میں مر رہا تھا….

تحریر :  نادر آختر ساحر

میں لمحہ لمحہ مر رہا تھا..
میرے اردگرد میرے چاہنے والے ساکت تھے،
خاموش تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ کب میری آخری ہچکی نکلے گی تاکہ وہ زار و قطار رو سکے..

میرے عزیزو.. میں انتظار کے عذاب سے واقف ہوں
میں تم سب کو زیادہ دیر انتظار نہیں کراؤں گا…
بس جلد ہی، چند لمحے.. چند سانسیں بس…
میں مر رہا تھا…

اور جیسے ٹرین رکنے کے وقت آہستہ آہستہ رکتی ہے
اسی طرح میری زندگی کی گاڑی اسٹیشن پر پہنچ چکی تھی..
یہی تھا حاصلِ زندگی..
میں مر رہا تھا…

میں ایک لمحے کیلئے اپنے عزیزو کو انتظار میں چھوڑ کر بہت پیچھے چلا گیا…
میں کھیل رہا تھا بچہ تھا..
اگرچہ میری سبھی خواہشیں پوری نہ ہوتی تھی
مگر میں خوش تھا..
میں مر رہا تھا..

مزید پڑھیں: رفیع رضا کی شاعری کا مختصر تجزیہ

دھیرے سے کسی نے ٹٹول کر دیکھا
کہ شاید آخری سانس نکل چکی ہے
تاکہ وہ رو سکے.. وہ آنسو جو آنکھیں کی دہلیز پہ تھے بہنا چاہتے تھے
کہ آنسوؤں کو بھی انتظار کی اذیت سے نہیں گزرنا تھا..
میں مر رہا تھا…

میں پھر لمحہ بھر کو
سانس کی دم توڑتی اذیت سے نکلا
میں نے دیکھا کہ میں جوان ہوں …
میں بہت اچھا تھا …

جوان، بہت خوش اور پہاڑوں کو بھی حاطر میں نہ لانے والا..
پھر میری جوانی نے مجھے اچھے سے روندھا اور مار دیا….
میں خوش تھا اپنی جوانی سے اگرچہ مطمئن نہیں تھا..
میری نظر اپنی محبوبہ پر پڑی جو مجھے اپنے پاس بلا رہی تھی..
جانے کہاں تھی کیسے پہنچی..
میں مر رہا تھا …

میری تڑپتی روح نے مزید تڑپنا شروع کیا..
میں ہجر کی اذیت سہنے کے قابل نہ تھا…
پاس کسی نے دعائیں پڑھی تاکہ میری روح نکل سکے آسانی سے..
میں مر رہا تھا…

مزید پڑھیں: جہات کتاب کی مہک ابھی باقی ہے

میری چند ساعتیں ختم ہو چکی تھی
میں مر رہا تھا..

آخری ہچکی….
لیکن
کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ میں…
جوانی میں مر چکا تھا…

اور یوں میں نے سب کے ساتھ عجیب مذاق کیا..
سب نے اپنے آنسو بہائے
لیکن

شاید وہ بہت دیر سے سمجھ گئے کہ
میں مرچکا تھا …..

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *