چیئرمین آباد فیاض الیاس کو سریا کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش

فیاض الیاس

کراچی: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین فیاض الیاس نے سریا کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعمیراتی صنعت اور نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے لیے نقصاندہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیل بار کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل ریگولیٹری ڈیوٹی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ سریے کی قیمتیں کم کی جا سکیں۔

چیئرمین آباد نے کہا کہ کئی دہائیوں سے حکومتی عدم توجہی کے باعث تعمیراتی صنعت زوال پزیر تھی جس کے ملکی معشیت پر سنگین اثرات مرتب ہورہے تھے۔موجودہ حکومت آ نے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ملکی معشیت کو ترقی دینے کے لیے تعمیراتی صنعت کو مراعاتی پیکج دیا گیا جس سے ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہی ہوئی تھیں کہ سریا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ایک روز قبل بھی اچانک سریا کی قیمتوں فی ٹن 5 ہزار روپے کا اضافہ کرکے سریا کی فی ٹن قیمت ایک لاکھ 42 ہزار روپے کردی ہے۔ سریا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے کنسٹرکشن انڈسٹری کو نقصان پہنچے گا۔

چیئرمین آباد کا مطالبہ ہے کہ درآمد پر عائد تمام ڈیوٹیز کا خاتمہ کیا جائے تاکہ سریا کی قیمتوں میں استحکام آسکے۔فیاض الیاس نے کہا کہ سریا تعمیراتی صنعت کا اہم جز ہے اس کی قیمتوں میں اضافے سے تعمیراتی سرگرمیاں ماند پڑ جانے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل کی قیمتوں میں من مانے اضافے سے فی یونٹ تعمیرات کی لاگت میں اضافہ ہوگا جس سے وزریراعظم عمران خان کے متوسط طبقے کو 50 لاکھ سستے گھروں کی فراہمی کا منصوبہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکے گا۔پاکستان میں پہلے ہی ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی ہے جس میں ہرسال اضافہ ہورہا ہے۔

فیاض الیاس نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں تعمیراتی صنعت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔پاکستان میں زراعت کے بعد تعمیراتی صنعت روزگار فراہم کرنے والا سب سے بڑا شعبہ ہے۔معاشی ترقی اور ملکی خوشحالی کے لیے تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہنا انتہائی ناگزیر ہے۔فیاض الیاس نے تعمیراتی سرگرمیوں کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیل کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل ریگولیٹری ڈیوٹی کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

چیئرمین آباد نے کہا کہ اب وقت ہے کہ مسابقتی کمیشن کردار ادا کرے اور تعمیراتی صنعت کو بچانے کے لیے فوری لا حہ عمل پیش کیا جائے بصورت دیگر 50 لاکھ سستے گھروں کی فراہمی کے خواب کی تکمیل مشکل ہوگی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *