فوجی افسر کے خواب

کالم : رعایت اللہ فاروقی

آیئے کچھ دیر کے لئے سیاست کو ایک جانب رکھ کر خالص فوجی نقطہ نظر سے جنرل باجوہ کی ایکٹینشن کا معاملہ دیکھتے ہیں۔ اگر جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن رو بعمل ہوجاتی ہے تو فائدہ کتنے لوگوں کا ہے ؟ صرف ایک کا۔ اور وہ ہے جنرل فیض حمید۔ یہی سوال اب اس زاویے سے بھی دیکھ لیجئے کہ اگر جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن روبعمل ہوجاتی ہے تو نقصان کتنے لوگوں کا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ قطار میں کھڑے آخری میجر جنرل تک اس کے اثرات جانے ہیں۔ آپ کسی بھی فوجی افسر سے پوچھ لیجئے، وہ تصدیق کرے گا کہ فوج میں آنے والا ہر افسر اپنے فوجی کیریئر کے دوران تین بڑے اور نہایت جائز خواب دیکھتا ہے۔ اس کا پہلا خواب یہ ہوتا ہے کہ اسے "ڈویژن” کمانڈ کرنے کا کا موقع مل جائے۔ جوں ہی یہ خواب پورا ہوتا ہے، وہ اگلی رات ہی اگلا خواب دیکھ لیتا ہے کہ اسے "کور” کمانڈ کرنا نصیب ہوجائے۔ یہ خواب بھی تکمیل کو پہنچتا ہے تو وہ سنیارٹی لسٹ اور سینئرز کی ریٹائرمنٹس کی متوقع تاریخیں دیکھ کر اس تیسرے اور سب سے بڑے خواب کے بارے میں غور شروع کردیتا ہے جو اس نے کاکول سے پاس آؤٹ ہوتے ہی خواب نمبر ایک اور دو سے بھی قبل دیکھ رکھا ہوتا ہے۔ یہ خواب ہے پوری پاکستان آرمی کو کمانڈ کرنا۔ ایک آرمی افسر کو لفٹننٹ جنرل بننے میں تیس سال لگتے ہیں۔ اور یہ تیس سال وہ مسلسل یہی خواب دیکھتا ہے کہ آرمی چیف بن سکے۔

اب ذرا سوچئے کہ وہ کیریئر کے اس مقام پر پہنچ جائے جہاں وہ دستاویزات میں درج اپنے آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ والے دن چار سینئر موسٹ جنرلز کی قطار میں کھڑا ہو۔ وہی چار سینئر موسٹ جن میں سے کسی ایک کے خواب کی تعبیر کا لمحہ سر پر ہو۔ لیکن جس آرمی چیف نے ریٹائرڈ ہوکر گھر جانا ہے۔ وہ گھر جانے کے بجائے تین سال مزید مسلط رہنے کی غیر قانونی بھاگ دوڑ شروع کردے تو پوری چین آف کمانڈ چھوڑ دیجئے بس یہ سوچ لیجئے کہ ان سینئر موسٹ چار جنرلز کے جذبات کا کیا حشر ہوتا ہوگا۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے کہ ایک آدمی خود کو ناگزیر سمجھ بیٹھے۔ اس کا خود کو ناگزیر سمجھنا پوری چین آف کمانڈ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسی خواہشیں پالنے والا آرمی چیف ان فوجی افسروں سے ان کے خواب چھینتا ہے جنہوں نے یہ خواب 35 سال مسلسل دیکھ رکھے ہوتے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *