مجمع العلوم الاسلامیہ کا وفاق المدارس پاکستان کے اکابر کے نام خط

مجمعہ العلوم الاسلامیہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
بخدمت جناب صدر، ناظم اعلیٰ و اراکین عاملہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان دامت برکاتہم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
” مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان” کے قیام کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر اس کی حمایت و مخالفت میں بہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے ۔ اس کا تفصیلی تجزیہ اس وقت مقصود نہیں ، بلکہ چند گزارشات پیش کرنا مقصود ہے۔ امید ہے ان پر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کیا جائے گا۔

1. بعض علماء اور وفاق کے ترجمانوں کی طرف سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ نیا بورڈ اسٹیبلشمنت یا حکومت کی ایما ء پر بنایا گیا۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جامعۃ الرشید اور جامعہ بنوریہ میں ہمارے روایتی مدارس سے ہٹ کر اپنے فضلاء کی صلاحیت ِ کار کو بہتر بنانے کے لیے نظام تعلیم و نصاب تعلیم میں جو اضافات کیے گئے ہیں وہ امت مسلمہ کو صالح اور باصلاحیت قیادت فراہم کرنے ، دین کی سربلندی اور ان طبقات تک دین پہنچانے کے لیے کئے گئے ہیں جن تک محض درس نظامی کے فضلاء کی رسائی عموماً نہیں ہوتی، ہوبھی جائے تو موثر طور پر پیغام منتقل کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ یہ اضافات اپنے طور پر باربار کے مشوروں سے ہوتے رہے، اس میں کسی بیرونی قوت کا بال برابر بھی قطعاً کوئی دخل نہیں ۔

نیز ان اضافات پر وفاق المدارس کے ذمہ داران اور اکابر علماء و مشایخ کی طرف سے کبھی کوئی باقاعدہ اشکال نہیں کیا گیا، بلکہ بے شمار علماء کرام نے ہمیشہ تحسین فرمائی ، جن میں ہر سطح کے علماء و مشایخ شامل ہیں اور ان کے نجی محفلوں اور اجتماعات میں بیان کیے گئے کلمات ِ تحسین ہمارے ریکارڈ میں محفوظ ہیں ۔

اپنے نظام تعلیم کو صحیح طریقہ پر چلانے کے لیے ہمیں کیا مشکلات درپیش رہیں ؟ ان کی کچھ تفصیل صدر وفاق و ناظم اعلیٰ وفاق کے نام لکھے گئے خط میں ذکر کی جا چکی ہے۔

جامعہ بنوریہ میں بیرون کے طلبہ کے لیے وفاق المدارس کی طرف سے کوئی ڈگری جاری نہ ہونے سے مشکلات اور مسائل کا سامنا رہا، انہیں اپنے ممالک میں دینی ادارے قائم کرنے اور دینی خدمات سرانجام دینے میں کسی مستند اتھارٹی سے سند کا نہ ملنا بڑی رکاوٹ بنا رہا۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقتِ مسلمہ ہے کہ کوئی ایک ادارہ کسی بھی نظام تعلیم کے فروغ کے لیے ہرگز کافی نہیں ہوتا اس لیے اس نظام تعلیم کے فروغ کے لیے ، نیز خود جامعۃ الرشید میں موجود نظام تعلیم کو بعض ممکنہ خطرات، جن کی تفصیل چند بڑے حضرات کی خدمت میں بالمشافہہ بیان کی جا سکتی ہے، سے بچانے کے لیے بورڈ بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی، اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے قیام کا داعیہ خود ہمارے اندر پیدا ہوا۔ یہ کسی بھی دوسری طاقت کے اشارے یا ہدایات کی بناء پر ہرگز ہرگز قائم نہیں کیا گیا۔

2. یہ نظام تعلیم اکابر کے نظریات و افکار سے ہٹا ہوا کوئی نظام تعلیم نہیں ہے ۔ اس پر کسی سنجیدہ مجلس میں گفتگو ہو سکتی ہے۔
3. یہ تاثر بھی عام ہے کہ اس سے وفاق المدارس کو نقصان پہنچے گا۔ہمارا اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر دعویٰ ہے کہ وفاق کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، بلکہ ان شاء اللہ تعالیٰ فائدہ پہنچےگا، جس کی کچھ وضاحت یہ ہے:

جب درس نظامی پورے کا پورا ہمارے نصاب کا حصہ ہے جیسے پہلے تھا اور ہمارے بورڈ کی شوریٰ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ہم وفاق المدارس سے اپنا الحاق ختم نہیں کر رہے، بلکہ طلبہ کے لیے امتحان کی ترتیب اس طرح بنانے کا عزم رکھتے ہیں کہ طلبہ بسہولت وفاق کا امتحان بھی دے سکیں، خواہ اس کے لیے ہمیں کتنی ہی دقت برداشت کرنا پڑے یا عصری علوم کے امتحانات کی قربانی دینا پڑے، اور ہمارے نظام تعلیم کو لینے والے ہمارے فضلاء کے مدارس بھی اسی طرح کریں گے تو اس میں وفاق کا کیا اور کس طرح نقصان ہے؟

ہمارے خیال میں ہمارے فضلاء اضافی صلاحیتوں کی بناء پر معاشرے کے بہت سے طبقات میں دین کا پیغام موثر طریقے سے پہنچا کر اور ان طبقات میں دین کی سربلندی کے لیے خدمات انجام دے کر وفاق المدارس کا نام روشن کرنے کا ذریعہ بنیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس وقت بھی گذشتہ دس سالوں کے فضلاء جامعۃا لرشید اور فضلاء جامعہ بنوریہ کی خدمات کا کسی کمیٹی کے ذریعہ غیر جانبدارانہ اور منصفانہ سروے کروا لیا جائے تو ان شاءاللہ تعالیٰ اکابر کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ وہ سب وفاق المدارس اور جامعۃا لرشیدو جامعہ بنوریہ کی نیک نامی کا باعث ہیں، الحمدللہ۔

ہاں اگر وفاق المدارس جامعۃ الرشید اور جامعہ بنوریہ کا الحاق ختم کرکے الگ کرلے تو پھر ظاہر ہے کہ ایک مخاصمت کا ماحول پیدا ہوگا اور دونوں طرف کے جذباتی اور کم فہم لوگ اختلافات کو ہوا دیں گے اور دین کی اعلیٰ خدمات کی بجائے اپنی صفائیاں دینے اور فریق مخالف کی برائیاں کرنے میں لگے رہیں گے جس سے علماء اور مدارس بدنام بھی ہوں گے ، ان کی وحدت بھی پارہ پارہ ہوگی اور اس سے پورے دینی طبقے ، بلکہ پورے ملک اور امت کو نقصان پہنچے گا، اعاذنا اللہ تعالیٰ منہ۔

حاصل یہ کہ ہم بہر حال وفاق المدارس سے منسلک رہنا چاہتے ہیں ، وفاق کو توڑنا نہیں چاہتے ، وفاق المدارس سے کسی قسم کی مخاصمت یا مقابلہ بازی کا ہمارا مزاج ہی نہیں۔ ہم وفاق المدارس کے اہداف و مقاصد کو زیادہ بہتر طریقے سے پورا کرنے کے لئے رجال کار کی تیاری میں مصروف ہیں، یہ وفاق ہی کا کام ہے۔

اللہ تعالیٰ سب کو شرور و فتن سے بچائیں اور جس میں خیر ہے مقدر فرمائیں۔
والسلام علیکم
مرکزی شوریٰ مجمع العلوم الاسلامیہ
۶ شوال ۱۴۴۲ھ
18 مئی 2021ء
مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *