مدارس کے نئے بورڈ : پسِ منظر، مضمرات، مستقبل ۔ پہلی قسط

تحریر : سید عزیز الرحمن

گزشتہ دنوں میں دینی مدارس کے حوالے سے کچھ نئے بورڈز (وفاق) قائم کیے گئے ہیں، جب کہ بعض مدارس کی اسناد کو انفرادی طور پر بھی ایم اے کے مساوی قرار دیا گیا ہے ۔

اس لیے یہ موضوع اس وقت مدارس کے حلقے کا گرم ترین موضوع سخن ہے، اس میں زیادہ گرمی جامعۃ الرشید اور جامعہ بنوریہ کے مشترکہ بورڈ کے قیام سے آئی، جسے دیوبندی حلقے کے بورڈ، وفاق المدارس کے خلاف سازش قرار دیا گیا، خود وفاق کے ترجمان نے بھی اس پر باضابطہ رد عمل پیش کیا۔ یاد رہے کہ ان نئے بورڈز کے قیام سے قبل وفاق المدارس سے ملحق مدارس کی تعداد 21 ہزار سے زائد ہے۔ اور اس اعتبار سے یہ پاکستان کا، کسی بھی مکتب فکر کا سب سے بڑا بورڈ ہے۔

اس پورے سلسلے کا پس منظر کیا ہے؟ مدارس کے مختلف بورڈز کے قیام کا سلسلہ کب شروع ہوا؟

بعض مدارس کی اپنی اسناد کو کب منظوری دی گئی؟

اس قضیے کے تعلیمی،انتظامی اور سیاسی مضمرات کیا ہوسکتے ہیں؟

ایک سلسلہ تحریر میں اس نوعیت کے کچھ سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تاریخی پس منظر بیان کرنے بعد یہ جائزہ چند نکات کی صورت میں لیا جائے گا کہ سردست یہی ممکن ہے، اگرچہ یہ موضوع خاصا طویل ہے، اور ایک مفصل و ضخیم مضمون کا متقاضی ۔

جاری ہے ۔ ۔ ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *