نیتن یاہو تخت بچانے کے لیے جارحیت پر مصر!!

اسرائیل آرمی

تحریر: علی ہلال


سینئر اسرائیلی تجزیہ کار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے اعلی جرنیل غزہ پر مزید جارحیت بند کرنے کی تجویز دے چکے ہیں تاہم وزیراعظم نیتن یاہو فی الحال بمباری جاری رکھنے پربضد ہیں۔

اسرائیلی جریدے ہارٹس کے توسط سے اسرائیل کے عسکری تجزیہ کار عاموس ہارئیل نے کالم میں کہا ہے کہ گزشتہ دنوں متعدد عسکری ذمہ داروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے دوران ظاہرہوا ہے کہ بیشتر فوجی جرنیل اوراعلی عہدیدار جارحیت بند کرنا چاہتے ہیں ۔ تاہم وزیراعظم واضح کامیابی حاصل کئے بغیر بمباری روکنے پر راضی نہیں ہیں ۔

اسرائیلی تجزیہ کار نے بڑی تکنیکی بات کرتے ہوئے کہاہے کہ اسرائیلی حکومت غزہ میں ٹارگٹ کرنےو الے اہداف اور گرنے والی لاشیں گن کر اسے اپنی کامیابی سے تعبیر کررہی ہے مگر فریق مخالف حماس نے بالکل مختلف لیول رکھا ہوا ہے ۔

اسرائیل جو ابھی ابھی ویکسینیشن کمپین مکمل کرکے کورونا وائرس کی طویل بندشوں سے آزاد ہوکر زندگی بحال کرنے جارہا تھا ایسے میں حماس کے راکٹ حملوں سے دوبارہ زندگی کی رونقیں برباد ہوگئی ہیں ۔

اسرائیلی شہری یومیہ بنیادوں پر بجتے سائرنوں کے انتظارمیں چھپنے کی جگہیں تلاش کرتے پھررہے ہیں ۔ کاروبار زندگی ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے ۔زندگی بے مزے ہوگئی ہے ۔

یہ وار اسرائیل کے لیے بھاری اور گہری ہے۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو مارچ میں ہونے والے انتخابات میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کرسکے ہیں جس کے باعث صدر ریفلین نے حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری ان کے انتخابی حریف یائیرلبید کو تفویض کردی تھی تاہم اس مہلت میں صرف دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں ۔ مہلت کے خاتمے سے قبل حکومت تشکیل نہ دے سکنے پر یہ اختیار نیتن یاہو کے پاس آجائے گا ۔

چونکہ نیتن یاہو پہلے تین مرتبہ حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہے ہیں لہذا اس مرتبہ وہ غزہ میں القسام بریگیڈ کے 7 اہم کمانڈرز کو نشانہ بناکر بڑی عسکری فتح اپنے نام کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے اسرائیل جارجیت پر بضد ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *