مسجد کے لیے سکھ نے زمین عطیہ کر دی ،

رپورٹ : علی ہلال

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے‌ ضلع مظفرنگر میں ایک 70 سالہ سکھ شہری نے مسجد کے لیے زمین عطیہ کی ہے۔

انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سماجی کارکن سکھ پال سنگھ بیدی نے یہ اعلان ضلعے کے قصبے پورقاضی میں ایک تقریب کے دوران کیا ۔ انہوں نے 900 مربع فٹ پلاٹ کے کاغذات نگر پنچائت کے چیئرمین ظاہر فاروقی کے حوالے کیے ہیں ۔

پورقاضی قصبہ مسلمان اکثریتی علاقہ ہے۔ خبررساں ادارے کے مطابق سکھ پال سنگھ بیدی کا کہنا تھا کہ وہ امن اورمذہبی ہم آہنگی کا پیغام پھیلانا چاہتے ہیں جو گرونانک کی تعلیمات ہیں کہ تمام افراد کے ساتھ مساوی سلوک اوراحترام کے ساتھ پیش آیا جائے ۔ علاقے میں دونوں مذاہب کے ماننے والوں کی جانب سے اس اقدام کو بے حد سراہا جا رہے۔

(علاقے میں دونوں مذاہب کے ماننے والوں کی جانب سے اس اقدام کو بے حد سراہا جا رہے (فوٹو: ٹائمز آف انڈیا        

خیال رہے کہ 2800 نفوس پرمشتمل آبادی والا قصبہ پورقاضی مذہب کے بنیاد پر ہونے والے فسادات کا کبھی شکار نہیں رہا جبکہ ضلع مظفرنگر فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث اکثر خبروں میں رہتا ہے ۔ ضلع میں سنہ 2013 میں ہونے والے فسادات میں بھی پورقاضی قصبہ پر امن رہا تھا۔

دوسری جانب انڈین میڈیا کے مطابق پورقاضی کے ایک رہائشی ڈاکٹر سندیب ورما نے کہا ہے کہ ’سکھ برادری نے یہ بہت اچھا قدم اٹھایا ہے ۔ میں اس مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دوں گا اور دوستوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کی تعمیر کے لیے مالی تعاون کریں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *