پاکستان میں شیعہ سنی مسئلہ حل ہونے کے قریب پہنچ گیا

گلگت : پاکستان میں سینکڑوں افراد شیعہ و سنی کی مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جس کے بعد اب یہ دیرینہ مسئلہ حل ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے ۔ پاکستان میں گلگت کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پر شیعہ اور سنی زیادہ مذہب کے قریب نہ ہونے کے باوجود اپنے نظریات پر سخت کاربند ہوتے ہیں ۔

گلگت میں اہل تشیع اور اہل سنت کے دو سرکردہ رہنمائوں نے اس دیرنہ اور لاینحل مسئلہ کو حل ڈھونڈ لیا ہے اور اس حل سے پاکستان کی دیگر عوام میں دہری خوشی پائی جا رہی ہے ۔ پہلی خوشی اس مذہبی منافرت کے خاتمے کی اور اس مسئلہ کے حل کے لئے اپنائے جانے والا طریقہ کار بھی انفوٹینمنٹ کا ذریعہ بنا ہوا ہے ۔

گلگت میں دو مذہبی فرقوں نے حق کا فیصلہ کرنے کے لیئے انوکھی راہ اپنائی ہے ۔ جس سے مبصرین کا خیال ہے کہ گلگت میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ فسادات کا خدشہ بڑھنے لگا ہے ۔ 17 مئی کو مرکزی امامیہ کونسل گلگت کے لیٹر پیڈ سے جاری ہونے والے ایک خط کے مطابق آغا سید راحت حسین الحسینی نے مولانا قاضی نثار احمد کی ’مباہلہ‘ کی دعوت بصد شکر قبول کی ہے اور کہا ہے کہ مولانا قاضی نثار احمد 21 مئی 2021 کو دوپہر 3 بجے شاہی پولو گراؤنڈ میں تشریف لائیں ۔

مذید پڑھیں :مرکزی رہنما جے یو آئی مفتی کفایت اللہ انسداد دہشت گردی عدالت ایبٹ آباد میں پیش

ضلعی انتظامیہ لکڑیاں جمع کرے گی ۔ جس میں صوبائی حکومت ، فورس کمانڈر ، چیف سیکرٹری، جج صاحبان کی نگرانی میں حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے آغا سید راحت حسین الحسینی اور مولانا قاضی نثار احمد آگ میں کود پڑیں گے ، جو بچ جائے گا وہ حق پر جو جل جائے اسے باطل تصور کیا جائے گا ۔ اس لیٹر کی کاپی وزیر اعلی گلگت ، سیکرٹری داخلہ ، ڈپٹی کمشنر ضلع گلگت اور ایس ایس پی کو مارک کی گئی ہے ۔

دوسری جانب 17 مئی کو ہی تنظیم اہلسنت والجماعت گلگت بلتستان و کوہستان کے جنرل سیکرٹری کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اہلسنت والجماعت گلگت بلتستان و کوہستان کے علماء ومشائخ کا اجلاس مولانا قاضی نثار احمد کی سربراہی میں ہوا ، جس میں حکومتی رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایبٹ آباد سے شندور تک مارچ کیا جائے گا ۔ مارچ کی تاریخ کا جلد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

اجلاس کے اعلامئیہ کے مطابق خطبہ عید کے روز آغا سید راحت حسین الحسینی نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی ہے اور ایک گروہ مسلسل توہین صحابہ ؓ کے امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے ۔ جس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ مذکورہ اعلامیہ کے مطابق آغا راحت حسین الحسینی کا مناظرے و مباہلے کا چیلنج موصول ہوا ہے جسے امیر اہلسنت والجماعت مولانا قاضی نثار احمد احمد نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ عسکری، سول، عدالتی ججز کی نگرانی میں یہ مناظرہ منعقد کیا جائے ۔

مذید پڑھیں :جامعۃ الرشيد کی وفاق المدارس سے عليحدگی : ايك تجزيہ (قسط نمبر 2)

اس کے ساتھ ہی اہلسنت و الجماعت نے ڈپٹی کمشنر کو بھی اس مباہلے کی تیاری کے حوالے سے لیٹر لکھا ہے ، اس کے بعد 18 مئ کو اہلسنت و الجماعت کے سیکرٹری نشرو اشاعت حافظ نوید احمد اشرفی نے مرکزی امامیہ کونسل گلگت کے لیٹر کے موصول ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ نے مباہلہ کا چیلنج دیا ہم نے قبول کیا ہے ، پھر آپ نے جگہ کا تعین کر کے ہماری مشکل مذید آسان کر دی ہے ۔آپ کے نزدیک حق آپ ہیں جب اہل اسلام کے نزدیک آپ باطل اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ، ہم آپ کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں آپ اسلام قبول فرمائیں بصورت دیگر ہم ٹھیک 3 بجے مقررہ جگہ پر پہنچ جائیں گے ۔ حق و باطل واضح نہ ہونے کی صورت میں آیت مباہلہ کی روشی میں مباہلہ ہو گا ۔

ادھر مذہبی اسکالر سبوح سید نے لکھا ہے کہ ’’ دُعا فرمائیں ۔ میری صرف ایک گزارش ہے کہ ان دونوں بزرگ شخصیات کے ساتھ ساتھ ان کے تمام ماننے والوں کو بھی شامل کیا جائے ۔ اور لکڑیاں ضائع کرنے کے بجائے پیٹرول سے کام لیا جائے ۔ اللہ بڑا غفور الرحیم ہے ۔ جسے چاہے گا بچا لے گا ۔

نوٹ : میں پورے ایمان اور یقین سے کہتا ہوں کہ یہ مولوی اور ان کے ماننے والے موقع سے بھاگ جائیں گے اور کہیں گے کہ حکومت اور انتظامیہ نے روک دیا ۔ انہیں چاہیے کہ اپنی مسجدوں اور امام بارگاہوں میں خود پر پیٹرول چھڑک کر اپنے اپنے ایمان کا امتحان لیں اور یہ قیمتی موقع ضائع نہ کریں ۔ ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ انہیں اسلام آباد سے جہاز پر گلگت روانہ کیا جائے اور کے ٹو پہاڑ پر پھینک دیا جائے ، یا جہاز سے دریائے سندھ میں پھینک دیا جائے ۔ جھیل سیف الملوک میں بھی پھینکا جا سکتا ہے ۔ ویسے اس بار چیلنج اور مباہلے کا اعلان مولانا راحت الحسینی کی طرف سے کیا گیا ہے ۔

دوسری جانب گلگت سے ہی تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عبدالجبار ناصر نے لکھا ہے کہ ’’

1۔ سب سے پہلے پھینٹی حکومت کو لگنی چاہئے، حکومت کے بے شرمانہ اور بزدلانہ کردار کی وجہ سے صورتحال اس حدتک پہنچ گئی۔

2۔ اگر پہلے دن ہی ڈنڈا دیا جاتا اور حکومت بے شرمی اور نا اہلی کا کھلے عام عملی مظاہرہ نہ کرتی تو تو نوبت یہاں تک نہ پہنچ پاتی۔

3۔ جس کو شمشان گھاٹ میں جلنے کا شوق، اب پورا کرنے دیں، کیونکہ اس بار سوشل میڈیا میں تینوں مکاتب کے بیشتر لوگوں نے مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے “شمشان گھاٹ” مناظروں اور مباہلوں کی ایسی تیسی کردی ہے۔ یہ مثبت پہلو ہے۔

4۔ شاید مبینہ حکومت کی یہ خواہش ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں اور ماضی کی طرح نو گو ایریاز قائم ہوجائیں اور پھر حکمران خطے کے اہم اور بنیادی ایشوز پر شب خون ماریں یا اپنے ماضی کے وعدوں سے منحرف ہوجائے، مگر عوام کی اکثریت نے اس سازش کو بھی ناکام بنا دیا۔

مذید پڑھیں : میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیں، زلفی بخاری کی پیشکش

5۔ تنازع 13 مئی 2021ء کو شروع ہوا اور پھر جواب الجواب کا سلسلہ کھلے عام جاری رہا اور ہمارے استوری #کزن (لفظ کزن کی بھی الگ داستان ہے) اور انکی ٹیم عید کی موج مستیوں میں مصروف رہی۔

6۔ حکومت جو کوشش، بلکہ ڈنڈا 18 مئی کو دے سکتی تھی وہ ڈنڈا 13 مئی سے کہاں رکھا ہوا تھا؟

7۔ کیا اس بات کا انتظار تھاکہ فرقہ واریت اور تعصب کی آگ بلندی کو چھو لے اور پھر مبینہ حکومت مداخلت کرےگی۔

8۔ کوئی اکابرین اور صاحبان دستار و جبہ سے ادب کے ساتھ پوچھ لے کہ صاحبو! اچانک یہ کیا ہوا اور کیوں ہوا؟

9۔ معاملہ (مسئلہ) پر مصافہ (ہاتھ ملا)، معانقہ (بغل گیر)، مکالمہ (علمی گفتگو)، مباحثہ (جذباتی بحث) اور مقاطعہ (بائیکاٹ) کی بجائے برائے راست مناظرہ (خود سچا اور دوسرے کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش) اور مباہلہ (لعنت ملامت)سے ہوتے ہوئے شمشان گھاٹ  (مردے جلانے کی جگہ) تک کیوں پہنچے؟ کیونکہ اس کے بعد پھر مناقشہ (لڑائی )، مقابلہ (ڈٹ کر لڑنا) ، مجادلہ (مار نا کوٹنا) اور مقاتلہ (ختم کرنے) کا راستہ ہی بچاتا ہے ۔

10۔ لگتا ہے کہ حکومت کی اصل پریشانی یہ ہے کہ خلاف توقع نتیجہ عوام کی جانب سے الٹ کیوں آیا ۔

11۔ میرے استوری کزن خدا کا واسطہ ہمیں کچھ نہ دو بس امن کو امن پر امن رہنے دو یہی آپ کا احسان ہے ۔

Comments: 2

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

  1. عبد الجبار ناصر بالکل درست لکھ رہے ہیں کہ یہ مسئلہ حکومت کو بہتر انداز میں حل کرلینا چاہیے تھا۔ وہاں حکومت سے زیادہ حکومت بھائی لوگوں کی ہے، انہیں چاہیے کہ گلگت کے امن کو تباہ ہونے سے بچائیں۔
    مباہلہ ہوبھی گیا تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بالکل ایک دوسرے کو قتل کرنے کا ایک بڑا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔
    جس ادارے کے مبصر سبوخ جیسے بدمعاش ہوں، اس کا اللہ ہی حافظ۔ اسے یہ سب بکواس کرتے ہوئے شرم نہیں آئی کہ کہ وہ خود کس کی پیدا وار ہے؟ اسی فرقہ واریت کے سہارا پلا بڑھا اور چند سال پہلے تک اسی سے کھاتا پیتا رہا، اب بھی اسی کو بیچتا ہے اور ساتھ ساتھ خوب بکتا ہے۔ بے حیا انسان

  2. میرے خیال میں سبوخ سید کا ایک موقف ہے اور اس کو پڑھ لینا بہتر ہے اور اس کو جواب اگر دینا ہے تو مناسب انداز میں بھی دیا جا سکتا ہے ۔