شہرِ کراچی ماضی حال مستقبل

شہرِ کراچی جو کہ اپنی رونقوں کے باعث روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے۔۔ شہرِ کراچی کو منی پاکستان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔۔۔
یہاں کشمیر سمیت پاکستان کے ہر علاقے میں بسنے والی قوم کے لوگ آباد ہیں۔۔

مگر زیادہ آبادی بھارت سے ہجرت کر کے آنے والوں کی ہے۔۔ جن میں اردو اسپیک (مہاجر) میمن کچھی گجراتی مارواڑی راجپوت۔ قریشی۔۔ چھیپا۔۔ ناگوری۔۔ یوسف زئی وغیرہ شامل ہیں۔۔

شہرِ کراچی میں ایک عرصی ایم کیو ایم نے راج کیا ہے۔۔ اور ایم کیو ایم میں شامل کئی برادریوں اور قوموں نے بھی کراچی پہ راج میں اپنا حصہ شامل کیا ہے۔۔

آِئیے تھوڑا جائزہ لیتے ہیں کہ ایم کیو ایم سے پہلے کا کراچی کیسا تھا۔۔
کراچی میں داداگیری اور بدماشی کا رواج صرف ایم کیو ایم ہی کی مرحونِ منت نہی ہے۔۔ بلکہ ایم کیو ایم سے پہلے بھی کراچی میں داداگیری کا رواج عروج پہ رہا ہے۔۔
یہاں ہر علاقے میں ایک نامور شخص ہوا کرتا تھا۔۔ جو پورے علاقے میں راج کرتا تھا ۔۔ اس کا پورے علاقے میں رعب و دبدبہ ہوا کرتا تھا۔۔

لیاقت آباد میں قمر ٹیڈی نامی شخص کی طوطی بولتی تھی ۔۔

لائینز ایریا ساجد ٹنکی. اور منصور چاچا کا راج ہوتا تھا

اورنگی ٹاون میں حاجی سلاموں اور گڈو بہاری کا ہولڈ تھا۔۔
سہراب گوٹھ میں مشہور زمانہ ڈاکو سہراب کا دبدبہ تھا۔۔۔

سہراب گوٹھ سے تھوڑا آگے اس ہی کے بھائی صفورہ ڈاکو کا راج تھا. اور یہ دونوں علاقے آج بھی ان ہی بھائیوں کے نام سے ملحق ہیں۔۔۔

اس ہی طرح محمود آباد کے علاقے میں بھی گجر برادری سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کا راج تھا اور دونوں کے نام سے بھی آج دو علاقے آباد ہیں۔۔ منظور کالونی. اور اختر کالونی

برنس روڈ پہ صابر گدی

جامع کلاتھ کے علاقے میں سئںیاں۔ صدر کے علاقے میں سراج قریشی۔۔ مشہور تھے۔۔

لیاری جو کہ آج گینگ وار کے نام سے جانا جاتا ہے۔۔ یہ گینگ وار وہاں آج کی نہی بہت پرانی ہے۔۔

کئی عشروں پہلے بھی لیاری میں خونریز گینگ وار ہوتی تھی لیاری میں مشہورِ زمانہ بدماشوں کے گینگ کا راج تھا۔ جن میں سرِ فہرست بابو ڈکیت تھا جس کا شاگرد ارشد پپو کا باپ حاجی لالو تھا۔۔ کالا ناگ اور دادل کے بھی گینگ ہوا کرتے تھے۔۔ یہ سب منشیات کی خرید و فروخت کے جوے اور سٹے کے اڈے بھی چلاتے تھے۔۔

الغرض کراچی کے ہر علاقے میں کوئی ایک نامور شخص ضرور ہوا کرتا تھا جس کا رعب دبدبہ و ہیبت پورے علاقے میں چھائی رہتی تھی۔۔ ان شخصیات کو آپ اپنے دور کے بدماش کہیں یا کچھ لیکن ان میں سے اکثریت کی ایک بات مشترک تھی کی یہ سب اپنے اپنے علاقوں کے لوگوں کے لیے خاص کر غریب غرباء کے لیے مسیحا ہوا کرتے تھے۔۔

اس دور کی سیاسی جماعتیں بھی انکی حمایتیں مانگنے انکے در پہ جایا کرتی تھیں ان افراد کے با اثر شخصیات اور قانون نافظ کرنے والے اداروں سے اچھے تعلقات بھی ہوا کرتے تھے۔۔ یہ علاقے کے لوگوں کے قانونی مسائل میں انکی معاونت بھی کرتے تھے۔۔ اور علاقے کے فلاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کے حصہ بھی ملاتے تھے۔۔ کسی غریب لڑکی کی شادی ہو یا کسی غریب کی تجہیز و تکفین یہ ان سب کاموں میں پیش پیش رہتے۔۔ کچھ تو باقائدہ الیکشن لڑ کے کونسلر تک بن جاتے اور علاقے کے مسائل سکاری سطح پہ حل کرتے تھے ۔۔

ان میں سے بیشتر کا معاملہ بلکل فلمی انداز میں ہوتا کہ یہ امیروں کو لوٹتے اور غریبوں پہ خرچ کرتے تھے۔۔۔
ان نامور شخصیات کے ایک دوسرے سے رابطے بھی رہتے تھے اور تنازعات بھی۔۔ آپس میں خون ریز جھگڑے بھی ہوتے اور ایک دوسرے کے تعاون سے اپنے لوگوں کے مسائل بھی حل ہوتے۔۔

خیر یہ کچھ چھوٹی سی جھلک تھی کراچی کی کہ ان بارعب شخصیات کے باوجود انکی بدماشیوں کے باوجود یہاں کبھی لسانی فساد نہی ہوے تھے مگر سن٨٠ کی دہائی میں یہ کمی ایم کیو ایم نے پوری کردی۔ کہ جب سر سید گرلز کالج ناظم آباد کی ایک طالبہ بشریٰ زیدی ایک بس ایکسیڈنٹ میں ماری جاتی ہے۔۔

اور اس بس کا ڈرائیور پختون ہوتا ہے۔ بس پھر کراچی کو نظر لگ جاتی ہے۔ شور مچتا ہے کہ پٹھان نے مہاجر لڑکی کو مارا ہے۔ اور وہاں سے دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر رہنے والے پختون و مہاجر ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوجاتے ہیں۔ کراچی کا علاقہ اورنگی ٹاون میدانِ جنگ بنتا ہے۔۔ گھروں میں گھس کر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں اور یوں لسانیت کی بنیاد پہ مہاجر قومی موومنٹ وجود میں آتی ہے
اور یوں کراچی میں راج کرنے کرنے والی ان شخصیات کا بتدریج خاتمہ ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوجاتے ہیں ۔۔ جیسے کہ منصور چاچا اور ساجد ٹنکی ایم کیو ایم میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور حاجی سلامو اور شاہد عالم عرف گڈو بہاری پیپلز پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں۔۔ صابر گدی نون لیگ میں اور ان میں سے سے بیشتر تبلیغ سے وابستہ ہوجاتے ہیں جن میں قمر ٹیڈی اور بابو ڈکیت کے نام معروف ہیں کہ یہ تبلیغی جماعت میں شامل ہوگئے تھے۔۔

یوں کراچی کے ان مشہور بھائی لوگوں کا دور ختم ہوتا ہے اور مہاجر قومی موومنٹ کے بھائی لوگوں کے دور کا آغاذ ہوتا ہے جو کہ آگے جاکر متحدہ قومی موومنٹ بن جاتی ہے۔ اور کراچی کا پڑھا لکھا نوجوان ڈاکٹر انجنیئر ادیب اپنا سب کچھ اس تنظیم پہ قربان کر کے اس میں شامل ہوجاتا ہے۔۔ اور یوں یہ تنظیم عرصہ پینتیس سال کراچی پہ راج کرتی ہے مگر افسوس کراچی یا کراچی کے لوگوں کے لیے کچھ نہی کرتی.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *