تجرباتی ومشاہداتی نچوڑ

تحریر : مولانا محمد جہان یعقوب

دانشوران قوم نے اپنے اپنے انداز میں اس دنیا کو اپنے تجربات کی روشنی میں جانچ کر اور اپنے مشاہدات کے تناظر میں پرکھ کر دنیا اور اس کے متعلقات کے بارے میں اپنی رائے قائم کی ہے اور اپنے تجربات و مشاہدات کا نچوڑ دنیا والوں کے سامنے پیش کیا ہے جس کو مدنظر رکھ کر زندگی کا لائحۂ عمل ترتیب دیا جاسکتا ہے۔

1 جو شخص چالیس(40) سال کی عمر سے بڑھ جائے اور اس کی خیر اس کے شر پر غالب نہ ہو تو اسے دوزخ کی تیاری کرلینی چاہیے۔
2 قارون بننے کی تمنّا کُتّا ریس ہے اس دوڑ میں انسان شریک نہیں ہوسکتا۔
3 کتّوں کی ریس میں جو جیتے گا ہوگا تو وہ کتّا ہی نا؟
4 لاپرواہی خیانت کی پہلی سیڑھی ہے۔
5 امانت داری فراوانیٔ رزق کی چابی۔ خیانت تنگیٔ معاش و عدم سکون کا پھاٹک ہے۔
6 ہر وہ حد، جس سے گزر کر تم دوسرے انسانوں کے لیے کسی بھی طرح کی پریشانی کا باعث بن جاؤ وہ انتہاپسندی ہے۔
7 اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ خدا دولت سے کتنی نفرت کرتا ہے تو ان لوگوں کو دیکھیں جن کو خدا نے دولت دے رکھی ہے۔
8 امیروں سے نفرت کرنے والا غریب اور غریبوں سے نفرت کرنے والا امیر دونوں یکساں درجے کے مجرم ہیں۔
9 فخر یہ ہے کہ میں بھی ہوں، غرور یہ ہے کہ بس میں ہی ہوں۔ اگر فخر اپنی حد سے باہر نکل جائے تو فخر اور غرور میں فرق نہیں رہتا۔
10 خدا جس کو زمین پر عاجز کرنا چاہتا ہے اس سے عاجزی چھین لیتا ہے۔

11 سب سے بڑا حسد کسی کے ساتھ اپنا مقدر تبدیل کرنے کی خواہش کرنا ہے۔
12 جو شخص اپنی قسمت پر راضی نہیں ہوتا وہ خدا کی ناراضی مول لیتا ہے۔
13 جو تمہارے پاس ہے اس پر قناعت کرنا خدا کا شکر بجالانے کے مترادف ہے۔
14 مضبوط انسان دو (2) قسم کے ہوتے ہیں:

(i) وہ غریب جو دولت مندوں کی دولت دیکھ کر حسد نہیں کرتے اور نہ دولت کی حرص انہیں بے چین کرتی ہے۔
(ii) وہ دولت مند جو اپنی دولت پر غرور نہیں کرتے اور نہ اپنی دولت سے دوسروں کو خوف زدہ کرتے ہیں۔
15 دوسروں سے ستائش (تعریف) چاہنا اپنے اوپر عدم اعتماد کی علامت ہوتی ہے۔
16 لوگوں کے حق میں بُرا سوچنے والا پنے حق میں اچھا نہیں سوچ سکتا۔
17 طمع (لالچ) کرنا مفلسی، بے غرض ہونا امیری، بدلہ نہ چاہنا صبر ہے۔
18 کسی پر لعن طعن نہ کیجیے ایسا کرنے سے آپ کے اندر اخلاقی خرابیاں پیدا ہوجائیں گی۔
19 بخیل دنیا میں فقیروں جیسی زندگی گزارے گا اور آخرت میں امیروں جیسا حساب بھگتے گا۔
20 آدھے غم انسان دوسروں سے توقعات وابستہ کرکے خرید لیتا ہے۔

21 اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے اُمید نہ رکھو اپنے گناہوں کے علاوہ کسی سے نہ ڈرو۔
22 جو اﷲ تعالیٰ کا وفادار نہیں وہ کسی سے وفا نہیں کرسکتا۔
23 اﷲ تعالیٰ کے راستے پر چلنے والے کے لیے سب سے پہلا مقام توبہ ہے۔
24 عقل کی حد ہوسکتی ہے، لیکن بے عقلی کی نہیں۔
25 عقل کی فضیلت فضول کے ترک میں ہے۔

26 لایعنی (ایسا کام جس کا نہ دنیوی فائدہ ہو نہ اخروی) میں مشغول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس سے اعراض فرما رکھا ہے۔
27 شقاوت کی علامات تین (3) باتیں ہیں:
(i) علم دیا جائے عمل سے محروم کردیا جائے۔
(ii) عمل کی توفیق دی جائے اخلاص سے محروم رکھا جائے۔
(iii) صالحین کی صحبت میسر ہو لیکن ان کے احترام سے محروم ہو۔
28 طالب دنیا کو علم پڑھانا رہزن کے ہاتھ میں اسلحہ فروخت کرنا ہے۔
29 علم کا پڑھنا اور اس کا بڑھنا بے فائدہ ہے جب تک کہ اطاعت اور خوف ساتھ ساتھ نہ رہے۔
30 استاد کا احترام علم حاصل کرنے کی پہلی شرط ہے۔

31 نااہل کی تربیت کرنا ایسا ہے جیسے گنبد پر اخروٹ رکھنا۔
32 احمقوں کو نصیحت کرنا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنے کے برابر ہے۔
33 طالب علم دنیا سے محبت نہ رکھے کہ یہ مسلمان کا گھر نہیں، شیطان سے دوستی نہ رکھے کیونکہ وہ مسلمان کا رفیق نہیں، کسی کو تکلیف نہ دے کہ یہ مسلمان کا پیشہ نہیں۔
34 ایسا طریق تعلیم کس کام کا جو لڑکوں کو روزی کمانا تو سکھاتا ہے لیکن سلیقے سے زندگی بسر کرنا نہیں سکھاتا۔
35 اے دنیا کے لوگو! اﷲ(تعالیٰ) کو کبھی یہ نہ بتاؤ تمہاری مصیبت کتنی بڑی ہے۔ تم اپنی مصیبت کو یہ بتاؤ تمہارا اﷲ(تعالیٰ) کتنا بڑا ہے تم دکھ اور تکلیف سے رہائی پاجاؤگے۔
36 جو اکڑتے ہیں وہ اکھڑتے ہیں جو جھکتے ہیں وہ سلامت رہتے ہیں۔
37 شرافت سے جھکا ہوا سَر، نِدامت سے جھکے ہوئے سر سے بہتر ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *