اسلام آباد : P.hD ڈگری کے حامل سرکاری ملازمین کے حق میں ہائیکورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد : گزشتہ روز ’’ سندھ ہائیکورٹ ‘‘ کی 2 رکنی بینج نے سندھ میں Ph.D کی ڈگری کے حامل تمام سرکاری ملازمین کو ، جامعات کی طرز پر مبلغ 25000 روپے ماہانہ Ph.D الاؤنس ادا کرنے کے لئے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت جاری کی ہیں ۔

نوٹی فکیشن کے مطابق 15 دنوں میں الاؤنس کی ادائیگی کی سمری پر وزیر اعلٰی سندھ سے منظوری لے کر Ph.D کی ڈگری رکھنے والے سرکاری ملازمین کو مبلغ 25000 روپے ماہانہ Ph.D الاؤنس کی مد میں ادائیگی کو یقینی بنائیں ۔

اعلٰی تعلیم اور تحقیق سے وابستہ افراد کی پزیرائی اور ان کی قابلیت سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں ‘اعلٰی تعلیم وتحقیق’ کے ضمن میں Ph.D الاؤنس ادا کرنے کے حوالے سے ‘سندھ ہائیکورٹ’ کا یہ فیصلہ بلاشبہ ایک مستحسن اور بہترین فیصلہ ہے جس پر عمل درامد کرتے ہوئے سندھ گورنمنٹ کو جلد از جلد وزیراعلٰی سندھ کی منظوری لے کر Ph.D الاؤنس کا اجراء شروع کردینا چاہئیے ۔

مذید پڑھیں :تناول ویلفیئر آرگنائزیشن اتوار سے ایمبولینس سروس کا آغاز کرے گی

سندھ ہائیکورٹ میں دائر ایک آئینی درخواست میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سندھ کی جامعات میں Ph.D کی ڈگری کے حامل اساتذہ کو Ph.D الاؤنس کی مد میں مبلغ 25000 روپے ماہانہ ادا کئے جاتے ہیں ۔ جب کہ حکومت سندھ کے دیگر محکموں ، بشمول محکمہء تعلیم میں خدمات سر انجام دینے والے سرکاری ملازمین (اساتذہ) کو Ph.D الاؤنس کی مد میں محض مبلغ 10000 روپے ادا کیئے جا رہے ہیں جو آئینی طور پر درست نہیں ۔

معزّز عدالت نے درخواست گزار کے مؤقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے جامعات کے مقابلے میں دیگر سرکاری محکموں میں خدمات سر انجام دینے والے ملازمیں کو ادا کئے جانے والے Ph.D الاؤنس میں پائے جانے والے تفاوت کو ختم کرتے ہوئے تمام Ph.D ڈگری کے حامل سرکاری ملازمین کو یکساں الاؤنس ادا کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔

یہاں چند نکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے

سندھ کی سرکاری جامعات کے Ph.D ڈگری کے حامل اساتذہ کو جو الاؤنس دیا جاتا ہے و دراصل ان کی اعلٰی ’’ تعلیمی قابلیت اور تحقیق ‘‘ اور جامعات میں ‘تعلیم وتدریس’ (Teaching) اور ‘تحقیق’ (Research) پر اطلاق کو مدّ نظر رکھ کر دیا جاتا ہے ۔ کیونکہ Ph.D کی ڈگری کی بنیاد در اصل وہ ‘تحقیق’ (Research) ہوتی ہے جو Ph.D کرنے والا محقّق (Researcher) اپنے شعبے (مضمون) میں کرتا ہے اور جامعات کا تعلق بھی ‘تعلیم وتدریس’ کیساتھ ‘تحقیق’ سے ہوتا ہے ۔

مذید پڑھیں :حضرت سعيد بن عامر رضي الله عنہ سیرت و شہادت

اس لئے جامعہ سے وابستہ ٹیچر اپنی ‘تعلیم و تحقیق’ کی بنیاد پر جامعات کے طلباء و طالبات کی ‘درس وتدریس’ کے ساتھ ‘تحقیق’ کی بھی نگرانی کرتا ہے ۔ اس لئے جامعات سے وابستہ Ph.D اساتذہ کو Ph.D الاؤنس کی ادائیگی تو قطعی طور پر جائز اور قرین از قیاس ہے ۔ کالجوں میں خدمات سر انجام دینے والے Ph.D ڈگری یافتہ اساتذہ بھی ، جامعات کے اساتذہ کی طرح کالج کی سطح پر تدرس وتدریس کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور اپنی ‘اعلٰی تعلیم اورتحقیق’ سے کالج کے طلباء و طالبات کو فیضیاب کرتے ہیں ۔

ہاں البتّہ کالجوں میں ‘تحقیق’ (Research) کے لئے موزوں ماحول اور سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث کالج اساتذہ ‘تحقیق’ کے شعبے میں جامعات کے اساتذہ سے کچھ پیچھے نظر آتے ہیں ۔ لیکن اگر حکومت کالجوں میں ‘تحقیق’ (Research) کیلئے ضروری سہولیات اور ماحول فراہم کر دے تو کالج اساتذہ بھی جامعات کے اساتذہ سے ‘تعلیم و تدریس’ کے ساتھ ساتھ ‘تحقیق’ کے شعبے میں بھی پیچھے نہیں رہینگے ۔

Ph.D الاؤنس کی ادائیگی کا مقصد دراصل ، Ph.D کی ڈگری رکھنے والے سرکاری ملازم کی ان خدمات کا اعتراف ہونا چاہیئے ۔ جو وہ اپنی ‘اعلٰی تعلیم’ اور ‘تحقیق’ کی بنیاد پر اپنے شعبوں میں بہتری لا نے کیلئے کوشاں ہوں ۔ جیسے اساتذہ تعلیمی اداروں میں اپنا علم اور تحقیق ، طلباء وطالبات تک منتقل کرتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :مفتی تاج الدین کی سرپرستی میں ضلع اٹک کی 5 تحصیلوں میں کامیاب مظاہرے

اس لئے ان Ph.D ڈگری کے حامل سرکاری ملازمین کو Ph.D الاؤنس کی ادائیگی کی توجیہہ (Justification) تو یہ پیش کی جا سکتی ہے کہ یہ اساتذہ اپنی ‘اعلٰی تعلیم’ اور ‘تحقیق’ سے طلباء و طالبات کو فیضیاب کر رہے ہیں ۔ جس سے ایک تعلیم یافتہ اور ترقّی یافتہ معاشرے کی تشکیل ہو رہی ہیں  ۔

مگر ایسے Ph.D ڈگری یافتہ سرکاری ملازمین کو ہر ماہ مبلغ 25000 روے کی ادائیگی پر سوالیہ نشان آئے گا ۔ جو سرکاری ملازمت میں تو ہیں مگر Ph.D کے حوالے سے ان کی ‘اعلٰی تعلیم و تحقیق’ سے ان کے شعبے یا ملک وقوم کو کسی قسم کا فیض نہیں پہنچ رہا مگر وہ بھی Ph.D الاؤنس کے مستحق قرار پائے ۔

اس وقت ملک بھر میں Ph.D ڈگری یافتہ ایسے بے شمار سرکاری ملازمین مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں ۔ جنہوں نے اعلٰی تعلیم کے حصول کی غرض سے مختلف سرکاری جامعات سے Ph.D کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ ان پر ان جامعات نے دورانِ تحقیق لاکھوں روپے خرچ کئے تاکہ وہ اپنی ‘ اعلٰی تعلیم و تحقیق’ کو علم کی ترویج ، تحقیق اور ملک وقوم کی ترقّی و خوش حالی کے لئے استعمال کر سکیں ۔

مگر وہ سرکاری ملازمت کی کشش سے متاثر ہوکر کسی ایسے سرکاری محکمے میں ملازم ہوگئے جہاں ان کی وہ ‘اعلٰی تعلیم و تحقیق’ بالکل بیکار ہو کر رہ گئی ۔ جس پر قوم کے ٹیکسوں سے جمع شدہ بھاری رقوم خرچ کی گئی تھیں ۔ اس طرح ایک جانب تو انہوں نے Ph.D کی ڈگری کے حصول کے دوران سرکار کے لاکھوں روپے خرچ کروا دئیے جو رائیگاں گئے تو دوسری جانب اب وہ Ph.D الاؤنس کے نام پر مستقل بنیادوں پر سرکاری خزانے سے خطیر رقم بھی حاصل کرتے رہینگے ۔

مذید پڑھیں :اسلام آباد : PTV نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تصویر چلا دی

ہمارے ملک میں ’’ سپیرئیر سول سروس‘‘ میں بہت کشش پائی جاتی ہے ۔ میڈیکل ، انجینئرنگ اور دیگر پروفیشنل اداروں سے سرکار کے لاکھوں روپے خرچ کرواکے پروفیشنل ڈگریاں حاصل کرنے والے ، ان پر سرکاری خزانے سے خرچ کیجانے والی بھاری رقوم کے مقاصد ، یعنی متعلقہ شعبوں میں خدمات سر انجام دینے کے بجائے CSS یا PCS کر کے ‘سرکاری بابو’ بننے کو ترجیح دیتے ہیں ۔

ہونا تو یہ چاہئیے کہ اگر کوئی MBBS ڈاکٹر یا BE انجینئیر ، ‘سپیرئیر سول سروس’ میں شمولیت اختیار کرے تو سرکار پہلے اس سے وہ رقم وصول کرے جو سرکار نے قوم کو ایک ڈاکٹر یا انجینئر فراہم کرنے کی غرض سے اس پر خرچ کی تھی مگر ایسا نہیں ہوتا ۔ اس وقت وفاقی اور صوبائی بیوروکریسی میں سیکڑوں کی تعداد میں MBBS ڈاکٹر ، میڈیکل کی تعلیم کے وقت "انسانیت کی خدمت” کے وعدے کے حلف کو پس پشت ڈال کر سول بیورو کریسی کا حصّہ بنے بیٹھے ہیں اور ‘بابو گیری’ کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔

یہی حال کچھ Ph.D ڈگری یافتہ کا بھی ہے کہ وہ بھی سرکاری ملازمت کی کشش میں اپنی Ph.D کی ، ‘اعلٰی تعلیم اور تحقیق’ کو پس پشت ڈال کر غیر متعلقہ شعبوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور اب وہ بھی مذکورہ الاؤنس کے حقدار ہونگے ۔

وفاقی و صوبائی بیورو کریسی میں بھی بیشمار Ph.D ڈگری کے حامل افسران پائے جاتے ہیں جنہوں نے سائنس کے مختلف شعبوں مثلاً کیمسٹری ، باٹنی اور زولوجی جیسے مضامین میں سرکاری جامعات سے Ph.D کیا مگر انہوں نے CSS کا امتحان پاس کرکے ‘سول سروس’ کے مختلف شعبوں مثلاً PAS (پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس) ، FSP (فارن سروس آف پاکستان) ، PSP (پولیس سروس آف پاکستان) یا IT (انکم ٹیکس گروپ) میں شمولیت اختیار کر لی ۔

مذید پڑھیں :فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی، اسپیکر قومی اسمبلی کی زیرِ قیادت واک

‘حیوانیات’ (Zoology) میں Ph.D کرنے والا اگر CSS کرکے مندرجہ بالا سروس گروپس میں شامل ہوگا تو اندازہ لگائیں کہ وہ بھی ، Ph.D الاؤنس کا حقدار قرار پا گیا ۔ حالانکہ اس کی Ph.D کی ڈگری سے اس کے محکمے یا ملک ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ۔

بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کیس میں سرکاری وکیل کی تیّاری اچھی نہیں تھی ۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ عدالت کو یہ باور کرایا جاتا کہ Ph.D الاؤنس کے حقدار صرف ان سرکاری ملازمین کو قرار دیا جائے جو جامعات یا کالجوں کی سطح پر ‘درس و تدریس اور تحقیق’ سے وابستہ ہیں یا پھر وہ سرکاری ملازمین جن کی Ph.D کی ڈگری ان کے شعبے سےمطابقت رکھتی ہو نیز اس سے ان کے شعبے یا محکمے کو کوئی فائدہ پہنچ رہا ہو  ۔

مثال کے طور پر ‘پاکستان پولیس سروس’ کا افسر اگر ‘قانون’ یا ‘کریمنالوجی’ میں ، محکمہ ءزراعت سے وابستہ افسر ‘ایگری کلچر میں ، اقتصادی شعبے سے وابستہ افسر ‘اکنامکس’ میں یا اسی طرح کسی بھی شعبے سے وابستہ افسر اپنے شعبے سے متعلقہ مضمون میں پی Ph.D کی ڈگری رکھتا ہے اور اس ڈگری کی بنیاد پر وہ اپنی بہترین خدمات اپنے محکمے اور ملک و قوم کو دے سکتا ہے تو ایسے افسر کو بھی Ph.D الاؤنس کی ادائیگی ملک و قوم کے مفاد میں ہو گی لیکن اگر ‘حیوانیات’ کے مضمون میں Ph.D کرنے والے پولیس سروس یا انکم ٹیکس افسر کو Ph.D الاؤنس دیا جاتا ہے تو اس پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے ۔

مذید پڑھیں :اہلسنت و الجماعت اور مسلم لیگ ق کا مشترکہ طور پر فلسطین یکجہتی ریلی کا انعقاد

مذکورہ عدالتی فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کرنا تو حکومت پر واجب ہے مگر سرکاری خزانے پربلاجواز بھاری بوجھ سے بچنے کیلئے حکومت کے پاس اس سلسلے میں ‘قانون سازی’ کا راستہ کھلا ہے جس کے ذریعے Ph.D الاؤنس کے حقدار صرف وہ سرکاری ملازم قرار دئیے جائیں جن کی Ph.D کی ڈگریاں ان ملازمین کے فرائض ِ منصبی کے حوالے سے مطابقت (Relevent) ہوں ، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ۔

ان سرکاری ملازموں کو Ph.D الاؤنس کی ادائیگی سرکاری خزانے پر بوجھ ثابت ہوگی جن کی Ph.D کی ڈگریاں ان کی پیشہ ورانہ ذمّہ داریوں سے ہم آہنگ نہ ہوں ۔ اگر کسی سرکاری ملازم کو صرف اس بنیاد پر Ph.D الاؤنس دینا چاہئیے کہ وہ سرکاری ملازم ہے تو پھر ملک بھر کے ان ہزاروں ذہین اور باصلاحیت Ph.D ڈگریوں کے حامل بے روزگار افراد کو بھی Ph.D الاؤنس دینے میں کوئی قباحت نہیں جو سرکاری ملازمت سے محروم ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *