وفاق کی آفاقیت میں تعویق

تحریر : اسجد محمود 

وفاق المدارس العربیہ پاکستان جامعات اسلامیہ کا ایک منظم وسیع نیٹ ورک ہے جس کے تحت 1959سے لیکر وقت حاضر تک ہزاروں لوگوں نے علمی تشنگی ختم کرکے راہ راست کے مسافرین بن گئے ہیں ۔ وفاق کا نصابی نظام پر وقتاً فوقتاً انگلیاں اٹھتی رہتی ہیں ۔ جس کے نتیجے میں کچھ مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔

گزشتہ ادوار میں مولانا رشید احمد سواتی صاحب نے "دفاع درس نظامی” کے نام سے کتاب لکھ ڈالی،موصوف کا مدعا تھا کہ اہل وفاق نے علمی تناور درخت کی شاخیں کلہاڑی سے کاٹ رہے ہیں جس کی وجہ سے علمی پختگی ختم ہوکر فارغ التحصیل ہوشیار ناخواندہ بنتے جارہے ہیں۔

ساتھ ہی موصوف نے مولانا ابن الحسن عباسی رح کی متعدد تجاویز بھی رد کرکے کہا تھا کہ کافیہ، علوم منطق و فلسفہ کی کتب میں ردوبدل کرنا یا یکسر خارج نصاب کرنا کسی بھی صورت میں طالب علم کے حق سود مند نہیں،مگر جہاں اکثریت ہوتی ہے وہاں فرد کی آواز تقریباً جنون کے مترادف سمجھی جاتی ہے،کتابوں کی نصابی فہرست محدود کی گی اور متبادل نیو فلسفے اور منطق کی عجالات کو جگہ نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں طلبہ علومِ آلیہ کے زیور سے آراستہ نہ ہوسکے،الحاد،کلامی اشتباہات،ریشنلزم کے پیدا کردہ اعترضات و وساوس وہی کے وہی رہے جہاں سے اٹھ گئے تھے۔

جہاں تک وفاق المدارس کا حالیہ فیصلہ ہے جس کے بعض لوگ تحسین کرتے ہیں اور بعض لوگ نامناسب یا عجلت اور جذباتی نوع کی قضا گردانتے ہیں مختصراً عرض یہ ہے کہ وفاق المدارس بننے سے پہلے اکابرین دیوبند کی تاریخ پر نظر مرکوز کی جائے تو درک ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگان مسٹر اور ملا کی تفریق ختم کرنے میں کتنا زیادہ سنجیدہ تھے اور عملی طور پر کیا کچھ کیے؟!

1923کی بات ہے غالباً کہ مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے بنگال میں ایک جامع نصاب مرتب کیا جس میں مصطلح معنی میں سارے دنیاوی فنون سمیت پانچ یا چھ زبان کے تمھر پر زور دیا گیا تھا ۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب نے بڑی محنت کی اور آخری عمر میں عصری اداروں کا دورہ کیا ۔

پاکستان وجود آنے کے بعد مفتی محمد شفیع دیوبندی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ متحدہ ہندوستان میں حادثاتی طور پر معرض وجود میں آنے والے تین نصاب ہائے تعلیم ( نصاب دیوبند،نصاب علی گڑھ،نصاب ندوہ العلما) کی چنداں ضرورت نہیں ۔ بلکہ اپنے خطے کے مزاج کو سامنے رکھ کر اسے کے عین مطابق نصاب مرتب کرنا ہو گا، سن 52 میں نور خان صاحب نے ایک جامع نصاب مرتب کرنے کی کوشش کی جس کو ہمارے بزرگوں نے سراہا اور تعاون کی بھی پیشکش کی ۔

مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب تحدیات و تناقضات عصر معاصر کو سامنے رکھ کر جامعہ عباسیہ بہاولپور کا مطالبہ کیا جس میں منظم طور پر دروس علم کا اجرا کیا گیا اور اساطین علم و ادب نے تدریسی خدمات سر انجام دیں ۔

1959 میں وفاق المدارس کی بنیاد رکھنے کے بعد غالباً چونسٹھ میں اجلاس میں ایک تجویز لائی گئی کہ ہمارے نصاب تعلیم کس حد عصر رواں کے ساتھ ہم آہنگ ہے پوری بحث و تمحیص کے بعد نصابی کتب کی لسٹ میں کمی وبیشی کا کہا گیا مگر اسی ہی منتج فیصلے کو منطبق نہیں کیا گیا۔
مدارس دینیہ کی ترجیحات میں سے اولین ترجیح ایسے رجال کار کی صنعت ہے جو کہ یخرجھم من الظلمات الی النور کے محمل صحیحہ حقہ ہو
مگر دیگر ضروریات حیات سے اغماض کرنا ہماری تعلیمی دعوتی سرگرمیوں پر کتنی نظر انداز ہوتی ہے اندازہ اسی کو ہوگا جو کہ معاش کا مارا ہو اور خط غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو۔

مواقع کی عدم فراہمی کی اساس پر نت نئے بورڈز سامنے آ رہے ہیں ۔ مختلف عنوانات،واھداف لیکر اپنا مشن دنیا کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ بورڈز کی پیداوار کیوں ہوئی ؟

اسباب اغیار کی سازش ہے یا ہماری اپنی غیر شعوری کوتاہیاں اور کمزوریاں ہیں کہ اپنے بھی بیگانے بنتے جا رہے ہیں۔
کیا ہماری طرف سے مسٹر اور ملا کے درمیان خلیج کم یا ختم کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش ہوئی ہے ؟
کیا کسی ادارے نے آٹھ سال کے بعد طالب علم کی مستقبلی زندگی کے بارے مثبت سوچا ہے؟
کیا ہمارے فضلائے کرام کی علمی تفہیمی استعدادات کتنے آگے بڑھ گی کہ دور حاضر کے چیلینجز کا
اقناعی افہامی مقابلہ کرسکے ؟

وفاق المدارس کا حالیہ فیصلہ کی تحسین کرنی چاہیے تاکہ مزید کوئی ہماری وحدت کو پارہ نہ کرسکے مگر اپنی کمزوریوں کی اصلاح خود کرنی ہوگی دوسروں کی آرا ہم سازش سے کم نہیں سمجھتے۔

جدید بورڈ کا قیام درست نہ سہی مگر رجال کار کی ضرورت تو بہر حال رہتی ہے مشار الیہم بالبنان افراد کی شدید قلت ہے
بہتری لانے کے لیے تنقید برداشت کرنی ہوگی اور مثبت آرا سننا چاہیے خواہ وہ کسی کی بھی ہو۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *