ّعلامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید ایک عہد ساز شخصیت

کالم : مفتی محمد طاہر مکی

علامہ ڈاکٹر خالدمحمود سومرو 1958ء میں لاڑکانہ کے ایک ”عاقل“نامی گاؤں میں سندھ کے معروف عالم دین اور ہزاروں شیوخ الحدیث کے استاد مولاناعلی محمد حقانی کے گھر پیداہوئے،ابتدائی دینی اور پرائمری تعلیم اپنے والد سے حاصل کرنے کے بعد 1974ء میں میٹرک اور 1976ء میں انٹر پاس کیا،جسکے بعد چانڈکامیڈیکل کالج لاڑکانہ سے MBBS کی ڈگری حاصل کی اور کئی سال تک لاڑکانہ میں ہی اپنی نجی ہسپتال سے عوامی خدمت میں مشغول رہے،لیکن جب ایم آر ڈی کی تحریک چلی اور اسمیں سندھ بھر میں قائدانہ کردار اداکیا اور نو ماھ سینٹر جیل سکھر میں رہ کر باہرنکلے تو ہسپتال کی خدمات کو خیرآباد کہ کر دینی خدمات میں مشغول ہوکر رہ گئے،اسی دوران اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی سے تربیتی کورس میں اول پوزیشن حاصل کرنیکے اعزازمیں انہیں اعزازی عمرہ بھی کرایا گیا.

ایم آر ڈی کے تحریک کے بعد جمعیت علماء اسلام (ف) کے پلیٹ فارم سے ڈاکٹر خالد محمود سومرونے سیاسی میدان میں باقاعدہ قدم رکھا اور جمعیت علماء اسلام سندھ کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے اورتادم ِ شہادت اسی عہدے پر فائز رہے،24 سال تک جنرل سیکریٹری کے عہدے پر فائز رہنے والے علامہ ڈاکٹر خالد محمودسومرو نے دومرتبہ محترمہ بے نظیر بھٹوکیساتھ کانٹے کا انتخابی مقابلہ کیا اور 1996ء میں محترمہ کے مقابلے میں 28000 ووٹ لئے،جبکہ 2006 سے 2012ء تک سینیٹ کے ممبربھی رہے اور سینیٹ میں اسلام کے حقوق کیساتھ ساتھ سندھ کے حقوق کیلئے جس اندازمیں ڈاکٹر شہید نے آواز اٹھائی .

تاریخ میں ایسی جرأت کسی ممبر آف سینیٹ نے نہیں کی، سندھ کے پسماندہ علاقوں میں پانی بجلی وغیرہ کیلئے تگ دوکرکے کئی گاؤں میں گیس اور بجلی کا انتظام کروایا، اللہ پاک نے علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو جو بے پناہ خصوصیات سے نوازاتھا انمیں ایک انکی مسندِ خطابت بھی تھی وہ ایک انتہائی جذباتی اور شعلہ نوا، شیریں بیاں خطیب بھی تھے،انکی آواز میں اللہ نے ایسی گرج رکھی تھی کہ وہ عام انسانی آواز کی لچک میں بات کرنے سے ہی قاصر تھے،کئی ایک مقامات پر میں خود انکا ہمسفر رہا اور ہماری ٹنڈوآدم ختم نبوت کانفرنس میں بھی انہوں نے یہ جوہر دکھائے کہ جب وہ خطابت کے دوران اپنے جوش خطابت میں شیرکی گرج میں حکومت کو للکار نے لگے تو ایکوساؤنڈ جواب دے گیا اور دھواں اٹھنے لگا .

الغرض یہ انکے گلے کا کمال اور اللہ کی عطاء تھی کہ دوسے تین گھنٹے اورحددرجے کے جوش میں خطاب کرکے بھی تھکتے نہ تھے، نوازشریف کی پہلی حکومت نے جب پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ ختم کیاتو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے حکومت کے خلاف ایک تحریک چلائی گئی جسمیں مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے امیر علامہ احمد میاں حمادی،مولانا جمال اللہ الحسینی،مفتی حفیظ الرحمان رحمانی،مولانا عبدالغفورحقانی کیساتھ علامہ شہید اور میں ساتھ تھے دن میں چار چار مقامات پر بھی خطابات ہوئے لیکن سلام ہے ڈاکٹر کی آواز اور اسکے گلے کو بیٹھنے،تھکنے کا نام ہی نہ لیتے؟علامہ ڈاکٹر خالدمحمود سومرو نے سب سے پہلے کالاباغ ڈیم سے متعلق سندھ بھر کے مفتیوں سے رابطہ کیا اور ایک مدلل اور متفقہ فتویٰ حاصل کیا جسمیں تمام مفتیان کرام نے لکھا کہ کالاباغ ڈیم بنانا جائز نہیں ، پھراس فتویٰ کو لیکر سندھ میں سب سے بڑا احتجاج ، مظاہرہ اور دھرنا بھی علامہ ڈاکٹر خالدمحمودسومرو نے دیا.

سیاسی،مذہبی قیادت انہیں انتہائی عزت اور وقار کی نگاہ سے دیکھتی تھی، اللہ پاک نے بہت سے کمالات اور خوبیاں علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو میں رکھی تھیں کمال کا انسان تھا کہ 55سال کی عمر اور ایک بال سر یا داڑھی میں سفید نہ تھا،بلاکا حافظہ رکھنے والے شہید اسلام1988ء سے لیکر تادم شہادت ہر سال رمضان المبارک کے آخری ایام حرمین شریفین میں گزارتے تھے، 50سرکاری اور غیر سرکاری ڈگریوں سے نوازاگیا تھا،جبکہ امریکہ،برطانیہ،یورپ،عراق،مصر،فرانس،چین،سوئیزرلینڈ،بنگلہ دیش،انڈیا،سنگاپور،ساؤتھ افریقہ ، شام ، دوبئی ، ھالینڈ سمیت 60 سے زائدممالک کے سرکاری اور غیر سرکاری دورے بھی کئے.

جامعہ ازہر مصر سے اعزازی ڈگری حاصل کی جبکہ جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن میں مفتی نظام الدین شامزئی سے شہادت العالمیہ کی سندحاصل کی، اللہ کوجو منظور ہوتاہے اسے کوئی ٹال نہیں سکتا جس دن انکی شہادت ہوئی اس سے اگلے دن ہی انکے ایک بیٹے عطاء الرحمان کی شادی تھی تمام تر انتطامات مکمل تھے،جس وقت گھر سے نکل رہے تھے انکے صاحبزادگان نے روکا کہ نہ جائیں آپ جاتے تو رہتے ہی ہیں ایک پروگرام میں نہ گئے تو کوئی فرق نہیں پڑیگا جس پر شہید اسلام نے کہا کہ نہیں میں اتنا عرصہ قبل انہیں تاریخ دی ہے نہ جانا وعدہ خلافی ہے جس پر انکے صاحبزادے نے مذاق میں کہا کہ ٹھیک ہے بابا جارہے ہو تو اب شادی کے بعد لوٹ کر آنا جس پر شہید نے کہا کہ ہاں بیٹا انشاء اللہ شادی کے بعد ہی واپس آؤنگا لیکن کس کو کیا پتہ تھا کہ ایسا ہوکر رہیگا اور ہوایہ کہ 29 نومبر2014ء کوسکھرگلشن اقبال میں ان ہی کا قائم کردہ مدرسہ حقانیہ کی مسجدمیں فجرکی سنت اداکرتے ہوئے انہیں شہید کردیا گیا.

سبحان اللہ ساری زندگی دین کی خدمت کی اور ہر تقریر جو یہ کرتے تھے اسکی دعامیں یہ دعا ضرور کرتے تھے کہ یا اللہ مجھے شہادت کی موت دینا سبحان اللہ کیسی دعااللہ نے قبول فرمائی قابل رشک زندگی اور موت پانے والا یہ شخص آج ہمارے بیچ نہیں لیکن سندھ میں آج بھی تمام ہونیوالے جلسوں جلوسوں میں انکی کمی حددرجے کی محسوس کی جاتی ہے،پانچ حملے اس حملے سے قبل ہوچکے تھے لیکن یہ آخری حملہ ثابت ہوا،اسے کہتے ہیں ”سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت“۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *