پلیز میری مدد کرو

میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے

بلکہ مجھ سے لکھنا چھوٹ گیا ہے !!

جب میں لکھنے کے لئے قلم گھسیٹ کر صفحے پر لاتا ہوں سچ پوچھو تو ایسا لگتا ہے جیسے ایک بے گورو کفن لاش شہر کی کسی تنگ گلی میں گھسیٹی جارہی ہے

جب میں دوات سے سیاہی اپنے قلم میں بھرتا ہوں ایسا لگتا ہے جیسے ۔۔۔۔۔۔ جیسے کوئی کرائے کا قاتل اپنے ریوالور میں گولیاں بھر رہا ہے

قلم کی نوک صفحے پر اس طرح چرچراتی ہے جیسے کوئی گونگی بہری ماں جوان بیٹے کی کاش پہ نوحہ کرتی ہے

کیا لکھوں؟

ایسی کیفیت میں جب مجھے لکھنے کو لفظ اور اتارنے کو جملے سوچنے پڑتے ہیں تو میری تلاش عین اسی طرح ہے جس طرح ایک کم عمر بچہ یا کچھ عورتوں کا گروہ اپنے گم شدہ شوہروں، باپوں اور بیٹوں کی تلاش میں کسی ادارے کے دروازے پر بینرز اٹھائے بیٹھی ہیں

میں کوئی صحافی نہیں ہوں وگرنہ ضرور کسی ایک جانب ہوکر "غیر جانب دارانہ” کالم لکھ پاتا

میں تو بس ایک عام شخص ہوں

جسے کبھی کبھار گلی کوچوں میں محمد علی جناح نامی شخص اپنی ایمبولینس کے لئے پٹرول تلاش کرتا بھاگا بھاگا دکھائی پڑتا ہے

اکثر رات میں جب سب سورہے ہوتے ہیں مجھے لگتا ہے کچن میں فریج پر رکھی فرسٹ ایڈ کِٹ سے فاطمہ جناح اپنے زخموں کے لئے مرہم پٹی چوری کررہی ہے

اکثر جب میں بازار سے گزرتا ہوا چھوٹے بچوں کی ہتھیلی پر خیرات رکھتا ہوں تو جانے کہاں سے اقبال مسیح نمودار ہوتا ہے اور مجھے گالی دیکر بھاگ جاتا ہے

میں ۔۔۔۔۔ میں تنگ آگیا ہوں !!

میری پسندیدہ کتابوں کی الماری سے کبھی کبھار سعادت حسن نامی منٹو نکل کر گلی میں قہقہے لگاتا بھاگ جاتا ہے وہ اب بھی طنز کرتا پھر رہا ہے

میں مسجد میں سر جھکا کر رکھتا ہوں

مجھے ڈر ہے کہ کسی روز کہیں سے نعرہ بلند ہو اور مشعال خان کی طرح میری ماں کو میری لاش کے ایک ہاتھ کی تمام انگلیاں ٹوٹی ہوئی ملیں

یا پیشانی پھٹی ہوئی ملی تو وہ بوسہ کیسے دے گی؟

تم بتاؤ مجھے کیا لکھنا چاہیے ؟

میں نہیں لکھ سکتا کہ طوائف کی لاش کتنی ہلکی ہوتی ہے مگر مجھے پتا ہے اس کا وزن ایک روٹی جتنا ہی ہوتا ہوگا!

میرا یقین ہے گمشدگی کے بعد مسخ حالت میں ملنے والی جوان اولادوں اور کربلا کے میدان میں اپنے عزیزو کی لاشوں پر کیا جانے والا بین ایک جیسا تھا!

میں سوچتا ہوں کیا وہ بچے جن کی شرمگاہیں نا قابلِ بیان زیرِ مصرف رہ چکی ہیں ان کے والدین دوسری اولادیں جنمیں گے ؟

دکھلاوے کے صدقات جو کسی ریڑھی بان یا خاکروب کو اس کی بیٹی کی شادی کے لئے دئے جاتے ہیں

مجھے لگتا ہے کسی خواجہ سرا کو خود سے دور رکھنے کے لئے بھیک دینے جیسے ہیں!

میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ خوبرو اور نئی نویلی دلہن بس یونہی سیڑھیاں پھسل کر گرنے سے نہیں مری ہے

اس کا قتل طے شدہ تھا!!

کس طرح بتاؤں کہ مذھب کا نام استعمال کرنا مسجد سے جوتی چوری کرنے سے بڑا گناہ ہے!

کیا لکھوں کہ ایک وقت کا پیٹ بھرنے کے لئے جسم بیچنا درست ہے؟

آخر میں کس طرح لکھوں یہ سب کہ میں تو مفلوج ہوں

آسمان کی طرف دیکھ دیکھ کر میری آنکھیں چندھیا گئی ہیں

یوٹیلٹی اسٹورز اور تقسیمِ راشن کی لائن میں لگے لگے میرے پیر شَل ہوچکے ہیں

اور "مجھے مت مارو میں بھی مسلمان ہوں” کا بینر پکڑے پکڑے میرے بازو سُن ہوچکے ہیں!!

میں تو بس زندہ بھاگ رہا ہوں

مجھے بس نارمل موت کے آنے تک بھاگنا ہے !!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *