سندھ EOBI کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی منظوری دے دی گئی

کراچی : حکومت سندھ نے ایک جانب EOBI کے خلاف ایک خط لکھ کر افسران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کنٹری بیوشن کے نام پر مالکان کو حراساں کرتے ہیں ۔

جب کہ دوسری جانب سندھ کابینہ نے سندھ ایمپلائیز اولڈ ایج بینفٹ انسٹیٹیوٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے ۔ جس میں وزیر محنت کو بطور صدر شامل کیا گیا ہے ۔

جب کہ سیکریٹری محنت عبدالرشید سولنگی ، سیکرٹری محکمہ خزانہ اور سیکرٹری انڈسٹریز کو بطور ممبران بورڈ میں شامل کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ سندھ حکومت نے اپنی مرضی کے مالکان کو ممبر بنایا ہے جن میں مسعود نقی، محمود عرفان ، جنید مکڈہ کو ممبر بنایا گیا ہے ۔

مذید پڑھیں :تھانہ جمیشد کوارٹر : اینٹی تھیفٹ سیل کی ایما پر غیر قانونی کنکشن کرنے والے 6 کارندے گرفتار

جب کہ محنت کشوں کے نمائندوں کے طور پر بھی اپنی مرضی کے لوگوں کو شامل کیا ہے تاکہ حکومت کی ایما پر ہی کام کیا جائے ۔ جن میں محمد حسن قاضی ، محمد ریاض عباسی ، فرحت پروین اور حسین بادشاہ کو بنایا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ عبدالرشید سولنگی گزشتہ کئی عرصہ سے محکمہ محنت میں تعینات ہیں اور وہ کچھ دنوں کے لئے سیٹ سے ہٹتے ہیں اور واپس اسی سیٹ پر آ جاتے ہیں ۔ عبدالرشید سولنگی سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی ، ورکر ویلفیئر بورڈ ، ورکر ویلفیئر فنڈ ، ڈائریکٹوریٹ لیبر کے افسران سے وزیر محکمہ محنت کے نام پر سسٹم کی مد میں پیسے لیتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :کراچی : EOBI میں 2007 سے 25 افسران کی غیر قانونی بھرتی کا انکشاف

اس حوالے سے نمائندہ الرٹ نے عبدالرشید سولنگی سے رابطہ کیا تاہم انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *