حکومتِ سندھ کا مالکان کی ایما پر EOBI افسران کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

کراچی : حکومت سندھ صوبہ سندھ کی آجروں کی تنظیموں کی جانب سے مداخلت کی اپیل پر ای او بی آئی کے بدعنوان فیلڈ افسران کی جانب سے آجر برادری کو غیر ضروری طور پر ہراسان کرنے سے روکنے کے لئے میدان میں آ گئی ہے ۔

اس سلسلہ میں سیکرٹری حکومت سندھ کی جانب سے 21 مئی کو سیکریٹری وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل حکومت پاکستان اسلام آباد کو ایک خط ارسال کیا گیا ہے ۔ جس میں صوبہ سندھ میں تعینات ای او بی آئی کے افسران اور عملہ کی جانب سے آجر برادری کو غیر ضروری طور ہراساں کئے جانے کے ضمن میں ای او بی آئی کے حکام بالا کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے اور سندھ میں تعینات ای او بی آئی کے افسران اور عملہ کو اجر برادری کو غیر ضروری طور پر ہراسانی روکنے کے لئے تحریری احکامات جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے ۔

خط میں مزید کہا گیا ہے صوبہ میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروباری ماحول کو پروان چڑھانے کے لئے آجر برادری کے خلاف غیر ضروری ہراسانی کا سلسلہ روکنا لازمی ہے اور اس مسئلہ کے فوری حل کے لئے ای او بی آئی کو ترجیحی بنیادوں پر آجر برادری کی مناسب دادرسی کرنے کی ضرورت ہے ۔

مذید پڑھیں :جامعہ اردو : 2013 اور 2017 کی لیکچرار اسامیوں کیلئے 1700 خطوط تیار

ذرائع کا کہنا ہے کہ ای او بی آئی کے فیلڈ افسران کی جانب سے صوبہ کی آجر برادری کو غیر ضروری طور پر ہراساں کرنے کی بنیادی وجہ اس وقت ای او بی آئی میں وفاقی وزیر سے لے کر وفاقی سیکریٹری، بورڈ آف ٹرسٹیز اور کل وقتی چیئرمین کی عدم تعیناتی ہے ۔ اس ابتر صورتحال کے باعث ادارہ سخت انتظامی اور مالی بحران میں مبتلا ہے ۔

اس وقت ادارہ کو ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے ۔ ادارہ میں تمام کلیدی عہدوں پر مختلف سرکاری محکموں سے خلاف ضابطہ طور پر ڈیپوٹیشن پر آکر تعینایت ہونے والے اعلیٰ افسران تعینات ہیں ۔ ادارہ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ڈائریکٹر جنرل آپریشنز محمد اعجاز الحق نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے اپنا دفتر ہیڈ آفس کراچی کے بجائے لاہور میں قائم کر رکھا ہے اور انہوں نے صوبہ سندھ اور کراچی سے تعلق رکھنے والے مقامی سینئر افسران کو ہٹاکر ملتان فیصل آباد اور مظفر گڑھ سے اپنے چہیتے انتہائی جونیئر افسران کو بی اینڈ سی آفس عوامی مرکز کراچی کے ریجنل آفسوں میں نہایت کلیدی عہدوں پر تعینات کیا ہوا ہے ۔

جن میں ڈاکٹر جاوید شیخ کو ہٹاکر اپنے چہیتے افسر مراتب علی ڈوگر کو ملتان سے کراچی بلاکر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آپریشنز عوامی مرکز، نجم الدین شیخ کو ہٹاکر فیصل آباد سے بدنام زمانہ کرپٹ افسر مبشر رسول کو ریجنل ہیڈ بن قاسم اور ایک اور بدنام زمانہ کرپٹ افسر مزمل کامل ملک کو ریجنل ہیڈ کراچی سنٹرل، عسکری اداروں سے تعلق ظاہر کرنے والے سیالکوٹ کے وقاص چوہدری کو ڈپٹی ریجنل ہیڈ کریم آباد تعینات کیا گیا ہے ۔

مذید پڑھیں :تھانہ جمیشد کوارٹر : اینٹی تھیفٹ سیل کی ایما پر غیر قانونی کنکشن کرنے والے 6 کارندے گرفتار

ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ افسران سندھ اور کراچی کے مخصوص کاروباری حالات اور ماحول سے قطعی طور سے ناواقف ہیں اور آجران کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور اپنی کارکردگی کو بڑا چڑھا کر ظاہر کرنے کے لئے آجر برادری کو دھڑا دھڑ بھاری مالیت کے ڈیمانڈ نوٹس بھیج رہے ہیں ۔

دوسرے یہ کہ محمد اعجاز الحق نے بھی ادارہ میں اپنی تعیناتی کو مستقل بنانے اور موجودہ حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ملک بھر میں فیلڈ آپریشنز کے افسران کو آجروں کے لئے بھاری مالیت کے ڈیمانڈ نوٹس جاری کرنے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں ۔ جس کے باعث ای او بی آئی کے فیلڈ آپریشنز کے افسران اپنے اعلیٰ افسران کے سامنے اپنی حسن کارکردگی ظاہر کرنے کے لئے ای او بی آئی کے قانون 1976ء کے نام پر آجران اور مالکان کو بھاری جرمانوں اور ان کے کارخانوں اور املاک کو سربمہر کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں اور انہیں ہراساں بھی کر رہے ہیں اور ان آجران سے جوڑ توڑ کر کے ان اداروں کے رجسٹرڈ ملازمین کے اکاؤنٹ کے بجائے بے نامی انداز میں کنٹری بیوشن وصول کر رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں :واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل انچارج راشد صدیقی NAB کے شکنجے میں آ گیا

جس سے وقتی طور پر ای او بی آئی کا مالی ہدف تو حاصل ہوجاتا ہے اور اعلیٰ افسران کی نظروں میں فیلڈ افسران کی واہ واہ ہو جاتی ہے لیکن دراصل اس بے نامی کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے باعث ای او بی آئی کے ریکارڈ میں ملازمین کے نام اور کوائف موجود نہ ہونے کے باعث مستقبل میں ان رجسٹرڈ اداروں کے ملازمین کو کسی صورت بھی پنشن نہیں مل سکے گی ۔

محمد اعجاز الحق گریڈ 19 کے افسر ہیں لیکن ڈائریکٹر جنرل کے گریڈ 20 کے عہدہ پر تعینات ہیں ۔ ان کے پاس ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ( سندھ و بلوچستان) کا اضافی چارج بھی ہے۔ اس طرح ای او بی آئی کو کراچی میں قائم ہیڈ آفس کے بجائے لاہور سے کنٹرول کیا جارہا ہے ۔ اس صورتحال کے باعث ادارہ سخت بدنامی سے دو چار ہے ۔

واضح رہے کہ ای او بی آئی کے بعض افسران کروڑ پتی بن گئے ہیں ۔ جن میں سے ایک مثال نوید فیاض قائمخانی بھی ہیں جن کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں جن کے بارے میں نیب کو بھی انکوائری کے لئے خط لکھا جا رہا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *