جامعۃ الرشيد کی وفاق المدارس سے عليحدگی : ايك تجزيہ (قسط نمبر 2)

تحریر : شاکر اللہ قاسمی

ہم اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس سے قبل دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی ایک faculty of knowledge يعنى شعبہ علم کو باقی علوم پر ایسی برتری حاصل ہوئی ہو کہ دیگر علوم کو ایک ہی علم کے تابع رکھا گیا. دنیا اس وقت جس علمی بحران سے گزر رہی ہے اس میں سائنس کو ام العلوم کا درجہ حاصل ہوچکا ہے ۔ فلسفیانہ اور مذہبی علوم کو اس فہرست سے تقریباً خارج کر دیا گیا ۔

اس ضمن ميں اہم سوال يہ ہے کہ آيا کسی بھی زبان کی خاص اصطلاح کا ترجمہ کرنا ممکن ہے کہ نہیں ؟ یہ  علمِ ترجمہ کی انتہائی اہم بحث ہے. کسی بھی اصطلاح کا اپنی ثقافتی رنگ ڈھنگ اور  ما بعد از طبيعات کیساتھ دوسری زبان میں منتقل کرنا ماہرین علم ترجمہ کے ہاں نا ممکنات میں شمار کیا جاتا ہے. جامعۃ الرشید کے نئے بورڈ کو مجمع العلوم الاسلامیہ کے نام سے موسوم کیا گیا. اس کا انگریزی ترجمہ Board of Islamic Sciences کے الفاظ سے کیا گیا ۔ اس سے پہلے مضمون ميں ہم نے اس نو مولود بورڈ کی دوسرے اہم پہلوؤں پر گفتگو کی تھی۔ آج اس ايک  خاص انگريزی اصطلاح پر مختصر گفتگو کرنے کی جسارت کرنے جا رہا ہوں ۔

ظاہر ہے کہ جامعۃ الرشيد  پہلا ايسا ادارہ نہيں ہے، جس نے اس نام سے يہ شعبہ شروع کيا۔ پچھلے دو تين عشروں ميں کئی جديد ممالک نے اس نام سے شعبہ جات کا  آغاز کيا ۔ جس ميں ہندوستان ميں علی گڑھ يونيورسٹی کا سنٹر فار اسلامک سائنسز، اور  ديگر  عالمی جامعات نے اس اصطلاح کو استعمال کيا ہے ۔ سب سے پہلے يہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جب کسی اصطلاح کا ترجمہ ہوتا ہے يا کوئی نئی اصطلاح تخليق کی جاتی ہے  وہ اپنے خاص  علمی حقائق  ميں  ملفوف ہوتی ہے ۔ ہم اس بات کو  ايک عام سی اصطلاح سے سمجھنے کی کوشش کريں گے۔مثال  کے طور پر  جديد دنيا ميں ترقياتی درجہ بندی کی رو سے دنيا کے تمام ممالک کو تين درجات ميں تقسيم کيا گيا ہے ۔ ڈویلپمنٹ کنٹریز  Developed . Countries ترقی يافتہ ممالک جس ميں سر فہرست امريکہ چين اور روس اور ديگر يورپی ممالک ہيں ۔ دوسرے درجے کے ممالک  Developing . Countries ڈویلپنگ کنٹریز ان ممالک کو کہا جاتا ہے جو ابھی ترقی کی دور ميں ابھی شريک ہو رہے ہيں ۔ جس ميں ہندوستان بنگلہ ديش وغيرہ شامل ہيں ۔ تيسری تقسيم ان ممالک کی ہے جو اس دوڑ ميں بہت پيچھے ہيں اور ابھی ترقی کا آغاز نہيں ہوا ۔ انہيں Least . Developing يا  Under . development ممالک کہا جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں :وفاق المدارس العربیہ یا مجمع العلوم الاسلامی

يہ تينوں مصطلحات ترقی کی درجہ بندی کيلئے استعمال ہوتی ہيں ۔ ليکن اگر ہم کہيں کہ ترقی يافتہ ممالک ميں چين دنيا کا وہ واحد ملک ہے جو دنيا کی کل آلودگی ميں سے 28 فيصد آلودگی پيدا کرتا ہے اور امريکہ دوسرا ملک ہے جو پوری دنيا ميں دوسرے نمبر پر يعنی 15 فيصد آلودگی پيدا کرتا ہے يا اگر ہم کہيں کہ ترقی يافتہ ممالک ميں بيلجيم دنيا کا وہ ملک ہے جہاں پر خود کشی کا شرح 2019 كى رپورٹ کے مطابق سب سے زيادہ تھی ۔ تو  اس کيلئے ہم ايک نئی اصطلاح وضع کريں گے يعنی Over . Developed . Countries يعنی ضرورت سے زيادہ ترقی يافتہ ممالک  ، اس اصطلاح کے وجود سے  Development . Itself يعنى ترقى پر ہی پر سوال اٹھتا ہے کہ  آيا يہ کيسی ترقی ہے جن ممالک ميں  اس کی آمد زور وشور سے ہوئی  وہاں پر ڈپريشن کی دوائی کا کاروبار خوب چمکا ۔ انہيں ترقی يافتہ ممالک نے دنيا کو اتنا آلودہ کر ديا کہ انسان کو خالص پينے کا پانی ميسر نہيں ہوا۔ اسی پانی کو صاف کرکے انسانوں سے اسکی قيمت وصول کی گئی ؟ يعنی ايک نئی اصطلاح نے ترقی کا پورا موقف Discourse تبديل کر ديا۔

ايسے ہی جب ہم سائنس کی بات کرتے ہيں تو سائنسی علم پانچ مراحل سے گزر کر ہی سائنس کہلائے گا۔ اول : مشاہدہ Observation، دوم :مفروضہ Hypothesis  ،سوم :پيشن گوئی Prediction  ،چہارم: تجربہ Experiment  ،پنجم :خلاصہ Conclusion ۔ مذکورہ مراحل سائنس کو سمجھنے کا سب سے آسان طريقہ ہے ۔ انيسويں صدی کے سائنس دانوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سائنس کا سب سے اولين مرحلہ کوئی بھی سائنسی نظريہ ہوسکتا ہے اور اسکے بعد مشاہدہ اور تجربہ اور عموميت يعنی کہ generalization آخری مرحلہ شمار کيا جائے گا ۔ اس اختلاف کو ہم اس طرح سمجھ سکتے ہيں کہ نيوٹن کے سر پر جب سيب گرا تو اسنے اس مشاہدے کے ذريعے سے کشش ثقل کی تھيوری پيش کی ليکن سوچنے کی بات يہ کہ کيا نيوٹن دنيا کا واحد آدمی تھا جس کے سر پر سيب گرا تھا ؟ اس سے قبل لوگوں کے سروں پر کيا کچھ گرا ہو گا ليکن کسی نے کشش ثقل كا نظريہ کيوتخليق نہيں کيا؟ اس کی وجہ يہ تھی کہ نيوٹن کے پاس علم فيزياء کے ان نظريات کا علم موجود تھا جو اس پہلے اوروں کے پاس نہيں تھا۔ اس وجہ سے نيوٹن نے کشش ثقل کا نظريہ پيش کيا۔  يعنی ايک عام آدمی اور نيوٹن کے مشاہدے ميں زمين اور آسمان کا فرق ہو گا ۔ کيونکہ نيوٹن کا مشاہدہ سائنسی نظريات سے آراستہ تھا ۔جب ہم  دوسرے مرحلے کی يعنی تجربے کی بات کريں تو تجربہ حواس خمسہ five . senses سے حاصل ہوتا ہے ۔ حواس خمسہ کا تجربہ سائنس کا اولين ذريعہ علم ہے ۔

مذکورہ تناظر ميں اگر اسلامی علوم کا ترجمہ Islamic . Sciences سے کيا جائے تو ظاہر ہے کہ اسلامی علوم کا تعلق وحی متلو اور غير متلو يعنی منقولات سے ہے ۔ اسلام ميں طلبِ علم کی فرضيت کا تعلق بھی قرآن اور حديث کے علوم يعنی فرائض کا اور واجبات کا علم ہے ۔ ااسلامی علميت کا مذکورہ بالا پانچ  مراحل سے کوئی سروکار نہيں ہے ۔ اسلامی علوم کا ترجمہ  Islamic . Sciences سے کرنے کی واحد اکلوتی وجہ سائنس کی  تمام علوم پر اجارہ داری اور غلبہ ہی ہے ۔

مذید پڑھیں : جامعۃ الرشید کی وفاق المدارس سے علیحدگی : ایک تجزیہ ( پہلی قسط )

سائنسی علوم کی مذکورہ بالا مراحل کے باوجود، کوئی بھی سائنسی علم  مستقل نظريہ نہيں ہوسکتا۔ سائنسی  ترقی کا واحد راز يہی ہے کہ اسکا علم مستقل  طور پر عدم استقلال کا شکار ہے ۔  اسی وجہ سے سائنسی علوم ميں مستقل ترقی کا سلسلہ جاری رہتا  ہے ۔ ليکن مسلمانوں کا يہ عقيدہ ہے آپ کا زمانہ ہی سب سے بہترین زمانہ تھا اور آپ کی ذات ہی اس کائنات ميں سب  سے افضل ترين ذات ہے نہ اس سے  پہلے آپ ﷺ کے کوئی ہم پلہ تھا اور نہ  آپ ﷺ کے بعد کوئی ہم سر ۔ آپ کے صحابہ اس دنيا کے افضل ترين لوگ تھے وہ معاشرے کے ساتھ تبديل نہيں ہوئے بلکہ انہوں نے خود  ايک نيا معاشرہ قائم کیا اور زمانے کا رخ تبديل کيا۔ خود زمانے کيساتھ تبديل نہيں ہوئے ۔  اصل اسلام  اور علوم اسلامی وہی ہيں جو انکے زمانے سے ميل کھاتے ہيں۔ علوم اسلاميہ ميں کسی قسم کی  رد بدل اور تبديلی کی گنجائش نہيں ۔  اسلامی علوم کا ترجمہ اسلامک سائنس سے کرنے کی ايک اکلوتی وجہ حالات حاضرہ ميں سائنس کی اجارہ داری اور سائنسی علوم کی سرمايہ داری کيساتھ گھٹ جوڑ کے سوا کيا ہو سکتی ہے ؟

جب علوم کا ترجمہ سائنس کیساتھ کر رہے ہیں تو بہت سے ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں آيا  کہ اسلامی نکتہ نظر سے آپ سائنس کے ساتھ کونسا تعلق رکھنا چاہتے ہیں. پھر سوال يہ پيدا ہوتا کہ کيا موجودہ سائنس غير اقداری ہے ؟ يا سائنس کا تعلق جديد مارکيٹ سے ہے اور جديد مارکيٹ کے اپنے اقدار ہيں۔  يہ ايک طويل موضوع ہے جس پر باقاعدہ ايک کتاب تحرير کی جاسکتی ہے ۔ کہنے کا مقصد يہی ہے کہ ہر شئے ميں ربط تلاش کرنے کا  رويہ کسی طور  پر علمی نہيں ہو سکتا۔ پچھلے کچھ عشروں سے Sociology کو  سوشل سائنسز اس لئے کہا گيا ،  لبرلزم اور سيکولرزم کی ترويج کيساتھ سوشل آرڈر بھی غير مستقل رہا اور وقت کيساتھ ساتھ اس ميں بھی ترقی ہوئی اور تبدلياں بھی کی گئیں۔ يہی وجہ ہے کہ  ا جتماعی  علوم کا ترجمہ سوشل سائنز کيساتھ کيا گيا۔

 جيسے کہ  آسٹريلوی فلسفی کال پاپر Karl Popper   اور ديگر سائنس دانوں  کا سائنس کے بارے  ميں تجزيہ يہی ہے کہ  سائنس وہ  علم ہے جسے مشاہدے اور تجربے کی بنياد پر جھٹلايا جاسکے ۔ يہ ايک کھلی حقيقت ہے جس سے کسی طور پر بھی انکار نہيں کيا جاسکتا ۔ يہ سائنس کی جديد تعريف ہے which can be falsified۔ ليکن اگر کوئی کہے کہ قرآن سائنسی کتاب ہے تو نعوذ باللہ کہ قرآن وہ کتاب ہے جسے مشاہدے اور تجربے کی بنياد  پر جھٹلايا جاسکتا ہے  ؟ اس لئے راقم  کی عرضداشت يہی  ہے کہ ہميں اس دقيق فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔آپ سائنس کو سائنسی علم سمجھ  کر پڑھیں اور سیکھیں لیکن سائنسی ترقی سے اتنا متاثر ہونا کہ اسلامی علوم پر سائنسی علوم کا اطلاق کیا جائے یہ کوئی خدا لگتی بات نہیں ۔

مذید پڑھیں :نئے بورڈ کا نیا خط اور کرنے کا کام!!

عربی زبان ميں سائنسز کا ترجمہ علوم سے کرنے کی يہی  وجہ ہوسکتی ہے کہ اس خاص اصطلاح کو اس کے ما بعد از طبعيات کے ساتھ عربی ميں منتقل کرنے کی وہ صلاحيت نہيں ۔ جديد سائنسی علوم کا منبع يورپ ہے ۔ scientific discourse کو چونکہ غلبہ حاصل رہا ہے ۔ اسی لئے سائنس کا ترجمہ  علم کيساتھ کيا گيا اور جب کہيں اسلامی علوم کی بات ہوئی تو بعض جگوں پر اسکا ترجمہ Islamic Studies کے الفاظ سے کيا گيا جوکہ مناسب ترجمہ ہے ليکن بعض متجددين نے اسلامی علوم  کا ترجمہ  Islamic sciences کيساتھ کر گزرے ۔ جديد عربی ميں سائنس دانوں کيلئے علماء کا لفظ استعمال کيا جاتا ہے ۔ جو كہ قرآنی عربی سے بالکل مطابقت نہيں رکھتا ۔

سورتِ فاطر ميں ارشاد ہے کہ  إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ  ترجمہ: اللہ تعالیٰ سے علماء ہی ڈرتے ہیں۔  عربی ميں سائنسدانوں کو علماء کہنا  علم ترجمہ کی ايک صريح غلطی ہے ۔ کيونکہ سائنسدان کا مقصد سائنس کی بنياد  پر قانون فطرت  پر غلبہ حاصل کرنا اور کائنات کو سرمايہ دارنہ منفعت کيلئے مسخر کرنا اور تسخير کائنات کے اس عمل ميں دنيا کے بڑے مالياتی اداروں سے فنڈ وصول کرنا ہے ۔ اس تمام عمل  ميں خشيت الہی کا پہلو بالکل مفقود ہے  ۔ جيسے کہ ہم جانتے ہيں کہ پوری دنيا ميں 99 فيصد بڑے سائنس دان مذہب پر يقين نہيں رکھتے ۔ اس ضمن ميں پاکستانی نوبل يافتہ سائنسدان عبد السلام کو خاص طور پر مسلمان سائنسدان کے طور پر پيش کيا جاتا ہے ليکن اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہيں تھا اور وہ قاديانی تھا۔

نوٹ :گزشتہ مضمون کے ضمن ميں کچھ حضرات نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمايا کہ  نئے بورڈ کا اولين مقصد طلبہ کا معاشی بہتری ہے۔ جيسے کہ جامعہ کئی برسوں سے طلبہ کو عصری علوم سے آراستہ کر رہا ہے ۔ گويا انہوں نے سياسی منظر نامے سے انکار کيا ۔ اگر ہم  مان ليتے ہيں کہ جامعہ طلبہ کو عصری اور سائنسی علوم سے آراستہ کرنے کی کوشش ميں لگی ہوئی ہے ۔ پھر سوال يہ کہ پختونخواہ کے علاقے پنچ پير  مدرسے ميں  آج تك انگريزی کا قاعدہ بھی نہيں پڑھايا گيا؟۔مولانا طيب طاہری صاحب سپيکر قومی اسبملی کے سياسی حليف ہيں ۔ انکا تحريک انصاف سے اتحاد کسی ڈھکی چھپی بات نہيں ۔ ان کے مدرسے ميں عصری علوم کا کوئی سلسلہ موجود نہيں تھا ۔ نئے بورڈ کے قيام کے بعد انہيں کس طرح عصری علوم کا اچانک خيال آيا  ۔ اپنے مدرسے کو مجمع العلوم الاسلاميہ کے تحت رجسٹر کروانے کی کوشش ميں لگے ہوئے ہيں ؟ اس سے قبل پاکستان ميں کسی بھی مدرسہ بورڈ کی تشکيل خالص سياسی بنياد پر نہيں کی گئی ۔ يہ واحد مدرسہ بورڈ ہے جس کی بنياد ميں سياسی مقصديت شامل ہے ۔ جو کہ علماء وقت کيلئے لمحہ فکريہ ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *