مدارس، سیاست اور مفتی تقی عثمانی

تحریر : رعایت اللہ فاروقی

مفتی تقی عثمانی صاحب کا ارشاد بسر و چشم لیکن تاریخ کچھ اور کہتی ہے ۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ابتدا میں تھانوی گروپ کی سیاسی جماعت تھی۔ چنانچہ مولانا شبیر احمد عثمانی، مفتی محمد شفیع صاحب اور مولانا احتشام الحق تھانوی رحمھم اللہ اس کے سرخیل تھے۔

تب جمعیت علمائے اسلام کا چلن یہ رہا کہ یہ فقط ایک درباری جماعت تھی ۔ دارالعلوم کراچی تب بھی موجود تھا ۔ ابتدا میں ناناکواڑہ میں تھا پھر کورنگی شفٹ ہو گیا۔ پھر ان کے خلاف بغاوت ہوئی اور جمعیت علماء کا کنٹرول ان علماء نے سنبھال لیا جو مدنی گروپ سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ گروپ مزاحمت پر یقین رکھتا تھا ۔ چنانچہ جلد یہ مدارس سے باہر آ کر عوام کی جماعت بن گئی ۔

بالخصوص مفتی محمودؒ کا دور اس کا سب سے اہم دور ثابت ہوا ۔ مفتی صاحب نے انتخابات میں بھٹو کو شکست دے کر پوری قومی سیاست میں زبردست بھونچال پیدا کیا ۔ جمعت علماء ہاتھ سے جانے کے بعد تھانوی گروپ بظاہر سیاست سے تائب ہو گیا ۔ مگر فی الحقیقت اس نے حکومتی دربار سے اپنے رشتے جنرل ضیاء کے دور میں دوبارہ قائم کئے اور بہت مضبوط رکھے ۔ جنرل ضیاء اور مفتی تقی صاحب خیر سے "پیر بھائی” بھی بن گئے تھے ۔

مذید پڑھیں :کراچی : EOBI میں 2007 سے 25 افسران کی غیر قانونی بھرتی کا انکشاف

ڈاکٹر عبدالحی رحمہ اللہ کے جنازے کا وقت جنرل ضیاء کی سہولت کے مطابق رکھا گیا اور ان کے پہنچنے کا انتظار کیا گیا ۔ سو جنرل ضیاء سے عثمانی برادران کے تعلق کی تو ایک وسیع تاریخ ہے ۔ مفتی تقی صاحب کو تو جنرل ضیاء نے جج بھی بنایا ۔ جنرل ضیاء کی موت پر دارالعلوم کے جریدے میں مفتی تقی صاحب کا مضمون ہر لحاظ سے ایک ایسا مضمون ہے جو جنرل ضیاء کے کسی بہت بڑے عقیدت مند کا مضمون ہی کہلا سکتا ہے ۔ یہ ساری سرگرمیاں سیاسی سرگرمیاں ہی ہیں ۔ اور ان سرگرمیوں سے سے ثابت ہوتا ہے کہ دارالعلوم میں سیاست ممنوع نہیں فقط سیاسی مولوی ممنوع ہیں ۔

میرے دورہ حدیث والے سال ایک روز مغرب کے بعد مولانا فضل الرحمن بنوری ٹاؤن آئے تو بعد از عشاء ان کا بیان رکھ لیا گیا ۔ وہ چونکہ معمول کے مطابق تبلیغ والوں کے ہفتہ واری بیان کا دن تھا ۔ چنانچہ ان سے اجازت لے کر مولانا کا بیان رکھا گیا ۔ اور مولانا کو اس کا علم تھا کہ وہ تبلیغیوں کا وقت استعمال کر رہے ہیں ۔چنانچہ انہوں نے مکمل تبلیغی بیان کیا اور ایک لفظ بھی سیاست پر بات نہ کی ۔

مذید پڑھیں :مدارس کے نئے بورڈ اور طلباء کی مشکلات

آج بھی یاد ہے کہ سورہ عصر کی روشنی میں مکمل تبلیغی بیان ہوا تھا ۔ مفتی محمود رحمہ اللہ تو سیاسی رہنماء ہوتے ہوئے قاسم العلوم کے شیخ الحدیث و صدر مفتی بھی رہے ۔ وہ قاسم العلوم میں فقط ایک مدرس اور اور مفتی کے روپ میں ہی نظر آتے تھے ۔ ان کے قلم سے غالبا 18 ہزار فتاوی نکلے ہیں جو مجموعے کی صورت شائع ہو چکے ۔ ان کے فتوؤں میں ان کی سیاست نظر نہیں آتی ۔

لیکن دوسری طرف یہ تلخ حقیقت کیسے جھٹلائی جا سکتی ہے کہ خود عثمانی برادران کے ساتھ ان کا اختلاف بھی ایسے فتوے پر ہوا جو عثمانی برادران نے جنرل ضیاء کے بینکوں کے ذریعے زکوۃ لینے کے اقدام کے حق میں جاری کیا تھا ، یعنی ایک سیاسی فتوی تھا ، جو دارالعلوم نے جاری کیا تھا اور علمی و فقہی طور پر تھا بھی غلط۔ ۔ اس پورے پس منظر میں اس بات کا تو قائل ہوں کہ مدارس میں سیاسی سرگرمیاں نہیں ہونی چاہئیں ۔ لیکن ایک عالم سے اصلاحی و علمی بیان کا حق بھی یہ کہہ کر چھین لینا کہ وہ سیاسی مولوی ہے ایک غیر مناسب اور خلاف عقل چلن ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *