واٹر بورڈ کے اینٹی تھیفٹ سیل کا لیاری ندی میں غیر قانونی کنکشن لگانے کا پلان ناکام

کراچی : واٹر بورڈ کے اینٹی تھیفٹ سیل نے لیاری ندی میں نمائشی آپریشن کے نام پر جعلی کنکشن کرنا شروع کر دیئے ہیں ۔

واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے غیر قانونی بننے والے اینٹی تھیفٹ سیل کے انچارج راشد صدیقی نے صوباٸی وزیر بلدیات سندھ کو ماموں بنا دیا ہے ۔لیاری ندی میں شکیل مہر کے سیٹ اپ کیخلاف آپریشن کر کے باقی سیکنڑوں کنکشن بچا لیئے ہیں ۔ ایک ہفتہ قبل ہونے والے آپریشن میں شکیل مہر کا زیر زمین نیٹ ورک پکڑنے کا دعوی کیا گیا تھا ، جس کے بعد دیگر غیر قانونی کنکنشن کیخلاف کارروائی کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا تھا ۔

جس کی وجہ سے راشد صدیقی نے شکیل مہر کے بعد پنے مافیا کارندوں کو زیر زمین لائنیں دینے کے لئے لیاری ندی میں بورنگ کا کام شروع کرا دیا ہے ۔

کراچی شہر میں حالیہ دنوں میں پانی چوروں کے خلاف جو آپریشن لیاری اور لسبیلہ کے علاقوں میں کیا گیا ہے ،اس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ راشد صدیقی نے وہ سلیکٹڈ آپریشن کیا ہے اور اپنے من پسند اور چہیتے پانی چوروں کی لسبیلہ پل کے نیچے لاٸنوں کو بچا لیا ہے ۔

مزید پڑھیں: واٹر بورڈ : راشد صدیقی کا ’’سسٹم‘‘ بڑھانے کیلئے شکیل مہر کیخلاف پھر آپریشن

الرٹ سروے کے مطابق راشد صدیقی نے اپنے من پسند لوگوں کےکنکشن اور پائپ تک سلامت بچائے ہیں ۔ سب سے بڑی چوری جو کہ ناظم آباد بنگش ہوٹل پر کی جا رہی ہے اور جس کی وجہ سے رضویہ سوساٸٹی ، وحید آباد ، فردوس کالونی ، عثمانیہ کالونی ، حاجی مرید گوٹھ اور دیگر ملحقہ علاقوں کے مکین پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔وہاں پر راشد صدیقی کارروائی نہیں کرتا ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سہیل سمیع دہلوی کا کہنا ہے صوبائی وزیر بلدیات سندھ سے مودبانہ گزارش ہیں کہ بنگش ہوٹل کے اطراف اور لسبیلہ پل کے نیچے چھوڑی گٸی بقیہ لاٸنوں کو فی الفور منقطع کیا جاٸے ۔

 

ذرائع کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ تھیفٹ سیل کا اسٹاف پیر کو لیاری ندی میں لسبیلہ پل کے نیچے پہنچ کر مین لائن میں جعلی کنکنش کرتا رہا ہے ۔ اینٹی تھیفٹ سیل کے ملازم ندیم سمیت دیگر نے واٹر بورڈ کی مین لائنوں میں کنکشن کر کے بعد ازاں ان کنکنشن میں سے بعض کنکنش مافیا کو فروخت کریں گے ۔ جب کہ بعض کنکشن مافیا کے کنکشن ظاہر کر کے اپنی کارکردگی بڑھانے کی ناکام کوشش کی جائے گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *