جمعہ کے خطبات کے حوالے سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں : مفتی محمد زبیر

کراچی : اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر مذہبی اسکالر مفتی محمد زبیر کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان نے ایک ملاقات میں چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہمارے ملک میں خواتین کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا ، آپس کے جھگڑے عام ہو گئے ، حقوق العباد پر توجہ نہیں ہے ،لوگوں کے مالی معاملات صاف نہیں، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ،ناجائز منافع خوری، اسراف، وغیرہ عام ہے ۔

ان جیسے معاشرتی موضوعات پر بھی علما اگر تقاریر (جس میں جمعہ ہر گز خاص نہیں بلکہ گلی محلے کی دینی تقریبات، سماجی فنکشنز، جمعہ ، عام جلسوں ، مساجد و مکاتب ) میں بات کریں تو اس سے معاشرتی فائدہ ہو گا یہ تجویز مختصر انداز میں چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے  رمضان میں منعقدہ اجلاس کے آخری دو منٹ میں رکھی ۔

جس پر تمام ممبران نے تحسین کی ، اور متفقہ طور پر فہرست بنانے کی زمہ داری مجھ پر عائد کی گئی ۔ جس کے بعد میں نے محنت و خلوص کے ساتھ ایک فہرست تیار کی ،پرسوں کے اجلاس میں تقریباً پانچ گھنٹوں تک دیگر موضوعات ( زینب الرٹ بل، بلوغت کی عمر، اشتہارات میں مقدس اسما کی اشاعت، اور کئ دیگر خالص فقہی موضوعات پر مفصل گفتگو ہوتی رہی اور مجھے ایک طرح کا شکوہ پیدا ہونے لگا کہ میری تیار کردہ فہرست پر تو کوئی بات ہی نہیں ہوئی ، اسے اتنی بھی اہمیت نہیں دی جا رہی بالآخر آخر کے شاید دو تین منٹ میں اس فہرست پر مختصرا یہ بات کی گئ کہ جی اچھی فہرست بنی ہے ۔

مذید پڑھیں :جامعہ اردو کے مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کیلئے تیاریاں مکمل

دیگر حضرات بھی اگر موضوعات دینا چاہیں تو دیدیں چنانچہ کئ حضرات نے اپنے موضوعات بھی دئیے جسکو مزید دیکھا جائیگا ۔ بس اتنی سی بات تھی ! شروع سے اب تک کوئی جبر ، یا خطبائے کرام کو پابند کرنے ، یا سرکاری خطبہ ، یا ائمہ پر نافذ کرنے کی دور دور تک کوئی بات کہیں نہیں آئی بلکہ اس کے برعکس ہربار از خود وضاحت پہلے ہی کر دی گئ تھی کہ یہ اختیاری ہیں ۔

مفتی محمد زبیر کا کہنا ہے کہ اس کے اگلے روز سوشل میڈیا پر بعض لوگوں نے منفی انداز میں اس کو جبریہ بنا کر پیش کر دیا ۔جس کے بعد احتیاطا دوبارہ کونسل کے چئیرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز سے ملاقات کی اور پریس ریلیز بنائی گئی ۔ جس کو ڈاکٹر انعام اللہ  “کونسل کے تجویز کردہ یہ موضوعات اختیاری و ترغیبی ہیں جبری نہیں “ کے عنوان سے جاری کیا ہے ۔

مفتی محمد زبیر کا کہنا ہے کہ بالفرض حکومت کوئی چیز جبرا لاگو کرتی بھی ہے ، جس کا پاکستان جیسے معاشرہ میں کوئی امکان نظر نہیں آتا تو اس کیلئے اسے کونسل سے کسی اجازت و سفارش کی کوئی ضرورت نہیں وہ ویسے بھی کر سکتی ہے ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ ایسے ایشوز پر بولنے سے قبل تحقیق کر کی جاتی تو بڑے بڑے لوگوں سے اس پر گفتگو کرنے سے غلطی نہ ہوتی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *