فارن فنڈنگ کیس ، فضائی یا خلائی مدد !!

تحریر: عبدالجبارناصر

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تحریک انصاف کے خلاف 26 نومبر2019$سے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا معاملہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کے لئے’’امید کی کرن ‘‘اور حکمران جماعت تحریک انصاف کے لئے ’’پریشانی ‘‘ کا باعث بن رہا ہے۔اپوزیشن کی خواہش ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن ہی فیصلہ کرے ، جبکہ تحریک انصاف کی خواہش ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن فیصلہ نہ کرے اور جانبین اسی پر زور لگا رہے ہیں۔

درخواست گزار اورتحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر دو بنیادی الزام ہیں ۔ ایک یہ کہ بیرون ملک جو فنڈز جمع کئے گئے ہیں وہ صرف بیرون ملک پاکستانیوں سے نہیں بلکہ غیرملکی افراد اور اداروں سے بھی جمع کئے ہیں ۔ جو انتخابی ایکٹ 2017 کے سیکشن 204 کے مطابق غیر قانونی عمل ہے۔ انتخابی ایکٹ 2017ء کے سیکشن 204 میں سیاسی جماعتوں کے فنڈز جمع کرنے کا مکمل طریقہ اور حدود و قیود درج ہیں۔

’’204. Membership fee, contributions and donations.— (1) A member of a political party shall be
required to pay a membership fee, if provided in the political party’s constitution and may, in addition, make
contributions or donations towards the political party’s funds.
(2) The fee, contribution or donation made by a member or a supporter of a political party shall
be duly recorded by that political party.
(3) Any contribution or donation made, directly or indirectly, by any foreign source including
any foreign government, multi-national or public or private company, firm, trade or professional association
or individual shall be prohibited.
(4) Any contribution or donation which is prohibited under this Act shall be confiscated in
favour of the Government in such manner as may be prescribed.
Explanation.— For the purpose of this section—
(a) "contribution or donation” includes a contribution or donation made in cash, kind,
stocks, transport, fuel and provision of other such facilities; and
(b) “foreign source” shall not include an Overseas Pakistani holding a National Identity
Card for Overseas Pakistanis issued by the National Database and Registration
Authority.‘‘

دوسرا الزام یہ ہے کہ جمع ہونے والے فنڈز سے الیکشن کمیشن کو آگاہ نہیں کیا گیا ہے ، جبکہ انتخابی ایکٹ 2017 کے سیکشن 210 اور 211کے مطابق الیکشن کمیشن کو تمام معلومات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں انتخابی ایکٹ 2017 ء میں واضح درج ہے کہ

’’210. Information about the sources of funds.— (1) A political party shall, in such manner as may be
prescribed, submit to the Commission within sixty days from the close of a financial year, a consolidated
statement of its accounts audited by a Chartered Accountant on Form D containing—
(a) annual income and expenses;
(b) sources of its funds; and
(c) assets and liabilities.
(2) The statement under sub-section (1) shall be accompanied by the report of a Chartered
Accountant with regard to the audit of accounts of the political party and a certificate signed by an officebearer authorized by the Party Head stating that—
(a) no funds from any source prohibited under this Act were received by the political
party; and
(b) the statement contains an accurate financial position of the political party.

211. Campaign finance.— (1) A political party shall furnish to the Commission the list of contributors
who have donated or contributed an amount equal to or more than one hundred thousand rupees to the
political party for its election campaign expenses.
(2) A political party shall furnish to the Commission details of the election expenses incurred by
it during a general election.‘‘

اب الیکشن کمیشن نے انہی سیکشن کی بنیاد جانچ پڑتال کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا انتخابی ایکٹ 2017ء کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں ہے اور اگر خلاف ورزی ہوئی ہے تو الیکشن کمیشن آف پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے وفاقی حکومت کو رپورٹ بھیج دیگا کہ ایکٹ 2017ء کی خلاف ورزی ہوئی اور کارروائی کے لئے الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا جائے ۔ سپریم کورٹ میں فیصلہ تو عدلیہ نے کرنا ہے مگر اس حوالے سے کچھ رہنمائی انتخابی ایکٹ 2017 ء میں ہے۔ سیکشن 212 میں متعلقہ جماعت کے حوالے سے واضح ہدایات ہیں۔

212. Dissolution of a political party.— (1) Where the Federal Government is satisfied on the basis of a
reference from the Commission or information received from any other source that a political party is a
foreign-aided political party or has been formed or is operating in a manner prejudicial to the sovereignty or
integrity of Pakistan or is indulging in terrorism, the Government shall, by a notification in the official
Gazette, make such declaration.
(2) Within fifteen days of making a declaration under sub-section (1), the Government shall refer
the matter to the Supreme Court.
(3) Where the Supreme Court upholds the declaration made against the political party under
sub-section (1), such political party shall stand dissolved forthwith.
Explanation.— In this section, ‘foreign-aided political party’ means a political party which─
(a) has been formed or organized at the instance of any foreign government or political
party of a foreign country; or
(b) is affiliated to or associated with any foreign government or political party of a
foreign country; or
(c) receives any aid, financial or otherwise, from any foreign government or political
party of a foreign country, or any portion of its funds from foreign nationals.

اسی طرح انتخابی ایکٹ 2017ء کے سیکشن 213 میں متعلقہ جماعت کے پلیٹ فارم سے منتخب ارکان پارلیمان کے مستقبل کی جانب واضح اشارہ ہے ۔
213. Effects of dissolution of political party.— (1) Where a political party is dissolved under section
212, any member of such political party, if he is a member of the Majlis-e-Shoora (Parliament), a Provincial
Assembly or a local government, shall be disqualified for the remaining term to be a member of the Majlis-eShoora (Parliament), Provincial Assembly or local government.
(2) The Commission shall, by notification in the official Gazette, publish the names of the
members of a political party becoming disqualified from being members of Majlis-e-Shoora (Parliament),
Provincial Assembly or local government on the dissolution of the political party under section 212.

الیکشن کمیشن کے سابق سیکریکٹری کنور محمد دلشاد کا کہنا ہے الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے بعد وفاقی حکومت پابند ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں متعلقہ جماعت کے ریفرنس دائر کرے ۔ تحریک انصاف کا یہ موقف بھی درست نہیں ہے کہ تمام جماعتوں کا ایک ساتھ جانچ پڑتال کیا جائے ۔ ایک درخواست 5 سال سے زیر سماعت ہے اور باقی درخواستیں ابھی دائر ہوئی ہیں ، ان کو کیسے یک جاں کیا جاسکیگا ؟ کنور محمد دلشاد کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ کب رپورٹ پیش کرے اور الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق گزشتہ 5 سال میں جب سے یہ کیس چل رہا ہے تحریک انصاف نے کبھی درخواست گزار کی حیثیت ،کبھی الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار ، کبھی طریقہ کار ، کبھی الیکشن کمیشن کے عمل ، کبھی الیکشن کمیشن کی جانب سے جانچ پڑتال کے عمل پر اعتراض اور کبھی جانچ پڑتال کے عمل کو مخفی رکھنے کے لئے مجموعی طور پر درجنوں التوی یا منسوخی کی درخواستیں مختلف عدالتوں میں دائر کی اور فیصلے بھی آئے ۔ تحریک انصاف کے حوالے سے فیصلے میں تاخیر کی اصل وجہ تحریک انصاف کا یہی عمل ہے۔

کیس کا جائزہ لیا جاے تو الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو پورا وقت دیا ہے۔انتخابی ایکٹ 2017 ء اور اکبر ایس بابر کے موقف کو دیکھا انتخابی ایکٹ 2017 ء کے سیکشن 204، 210 اور 211کے مطابق بظاہر تحریک ا نصاف سے غلطی سرزد ہوچکی ہے اور سیکشن 212 اور 213 کے مطابق نہ صرف تحریک انصاف بطور جماعت بلکہ اس کے پلیٹ فارم سے کامیاب منتخب عوامی نمائندوں کا مستقبل بی سوالیہ نشان بن گیا ہے ۔

متحدہ اپوزیشن سندھ کا کہنا ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن نے ہی چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمدرضا کی قیادت میں 5 سال سے اس کیس کو دیکھا ہے اور اب یہ کیس آخری مرحلے پر ہے اس لئے موجودہ الیکشن کمیشن کو ہی فیصلہ کرنا چاہئے بلکہ کمیشن کی ذمہ داری بھی ہے، ہم الیکشن کمیشن پر دبائو نہیں ڈال رہے ہیں بلکہ انصاف کی اپیل کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کا موقف ہے کہ تحر یک انصاف نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور ہم نے سب کچھ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کردیا ہے۔ حکومت کے خلاف تحریک چلانے میں ناکامی کے بعد اب اپوزیشن الیکشن کمیشن پر دبائو ڈال کر فیصلہ کروانا چاہتی ہے۔

کیس اس لئے دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے جانچ پڑتال کے لئے کیس کی سماعت 26 نومبر 2019ء سے روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشتر کام ہوچکا ہے ، اس لئے امکان یہی ہے کہ الیکشن کمیشن کی کمیٹی 31 دسمبر 2019ء تک جانچ پڑتال کاعمل مکمل کرکے رپورٹ کمیشن کو پیش کرے گی اور 6 دسمبر سے قبل الیکشن کمیشن اپنے فیصلے کی رپورٹ وفاقی حکومت کو بھیج سکتا ہے، اگر 6 دسمبر تک فیصلہ نہ ہوا تو پھر یہ معاملہ نہ صرف طول پکڑ جائے گا بلکہ مزید تنازع کا باعث بھی بن سکتاہے۔در اصل موجودہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمدرضا 6 دسمبر کو اپنے عہدے سے مدت مکمل ہونے پر سبکدوش ہورہے ہیں ، جبکہ سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ممبران کی نشستیں کئی ماہ سے خالی ہیں اور 6 دسمبر تک نئے ممبران اور چیف الیکشن کا فیصلہ نہ ہوا تو 7 دسمبر سے الیکشن کمیشن آف پاکستان مکمل غیر فعال ہوجائے گا۔

خلاصہ یہی ہے کہ پانامہ کیس میں تحریک انصاف نے ’’سب سے پہلے وزیر اعظم احتساب ‘‘ کا جو بیانیہ پیش کیا ہے ، اس خود اسی میں پھنس گئی ہے اور اب اپوزیشن اور دیگر غیر جانبدار حلقوں کا موقف ہے کہ اب ’’سب سے پہلے حکمران جماعت تحریک انصاف کا احتساب ‘‘ اور پھر باقیوں کا ، اس لئے بھی کہ تحریک انصاف کے خلاف اس کے بانی رکن نے 5 سال قبل کیس دائر کیا ہے ، جبکہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے خلاف اب درخواستیں دائر ہوئی ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے جو معلومات درج ہیں ، ان کے مطابق تحریک انصاف اور اس کے سربراہ وزیر اعظم عمران خان کا اس کیس سے بچ نکلنا بہت ہی مشکل ہوگا۔ لگ یہی رہا ہے کہ ’’وقت آپہنچاہے‘‘ الا یہ کہ کوئی فضائی یا خلائی مدد آئے!!‘‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *