شیعہ اور سنی دونوں نے ایک دوسرے کو اسلامی فرقہ تسلیم کر لیا

شیعہ سنی اتحاد

تحریر: سبوخ سید


شیعہ اور سنی دونوں نے ایک دوسرے کو اسلامی فرقہ تسلیم کر لیا، دونوں نے صحابہ کرام اور اہل بیت کرام کی توہین کو بھی غلط قرار دیا۔ دونوں نے مباہلے اور مناظرے کے چیلنج کو بھی فضول حرکت قرار دے دیا کیونکہ دونوں کو یقینی علم ہے کہ یہ دور من گھڑت کہانیاں سنانے اور ان پر یقین کرنے کا نہیں، دونوں کو آگ لگے گی اور دونوں جلیں گے۔

عقل ہوتی تو اتنا کافی تھا کہ تین خلفاء قتل ہوئے اور باقیوں کے بارے میں غلط یا صیحح یہی روایات ہیں کہ انہیں زہر دیا گیا۔ مذہب کا زیادہ سے زیادہ معاشرے میں کردار فرد کو اخلاقی ہدایت دینا ہے تاکہ وہ زندگی یوں گزارے کہ کل روز حشر خدا کے ہاں شرمندہ اور عذاب کا مستحق نہ ہو۔

زنا بالرضا، شراب نوشی سمیت دیگر ’مذہبی‘ جرائم کی سزا اسے قیامت والے دن ہی ملے گی، الا کہ وہ انہیں سرعام کرے۔ دنیا میں اس کی مرضی ہے وہ جیسا کرے لیکن روایات اور اقدار کو پامال نہ کرے۔

مذید پڑھیں :عالم اسلام کا اتحاد فلسطین کی آزادی کو یقینی بنا سکتا ہے : علامہ سید ناظر عباس تقوی

ریاست کا کام فرد کی یوں تربیت کرنا ہے کہ وہ قانون پر مکمل عملدار آمد کرے۔ زنا الجبر، ملاوٹ کرنا، دو نمبر اشیاء بنانا (کچی شراب اور ادویات بنانے سمیت) اس جیسے دیگر امور جس کی وجہ سے معاشرے میں لوگوں کو نقصان پہنچے، اس کی سزا دنیا اور آخرت دونوں میں ملے گی۔

مذہب اور ریاست دونوں فرد کو اپنی ذات، خاندان، معاشرے اور ملک کے لیے نفع بخش انسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

گلگت بلتستان پاکستان کے خوبصورت علاقے ہیں لیکن ان کی خوبصورتی کو وہاں بسنے والے شیعہ اور سنی مولویوں نے تباہ و برباد کر رکھ دیا ہے، میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ بھاگ جائیں گے۔

دُکھ اس بات کا ہے کہ وہ اور ان کے ماننے والے آگ میں نہیں کودے اور خوشی اس بات کی ہے کہ لوگوں کی اکثریت مولویوں کی ڈرامہ بازی سمجھ چکی ہے۔

مذید پڑھیں :نارتھ کراچی کے صنعتی ورکرز کیلئے ”کیپٹن اے معیز خان ویکسینیشن سینٹر“ قائم

آئیں پورے پاکستان کو امن ، برداشت ، مساوات اور محبت کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، ہمارا دشمن انڈیا، ایران، سعودی عرب، امریکا نہیں بلکہ وہ ہے جو اس ملک میں آئین کی توہین کرتا ہے، ووٹ کی توہین کرتا ہے، پارلیمان کی توہین کرتا ہے۔

ہمارا دشمن ظلم، مہنگائی، فرقہ واریت اور بے امنی ہے، ہمارا اندرونی دشمن حسد ، نفرت ، انتقام ، ضد ، انا ، بخل اور کنجوسی ہے۔

آئیے ملاں سے دور رہ کر سچے مسلمان بن جائیں، آئیے بندوقچی سے دور رہ کر آئین کی صندوقچی کے محافظ بن جائیں۔ آج کچھ ٹیڑھے دل والے بھی لوگوں سے کہیں گے کہ صفیں درست کریں۔ کاش وہ اپنے کرتوت بھی درست کر لیں۔

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

  1. اس بےغیرت اورمنافق انسان سسے کوئ پوچھے کہ خود نجی ملاقاتیں جب انہی لوگوں سے کرتہےتوکیاکہتاہےاور یہاں کیابکواس کرتاہے