تھانہ ٹیپو سلطان کی SHO نے صحافیوں کو مغلظات بک دیں

کراچی : ایس ایچ او شرافت خان نے صحافیوں کو مغلظات بکنا شروع کر دیں ۔ غیر اخلاقی سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے سے خاتون ایس ایچ او برا مان گئی ۔

ایس ایچ او ٹیپو سلطان شرافت خان کی ایک آڈیو وائرل ہوئی ہے ، جس میں ایک سپاہی سے پوچھ رہی ہیں کہ تھانے سے میڈیا والے واپس چلے گئے ہیں یا بیٹھے ہوئے ہیں ، جس پر سپاہی کی جانب سے بار بار بتایا جا رہا ہے کہ چلے گئے ہیں ، جس کے باوجود ایس ایچ او مغلظات بکتی ہوئی کہتی ہیں کہ اس ‘‘ کھدڑے ’’ خواجہ سرا کو کہیں کہ چلا جائے ورنہ میں جونہ مارکیٹ چھوڑ کر آئوں گی کہ یاد رکھو گے ۔ ایک نجی چینل کے صحافی نے ٹیپو سلطان تھانے میں جرائم کی نشاندہی کی تھی ۔جس پر خاتون ایس ایچ او آپے سے باہر ہوئیں ۔

اس کے بعد صحافی برادری میں خاتون ایس ایچ او کی اس فحش گفتگو کے بارے میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے ۔ مذکورہ خاتون ایس ایچ او نے چند روز قبل نرسری ریلوے پھاٹک پر واقع آئیڈیل میڈیکل اسٹور کے مالک کو شام 7 بجے اسٹور کھلا رکھنے پر سخت مغلظات بکیں جن کو سننے والے راہگیر بھی کانوں کو ہاتھ لگا کر نکل گئے ۔ ان کے بارے میں پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ ہر وقت پولیس اہلکاروں کو بھی فحش گالیاں بکتیں ہیں ۔

مزید پڑھیں :اسلام آباد : P.hD ڈگری کے حامل سرکاری ملازمین کے حق میں ہائیکورٹ کا فیصلہ

معلوم ہوا ہے کہ انسپکٹر شرافت خان اس سے قبل ضلع غربی میں تعینات تھیں جو معطل ہو کر ضلع ایسٹ میں آئی ہیں ۔ تھانہ ٹیپو سلطان میں ایس ایچ او تعینات ہو کر انہوں نے اپنی ٹیم میدان میں اتار دی ہے اور خاص بیٹر عامر شہزاد کو فرنٹ مین کے طور پر رکھ لیا ہے ۔ اے ایس آئی عامر شہزاد نے ہوٹلوں ، قحبہ خانوں ، دکانوں ، دودھ فروشوں ، گٹکا ماوا فروخت کرنے والوں سے ہفتہ واری بھتہ طے کر لیا ہے ۔

شرافت خان کی تعیناتی کے بعد ٹیپو سلطان تھانے کی حدود میں واقع بلوچ پاڑہ میں گٹکا اورماوا کھلے عام فروخت ہو رہا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل شہزاد اور سابق پولیس اہلکار نذر محمد بلوچ پاڑہ سے ماہانہ 50 ہزار سے زائد بھتہ وصول کرتے ہیں اور تھانہ ٹیپو سلطان کی سرپرستی کے باعث کامران اور کمو نامی شخص و دیگر ملزمان علاقے میں گٹکا اور ماوا کی بولیاں ایسے لگاتے ہیں جیسے مچھلی منڈی میں بولیاں لگائی جاتی ہیں ۔

ذرائع کہنا ہے کہ شرافت خان کی آمد کے بعد ٹیپو سلطان تھانے میں ہر طرح کے جرائم کی سرپرستی کی جا رہی ہے اور ٹیپو سلطان پولیس کی زیر سر پرستی مہوش عرف بنٹی آنٹی نامی خاتون فحاشی کے اڈے چلا رہی ہیں ۔ جب کہ ان فحاشی کے اڈوں کیخلاف سی ٹی ڈی کے ایک ہیڈ کانسٹیبل نے تھانے میں درخواست جمع کروائی تھی کہ میرے گھر کے اطراف فحاشی کے اڈے قائم ہیں ۔ جہاں دن رات اوباش لوگوں کی آمد و رفت کے باعث علاقے کا ماحول تباہ ہو گیا ہے ۔ تاہم ایس ایچ او شرافت خان نے اس درخواست پر کارروائی کرنے کے بجائے درخواست دبا دی ہے ۔

مذید پڑھیں :وقار یونس بھی فلسطینیوں کے حق میں میدان میں آگئے

ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی فوڈ سے ریلوے پھاٹک کی جانب آتے ہوئے آخری گلی کے قریب ایک نیا قحبہ خانہ کھل گیا ہے ۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیپو سلطان تھانے کی حدود میں دیگر جرائم کے ساتھ ساتھ کورونا کی وباء کو بھی کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ۔ ٹیپو سلطان موبائل گاڑیوں کی سیٹنگ کی وجہ سے شام کو گلیوں میں دو مخصوص گیٹ اپ کی خواتین گلیوں میں راہگیروں کو حراساں کرتی اور پولیس موبائل گاڑی کو بلا کر بلیک میل کر کے رقم اینٹھتی ہے جس کو بعد ازاں پولیس کو برابر کا حصہ دیا جاتا ہے ۔

ٹیپو سلطان کے کالے کارناموں پر آئی جی سندھ مشتاق مہر ، پولیس چیف کراچی عمران یعقوب منہاس اور ڈی آئی جی ایسٹ ثاقب اسماعیل میمن نے معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ جس کی وجہ سے ایس ایچ او شرافت خان اور ان کے دیگر ساتھی کھلے عام جرائم کی سر پرستی کرنے میں مصروف ہیں ۔

ادھر صحافیوں کی اس انتہائی فحش زبان استعمال کرنے پر ایس ایس پی ، ڈی آئی جی پر شکایت کے علاوہ باقاعدہ تھانے کے باہر احتجاج کا بھی عندیہ دیا گیا ہے جب کہ خواجہ سرائوں کے متعلق مغلظات بکنے پر خواجہ سرائوں کی تنظیم کی تنظیم کی جانب سے کراچی پریس کلب پر انسپکڑ شرافت خان کے خلاف احتجاج کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *