں کے ذریعے فروخت کیا جاتا ہے محکمہ واٹر کی جانب سے اکثر بورنگ سے حاصل شدہ کھارہ پانی فروخت کرنے والوں کیخلاف مقدمات درج کیئے جاتے ہیں جبکہ واٹر بورڈ کی لائنوں سے چوری کرنے والوں کیخلاف شاد و نادر مقدمہ درج ہوتا ہے۔

محکمہ واٹر بورڈ کی اینٹی تھیف فورس کی خفیہ رپورٹ اگرچہ منظر عام پر نہیں آئی پر رپورٹ کی اطلاع کے بعد پولیس اور رینجرز نے اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیئے کوششیں شروع کردی ہیں۔ البتہ دیکھنا یہ ہے کہ ادارے پانی کی چوری میں ملوث اصل کرداروں کے خلاف کاروائی کرتی ہے یا پھر ہمیشہ کی طرح تمام ملبہ واٹر ٹینکر والوں پر گرایا جائے گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *