مذہبی تعلیم اور آزادی

تحریر : محمد دین جوہر

کیا یہ عجائبات میں سے نہ ہو گا کہ ہمارے علمائے کرام بھی آزادی اور خودمختاری کی بات کریں؟ زہے نصیب۔ لیکن قوم کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے علمائے کرام ملتِ اسلامیہ اور عامۃ المسلمین کی آزادی اور خودمختاری کی بات نہیں کر رہے۔ یہ پٹس ابھی ان کے اپنے گھر میں پڑی ہے اور یہ آوازیں ادھر سے ہی آتی ہیں۔

ان کی آزادی کا تصور یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے جامعۃ الرشید کراچی کو چارٹر دے کر مدارس کی آزادی کے خلاف ”سازش“ کی ہے، اور اس چارٹر کے خلاف مزاحمت کا بڑا نعرہ یہی آزادی اور مدارس کی خودمختاری کا ہے۔ ہو سکتا ہے ہمارے علمائے کرام اس آزادی اور خودمختاری کا کوئی بیانیہ بھی ترتیب دے رہے ہوں، تو اس میں مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات شامل کرنا آئندہ کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔

ہمارے علمائے کرام آزادی کو ایک ملی اور تہذیبی تصور کے طور پر سامنے نہیں لا رہے بلکہ ایک طبقے کے مفادات کے دفاع میں اسے ایک آلاتی جہت سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس لیے یہ کوئی تصور نہیں ہے محض سیاست بازی ہے اور مذہب کے آلاتی استعمال میں آزادی کے تصور کی آڑ لی جا رہی ہے ۔ اگر ان سے گزارش کی جائے کہ اس آزادی کی کوئی شرعی یا علمی دلیل بھی تو ہونی چاہیے کیونکہ علمائے کرام ہی کی زندگیاں شریعت پر ڈھلی ہوئی ہیں تو یہ سوال ان کو بہت ناگوار گزرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آزادی اور خودمختاری کا یہ تصور کوئی جدید تصور ہے یا اس کی نوعیت شرعی ہے؟ اور اس کی تفصیلات کیا ہیں؟

علمائے کرام کا مطالبۂ آزادی ایک state of exception (اعزازِ استثنا) سے پیدا ہو سکتا ہے جو ان کو مذہب کی نمائندگی یا مذہب پر صرف عمل کرنے کی وجہ سے حاصل ہے، اور یہ اعزاز انہوں نے خود ہی خود کو بخشا ہے۔ اس موقف کی شرعی دلیل کیا ہے؟ کیا انسانی معاشروں میں اعزازِ استثنا کسی خاص طبقے کو حاصل ہو سکتا ہے؟ اس کی شرائط اور دلائل کیا ہیں اور اسے شریعت سے کیونکر مستدل کیا جا سکتا ہے؟ پھر یہ کہ اس آزادی اور خودمختاری سے عامۃ المسلمین کو محروم رکھنے کی بھی کوئی شرعی، انسانی یا علمی دلیل ضروری ہے یا نہیں؟

اہم سوال یہ ہے کہ کیا مذہبی تعلیم کے لیے آزادی اور خودمختاری ضروری ہے؟ تو یہ سوال ہی جعلی اور غیرانسانی ہے کیونکہ اگر آزادی تعلیم کے لیے ضروری ہے تو پھر مذہبی تعلیم کے لیے بھی ضروری ہو گی۔ تعلیم کے لیے آزادی اور خودمختاری کا غیرضروری ہونا اور مذہبی تعلیم کے ضروری ہونا ایک غیرانسانی اور غیرعلمی موقف ہے۔ آخر وہ کون سی منطق ہے جس کے ذریعے عامۃ المسلمین کو اس حق آزادی سے محروم رکھا جائے اور اسے صرف ایک طبقے سے خاص کر دیا جائے اور پھر اسے مذہبی لبادہ بھی اوڑھایا جائے؟

جس طرح مذہبی تعلیم ہر مسلمان بچے کا حق اور معاشرے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح مطلق تعلیم بھی بچے کا حق اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ تعلیم میں یہ دوئی علمائے کرام کو راس آئی ہے اور اسی وجہ سے وہ معاشرے پر اپنا حق جتلاتے ہیں۔ تعلیم کی دوئی ہی انسان کے شعور و انفس کی دوئی ہے۔ علمائے کرام نے اس غیرانسانی اور غیر فطری صورت حال کو کیونکر قبول کیا ہوا ہے؟ اور عامۃ المسلمین کے سنگین مسئلے کو اپنے طبقاتی مفاد کے لیے کیوں استعمال کر رہے ہیں؟ اس تہذیبی مسئلے کا حل نکالنا اہل علم کی ذمہ داری ہے یا اہل ریاست کی؟ مذہبی تعلیم کی سیاست مسلمانوں کے اس سنگین مسئلے کو بالجبر باقی رکھنے کی کوشش ہے، اس پر ہمارے علما کیا فرماتے ہیں؟

ہم جدید ریاست کو ایک عفریت (leviathan) سمجھتے ہیں، اور یہ نام جدید سیاسی افکار ہی نے اسے دیا ہے، اور ہر انفرادی ریاست طاقت اور سرمائے کے عالمگیر نظام کا ایک یونٹ ہے۔ لیکن جدید دنیا میں انسانی معاشرہ اپنی حیات و بقا کے لیے اسی عفریت پر مکمل منحصر ہے اور یہ صورت حال ہم نے پیدا نہیں کی ہے بلکہ ہم پر وارد ہے ۔

ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ہمارے علمائے کرام اس عفریت کے خلاف مزاحم ہیں۔ تو اس عفریت سے صرف اپنے معاملات بالا ہی بالا طے کرنا اور عامۃ المسلمین کو فراموش کر دینا کیونکر روا ہو سکتا ہے؟ کیا قومیں آزادی اور خودمختاری کے ایسے کسری اور آلاتی تصورات کے ساتھ زندہ رہ سکتی ہیں؟ اور کیا انسانی ضمیر اس سازباز کی اجازت دیتا ہے کہ عامۃ المسلمین کو نظرانداز کر کے ریاست سے صرف اپنے ہی معاملات طے کیے جائیں اور پھر انہیں اسلامی بھی کہا جائے؟

مذہبی تعلیم کے بارے میں علمائے کرام کا موقف شدید اضطراب کا شکار ہے۔ وہ بتدریج جدیدیت کے سامنے سپرانداز ہو رہے ہیں، مثلاً وفاق المدارس ایک امتحانی بورڈ ہی تو ہے، الحاق، جدید affiliation ہی تو ہے، کتابیں جدید نصاب ہی تو ہے، پرچے مرکزی paper-setting کا چربہ ہی تو ہے، شہادۃ سرٹیفیکیٹ ہی تو ہے ، نظام الاوقات جدید ٹائم ٹیبل ہی تو ہے، مضامین کی تقسیم جدید division of labour ہی تو ہے، سالوں کی ترتیب جدید تعلیمی سال کا چربہ ہی تو ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ تو سب اسلامی ہو گئیں کیونکہ ان کے نام عربی یا اردو ہو گئے ہیں اور چارٹر غیر اسلامی ہے کہ اس کا ابھی اردو ترجمہ نہیں ہوا ! دوسری طرف مذہبی سیاسی ذہن پاکستانی مسلم معاشرے میں قائم ریاست کو قبول کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہے، اور اس کو delegitimize کرنے کے مذہبی اور غیرمذہبی وسائل جمع کرتا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مذہبی تعلیم کے مرکز میں قائم اس وجودی تضاد کا علمائے کرام کیا حل تجویز فرماتے ہیں؟

تاریخ کے موجودہ لمحے میں ہمارے علمائے کرام کے مذہبی تعلیمی تصورات کی عام مسلم معاشرے سے بعینہٖ وہی نسبتیں ہیں جو قیام پاکستان سے قبل مذہبی سیاسی تصورات کی عام مسلم سماج سے تھیں۔ کیا یہ نسبتیں اتفاقی ہیں یا ارادی ہیں؟

موجودہ صورت حال میں جو اصل مسئلہ ہے اس کا کوئی ذکر نہیں کرنا چاہ رہا۔ جدید ریاست سے آزادی اور خودمختاری کارِ علم کے لیے ضروری ہے۔ اگر یہ علم تحقیقی نوعیت کا ہو، تراث جمع کرنے کا ہو، کلاسیکل علم کو مرتب کرنے کا ہو تو پاکستانی ریاست اس میں معاون ہو سکتی ہے، اور پاکستانی ریاست نے محدود وسائل کے باوجود اس کے زبردست مواقع بھی پیدا کیے ہیں جو اہل علم کی نااہلیت اور جاہ طلبی کی وجہ سے ضائع ہو گئے ۔

لیکن نظری اور فکری علوم کے حوالے سے ہر ریاست بہت حساس ہوتی ہے، اور اس پر نظر رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے مذہبی اہل علم نے گزشتہ پون صدی کی آزادی میں کون سا علم پیدا کیا ہے یا اس کی تخلیق و تشکیل کے لیے کون سی نیو رکھی ہے؟ اس کا جواب چونکہ مکمل نفی میں ہے اس لیے ہمارے علمائے کرام کا آزادی اور خودمختاری کا دعویٰ اور مطالبہ بالکل بے بنیاد ہے اور قوم کے سیاسی حقوق سے مکمل اغماض کا آئینہ دار ہے۔ اس معاملے میں بھی پاکستانی ریاست نے زیادہ دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے کہ ایک مذہبی ادارے کی آزادی اور خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو چارٹر کے ذریعے قانونی بنیاد فراہم کر دی ہے۔ اب یہ جامعۃ الرشید کراچی کے ارباب اختیار پر ہے کہ وہ اس آزادی کو مذہب اور اہل مذہب کی خدمت میں کیونکر بروئے کار لاتے ہیں۔
۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *