اسرائیل کو گھٹنوں پہ لانے والی حماس ہے کون ؟

تحریر : وثیق صدیقی

حماس فلسطین میں جماعت اسلامی کے طرزکی سیاسی تنظیم ہے، اور اس کی فلسطین میں وہی حیثیت ہے ، جیسی جماعت اسلامی کی پاکستان میں، فلسطین کو جب جہاد کی ضرورت پیش آتی ہے تو آگے بڑھ کر حماس کے کارکنان خود کو پیش کر دیتے ہیں ، جیسے یہاں جماعت اسلامی نے افغانستان میں سویت یونین اور کشمیر میں بھارت کے خلاف کیا ۔

جب فلسطین کو بھوک افلاس ستاتی ہے تو وہی حماس اور اس کے کارکنان ہاتھوں میں کھانوں کے ڈبے اٹھائے گھر گھر پہنچ جاتے ہیں، جیسے جماعت اسلامی کے کارکنان الخدمت وردیاں پہن کر کرتے ہیں ، جب فلسطین پر زبردستی جنگ مسلط کی جاتی ہے تو حماس اپنی پوری طاقت سے دفاع کرتی ہے، بالکل جماعت اسلامی کی البدر اور الشمس کی طرح جو آج بھی بنگلہ دیش میں پھانسی کے پھندوں کو چوم رہے ہیں،
جب بھی فلسطینی قیادت کمزور موقف اختیار کرتی تو حماس مضبوط موقف کے ساتھ عوام میں اترتی اور رآئے عامہ ہموار کرتی، بلکل ایسے ہی جیسے ہر دور میں جماعت اسلامی پاکستان میں کرتی آ رہی ہے ۔

جب کبھی دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ڈھایا جاتا اور اسلامی شعائر کا مزاق بنایا جاتا تو حماس اسی طرح سے اپنے ردعمل کا اظہار کرتی جیسے پاکستان میں جماعت اسلامی ، مزے کی بات یہ کے ان ملکوں کی دونوں جماعتوں کی ایک بات اور مشترک ہے ۔ وہ یہ کہ جب بھی فلسطین اور پاکستان میں الیکشن ہوتے تو ان دونوں جماعتوں کو ووٹ کے بجائے ٹھینگا ملتا، دونوں جماعتوں کے کارکنان جب اپنے اپنے لوگوں کے پاس جاتے تو طعنے کسے جاتے ۔

مذید پڑھیں :مفتی تاج الدین کی سرپرستی میں ضلع اٹک کی 5 تحصیلوں میں کامیاب مظاہرے

مشورے دیے جاتے اور فرماتے کے دین کے ٹھیکے داروں تم لوگوں کا سیاست میں کیا کام مسجدوں میں جاو اور اللہ اللہ کرو، وہاں بھی لبرل اور سیکیولر لوگوں کو مسند اقتدار پہ بٹھایا جاتا اور یہاں بھی اقتدار کے تخت پر دین بیزار چور اور لٹیرے بٹھائے جاتے اور جب دونوں ملکوں کی عوام پر پریشانیوں کے پہاڑ گرتے تو منتخب کر کے لانے والے حکمرانوں کو گالیاں دیتے اور پھر حماس اور جماعت اسلامی کی طرف یتیم مسکین بن کر دیکھنے لگتے جیسے دین کے ٹھیکے داروں نے ان کا ٹھیکہ لے رکھاہو، لیکن سلام ہے ان دونوں جماعتوں کو الیکشن میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد بھی دل برداشتہ نہیں ہوتیں بلکہ اور زیادہ متحرک نظر آتی ہیں ۔

دونوں جماعتوں میں واحد فرق صرف سرحدوں کا ہے، یہاں کی جماعت اسلامی وہاں کی حماس ہے اور یہاں کی حماس وہاں کی جماعت اسلامی ہے ۔ مقصد ایک، نظریہ ایک، تربیت ایک اور جدوجہد بھی ایک، اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے لیے جدوجہد ازل سے ابد تک جاری رہے گی ۔ غالب اللہ کے دین نے ہی ہونا ہے چاہے کوئی اسے عزت سے قبول کرے یا زلت سے، ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *