عمران گجر، جاوید سکندر اور ارسلان چندا کے ساتھ ملکر قتل ،اغوا برائے تاوان کرتے رہے .

رپورٹ : اختر شیخ

شہر میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں پرظلم اب بھی جاری ہے ، اسپیشل پارٹی چلانے والا عمران گجر ، سابق ایس ایچ او جاوید سکندراپنے کارندوں کے ساتھ مل کر شہریوں کو ماورائے قانون اٹھاتے اور بھتہ وصول کرتے ہیں . ایس ایچ او سولجز بازار جاوید سکندر نے 20 اور 21 جولائی کی درمیانی شب اپنے ایک جاننے والے عدنان جعفری کو کال کرکے تھانے بلوایا کہ یہاں کوئی لڑکے گرفتار ہیں ،اس سلسلے میں آپ بھی آئیں ، عدنان جعفری جاوید سکندر اورعمران گجر کو پہلے سے جانتا تھا اس لئے وہ تھانے اپنی گاڑی لیکر چلا آیا ، تھانے میں پہلے سے عمران گجر اور جاوید سکندر نے تین افراد کو تین روز پہلے سے اغوا کرکے رکھا ہوا تھا ، جن کی اہلیہ نے درخواست بھی دے رکھی تھی ۔

تھانے بلانے کے بعد عمران گجر اور جاوید سکندر نے عدنان جعفری کی جیب میں موجود 3 لاکھ 65 ہزار روپے نقدی ، شناختی کارڈ‌ ، دو اے ٹی ایم کارڈ ، لائنس یافتہ پستول ، مہنگے چمشے ، اصلی ایک لاکھ 50 ہزار روپے کی راڈو گھڑی اور نوٹڈ موبائل لیکر اسے بند کردیا . عدنان جعفری کے بھائی کامران حیدر جعفری نے اپنے بھائی کی بازیابی کے لئے ڈی جے ایسٹ کی عدالت سے رجوع کیا ، ڈی جے ایسٹ نے چھاپہ مارا جس میں عدنان جعفری کی ہونڈا سوک گاڑی بہادرآباد تھانے سے برآمد ہو گئی .

عدنان جعفری کی جانب سے آئی جی سندھ کو دی جانے والی درخواست کا عکس
عدنان جعفری کو جھوٹے مقدمے میں شامل کرنے کے خلاف آئی جی سندھ کو دی گئی درخواست کا عکس

جج نے سختی سے پولیس کو کہا کہ عدنان جعفری کہاں ہے ،جس کے بعد فورا بعد جاوید سکندر اور عمران گجر نے آئی بلا ٹالنے کے لئے عدنان جعفری کو 24 جولائی کو ڈکیتی کے مقدمہ میں عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ لے لیا .سولجر بازار تھانے میں 24 جولائی کو ہی مقدمہ بھی درج کیا گیا .اس کے بعد دیگر تھانوں میں پرانی تاریخوں میں 9 مقدمات چوری و ڈکیتی کے درج کرائے .جس کے بعد عدنان جعفری کا یکم ستمبر کو ضانت پر رہائی مل گئی .اور گلستان جوہر میں ایک ڈکتی کے مقدمہ میں عدالت نے بری کردیا کیوں کہ وہ بھی جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا تھا .

ارسلان احمد پر درج قتل کے مقدمہ کا سی آر او کا عکس

عدنان جعفری کے مطابق عمران گجر اور جاوید سکندر کا دست راست متحدہ کا سابق کارکنان ارسلان احمد چندا ہے . ارسلان پر مختلف تھانوں میں مقدمات بھی درج ہیں ، ارسلان کا اصل نام اس کے شناختی کارڈ‌ میں‌اعجاز احمد ولد چاند خان تھا ، مقدمات کے بعد اس نے پولیس سے دوستیاں کیں اور پولیس کے لئے وارداتیں کرنا شروع کیں ،جس کے بعد نے شناختی کارڈ میں ارسلان احمد ولد چاند خان کرلیا ہے . ارسلان احمد عرف چندا نے ضلع ایست میں قبضے کرنے کا گروہ بنا رکھا ہے .اس کا ماڈل کالونی میں موجود گھر بھی قبضے کا ہے جو اس نے ایک بیوہ خاتون سے قبضہ کیا تھا ، معاملہ تھانے پہنچا جس کے بعد ارسلان نے عمران گجر ، جاوید سکندر اور ایس ایس پی اظفر مہیسر کے ذریعے مدعی سے صلح کر لی تاہم قبضہ برقرار ہے .

قبضہ کیا جانے والا گھر اور ارسلان کی عمران گجر کی دی گئی پولیس گاڑیوں کی تصاویر

ارسلان کو ایک اعلی پولیس افسر نے دو پولیس اہلکار سیکورتی کے لیئے دے رکھے ہیں اور وہ اکثر موبائلیں لیکر قبضے کرتا ہے .اس وقت ارسلان کے پاس کرولا 2019 اور سوک 2017 ماڈل کی گاڑیاں موجود ہیں جبکہ باقی زمینیں اور گاڑیاں بیویوں کے نام پر رکھی ہوئی ہیں .

ارسلان کے گھر واقع ماڈل کالونی کے باہر کھڑی پولیس موبائل نظر آرہی ہے

قدرت کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے جس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ رائو انوار اپنے کیریئر کے آخری چند ماہ میں ذلیل و رسوا ہوا ، عمران گجر اور جاوید سکندر بھی نوکریوں سے گئے اور غلام اظفر مہیسر سے اب سندھ حکومت تنگ آکر اسے وفاقی حکومت کے پاس بھیجنے کی تیاری کررہی ہے اور ڈی آئی جی عامر فاروقی نے بھی وزیراعلی سندھ کا لب و لہجہ بھانپتے ہوئے اپنا پینترا بدل لیا ہے اور غلطی کی معافی مانگ لی ہے .

جس طرح ارسلان نے اپنی ظاہری وضع قطع میں واضح تبدیلی کی ہے اسی طرح شناختی کارڈ میں بھی تبدیلی کی ہے

بظاہر ’’یوسف ٹھیلے والا ‘‘ کے بیان پرہیڈ کانسٹیبل عمران گجر کی نوکری بھی ختم کی گئی ہے تاہم عمران گجر کراچی میں دوسرا چوہدری اسلم ،رائو انواربننے کی راہ پر گامزن تھا .عمران گجر کی برطرفی کے حکم نامہ کے متن میں درج ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل عمران گجر نے پولیس کی وردی کا غلط استعمال کیا ، محکمہ پولیس میں ایسے جرائم پیشہ و سازشی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ ہیڈ کانسٹبیل عمران گجر نے محکمہ پولیس کے قواعد وا ضوابط کی خلاف ورزی کی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کیس سے متعلق ہیڈ کانسٹیبل عمران کو موقف دینے کا پورا موقع فراہم کیا گیا تاہم اس نے معطلی کےدوران بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا ۔جاری کردہ لیٹر میں کہا گیا ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل عمران گجر 20 نومبر کو معطلی کے بعد سے غیر حاضر تھا اور اسے بھجوائے گئے اظہار وجوہ کے نوٹس بغیر وصول ہوئے واپس آگئے۔

ہیڈ کانسٹیبل عمران گجر کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے

عمران گجر کی قانون کی خلاف وزری کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جارہا ہے کہ اس نے شایدہی کبھی پولیس کی وردی پہنی ہو گی ،اکثر چوہدری اسلام کی طرح وہ کاٹن کے سوٹ پہنن کرمونچھوں کو تائو دیتا نظر آتا تھا .ضلع ایسٹ میں اس کا راج رہا ، بہادر آباد ، بریگیڈ جمشید کوارٹر ، سولجر بازار اور فیروز آباد کےتھانوں میں عمران گجر کا طوطی بولتا رہا .ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے کراچی بھر میں پولیس کی اسپیشل پارٹیاں ختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا تاہم عمران گجر اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکوڈ کو لیڈ کرتا رہا ہے ،

ارسلان بھی اسی گھر کے باہر کھڑا ہوا دکھائی دے رہا ہے

عمران گجر نامی پولیس اہلکار ہیڈ کانسٹیبل ہے ، انسپکٹر ہے ، اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکوڈ کا انچارج ہے ؟ ایسٹ زون میں کیا فرائض انجام دیتا ہے ، اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکوڈ میں عہدہ کیا ہے ؟ کتنے جوانوں کی نفری لے کر گھومتا ہے ؟ پیٹرول ڈیزل کتنا ملتا ہے ؟ اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکوڈ کے ضلعے ایسٹ میں اسٹریٹ کرائم کی شرح کیا ہے ،عمران گجر نامی پولیس اہلکار سمیت اس کے سرتاج غلام اظفر مہیسر اور ڈی آئی جی عامر فاروقی بھی جواب دینے سے قاصر ہیں .

عمران گجر نے ایسٹ زون کے اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکوڈ کے ذریعت 9 اکتوبر 2019 کو سولجر بازار سے 111 افراد کے قتل میں ملوث ٹارگٹ کلر عبدالسلام کو گرفتار کیا ، یکم نومبر کو ایم کیو ایم لندن کے ٹارگٹ کلر سلیم قریشی کو گرفتار کیا ، یہ ٹارگٹ کلر 29 افراد کے قتل میں ملوث ہے ، ان افراد کو گرفتار کرکے کیا مقدمات درج کیے گئے ، ایسٹ زون کے چیمپئن افسران مقدمات کی ایف آئی آر فراہم کرنے سے انکاری ہیں ، ان گرفتاریوں کے بعد ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسر نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں خطرناک ٹارگٹ کلر یوسف عرف ٹھیلے والے کو گرفتار کیا ، پولیس کی پریس ریلیز بتاتی ہے ، یہ خطرناک ٹارگٹ کلر 96 افراد کو قتل کرچکا ہے ، اس ‘‘ٹھیلے والے’’ ٹارگٹ کلر کو سندھ رینجرز نے 24 اگست 2017 کو گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا ، 96 افراد کا ٹارگٹ کلر سندھ رینجرز کی آنکھ میں دھول کیسے جھونک گیا اس کا علم تو نہیں لیکن جب اس ٹارگٹ کلر کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تو ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ میر پور خاص میں روپوشی کاٹ رہا تھا ، بچوں کی یاد آئی تو سندھ رینجرز کو گرفتاری دے دی ، خطرناک ٹارگٹ کلر رینجرز کو گرفتاری دیتا ہے اور پھر دھرلیا جاتا ہے یہ ایک حیران کن بات ہے ، یوسف ٹھیلے والا عجیب ٹارگٹ کلر ہے جس سے وزیر اعلی سندھ بھی ملتے ہیں .البتہ ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسر اس ٹارگٹ کلر کے خلاف درج ایف آئی آر بھی دینے سے قاصر ہیں ۔

ایسٹ زون پولیس کو بھتہ دینے والے ایک شہری احمد شاہ نے آئی جی سندھ کلیم امام اور ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کو ایک درخواست ارسال کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایس ایچ او سولجر بازار اور ہیڈ کانسٹیبل عمران گجر نے حبس بے جا میں رکھا اور بھتہ وصول کرکے چھوڑ دیا تھا .سادہ لباس اہلکاروں نے سولجر بازار سے چار افراد کو حراست میں لیا، چرس فروخت کرنے کا الزام عائد کیا اور لاکھ روپے بھتہ وصول کرکے چھوڑ دیا .عمران گجر کو انکائونٹر کرنے کی دھمکیاں دینے کا بڑا شوق ہے اور زیر حراست افراد کو ننگا کرکے ویڈیو بنانے کا مشغلہ بھی ہے . اس درخواست میں پولیس اہلکار ندیم گجر ، امان اللہ ، محمد وقاص اور آغا کا ذکر کیا گیا ہے ، یہ درخواست گزار انصاف کا متلاشی ہے ۔

شہری کی جانب سے عمران گجر کے خلاف دی گئی درخواست کا عکس

ایسٹ زون کے چیمپئن پولیس افسر کو پریس کانفرنس کرنے کا بہت شوق ہے ، گزشتہ سال آئس کرسٹل کے دھندے میں ملوث ایک گروپ کو گرفتار کیا گیا ، اس گروپ کی نشاندہی کرنے والے مخبر نے رقم کا مطالبہ کیا تو بہادرآباد تھانے میں عمران گجر نامی پولیس اہلکار نے ننگا کرکے ویڈیو بنائی ، تشدد کا نشانہ بنایا ، منشیات اور غیر قانونی اسلحے کا مقدمہ درج کیا ، عادل نامی پولیس اہلکار نے تمام ڈیل کی ، اس مخبر کے پاس تمام شواہد موجود ہیں ، یہ درخواست گزار چار ماہ بعد جیل کاٹ کر گھر آچکا ، اگر مخبری کی سزا جیل اور جعلی مقدمہ ہے تو تو ٹھیک ورنہ یہ مخبر انصاف کا منتظر ہے ۔

ضلع ایسٹ کی ایک اسپیشل پولیس پارٹی نے مبینہ طور پر چھالیوں کے گودام کو خالی کیا اور 22 لاکھ روپے کی چھالیاں فروخت کردیں ، ایک اور گودام پر چھاپہ مار کر 7 سو کلو گرام چھالیہ برآمد کیں 400 کلو گرام چھالیہ فروخت کردیں اور چھالیوں کا کاروبار کرنے والے شخص کو مبینہ طور پر 6 لاکھ روپے لے کر چھوڑ دیا ، چھالیوں کا کام غیر قانونی ہے تو گرفتار کیوں نہ کیا گیا اور پیسے لے کر کیوں چھوڑ دیا گیا اس حوالے سے بھی اعلیٰ پولیس افسران بتانے سے گریزاں ہیں البتہ پولیس پارٹی کو رقم فراہم کرنے والے اعلیٰ افسران کے روبرو پیش ہونے کیلئے تیار ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

عمران گجر، جاوید سکندر اور ارسلان چندا کے ساتھ ملکر قتل ،اغوا برائے تاوان کرتے رہے .” ایک تبصرہ

  1. پولیس کے لوگوں نے اس بے چارے شخص پر ظلم کیا تھا اوراس سید زادے کی بدعا لگی کہ ایک پولیس والا نوکری سے گیا ، عمران گجر کو نوکری سے نکالا گیا ، دوسرے کو عہدے سے ہٹایا گیا اور ایس ایس پی کی بھی سرزنش کی گئی اور ڈی آئی جی صاحب بھی معافی مانگتے نظر آئے ۔
    پولیس والوں کو چاہئے کہ وہ عدنان جعفری سے معافی مانگیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں